میچ کے دوران شہد کی مکھیوں نے دھاوا بول دیا‘ امپائر ہلاک
اشاعت کی تاریخ: 21st, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اترپردیش(مانیٹرنگ ڈیسک ) بھارتی ریاست اترپردیش میں میچ کے دوران اسٹیڈیم میں شہد کی مکھیوں نے حملہ کردیا جس سے سینئر امپائر مانک گپتا جان سے چلے گئے۔این ڈی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق مانک گپتا کانپور کرکٹ سرکٹ میں ایک ممتاز امپائر تھے اور کانپور کرکٹ ایسوسی ایشن سے بھی وابستہ تھے۔بھارتی میڈیا کا کہناہے کہ اترپردیش کے اناؤ کے سپرو اسٹیڈیم میں کرکٹ میچ کے دوران شہد کی مکھیوں نے حملہ کیا، جس سے کھلاڑی اور امپائرز متاثر ہوئے تاہم سینئر امپائر مانک گپتا شہد کی مکھیوں کے حملے سے ہلاک ہوگئے۔آنجہانی امپائر مانک کے بھائی امیت کمار گپتا نے اے این آئی کو بتایا کہ میچ ختم کرنے کے بعد مانک ڈرنکس بریک کے دوران ایک ساتھی امپائر سے ملنے گئے جب شہد کی مکھیوں کے ایک جھنڈ نے وہاں موجود ہر شخص پر اچانک حملہ کردیا۔انہوں نے مزید بتایا کہ ان کے بھائی فرار ہونے کی کوشش کرتے ہوئے اپنا توازن کھو بیٹھے اور گرگئے، جس کے بعد شہد کی مکھیوں نے ان پر دھاوا بول دیا۔قابل ذکر بات یہ ہے کہ مانک تقریباً 30 سال سے امپائرنگ کر رہے تھے اور ریاستی پینل کے امپائر تھے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: شہد کی مکھیوں نے کے دوران
پڑھیں:
چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا
اسلام آباد: چیزیئس ٹیکس ریکوری کا معاملہ اس وقت توجہ کا مرکز بن گیا ہے جب ریجنل ٹیکس آفس (آر ٹی او) ساہیوال نے ایک کارروائی کے دوران معروف فوڈ چین سے 40 لاکھ روپے قومی خزانے میں جمع کروائے۔
محکمہ ریونیو کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق کارروائی انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 175 سی کے تحت کی گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ نگرانی کے دوران کمپنی کی جانب سے ظاہر کردہ فروخت اور زمینی حقائق میں نمایاں فرق سامنے آیا تھا جس کے بعد تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق آر ٹی او ساہیوال کی خصوصی ٹیم نے کاروباری مقام پر فروخت کی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔ اس دوران حاصل ہونے والے اعداد و شمار سے معلوم ہوا کہ ریکارڈ میں درج فروخت اور حقیقی کاروباری حجم میں فرق موجود ہے۔
ابتدائی جانچ مکمل ہونے کے بعد متعلقہ ادارے نے قانونی کارروائی شروع کی اور کمپنی کو واجب الادا رقم جمع کرانے کی ہدایت کی گئی۔ بعد ازاں 40 لاکھ روپے کی رقم قومی خزانے میں جمع کرا دی گئی۔
ماہرین کے مطابق اس نوعیت کی کارروائیاں ٹیکس نظام میں شفافیت بڑھانے اور کاروباری اداروں کو درست مالی ریکارڈ برقرار رکھنے کی ترغیب دیتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹیکس قوانین پر عمل درآمد سے نہ صرف سرکاری آمدنی میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ معیشت کی دستاویزی شکل کو بھی فروغ ملتا ہے۔
حکام نے واضح کیا ہے کہ چیزیئس ٹیکس ریکوری سمیت تمام ایسے معاملات میں قانون کے مطابق کارروائی جاری رکھی جائے گی تاکہ ٹیکس نظام کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔