data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

260221-01-18
کراچی (اسٹاف رپورٹر)سندھ اسمبلی پر 14فروری کو اہل کراچی کے حق ، مسائل کے حل اور با اختیار شہری حکومت کے لیے جماعت اسلامی کے پر امن احتجاج پر پولیس تشدد، لاٹھی چارج اور شیلنگ کے دوران گرفتار 30کارکنوں کو جمعہ کے روز سینٹرل جیل سے انسداد دہشت گردی کی عدالت کے حکم پر رہائی ملنے کے بعد ادارہ نور حق میں ان کا شاندار استقبال کیا گیا ،ہار پہنائے گئے اور پھولوں کی پتیاں نچھاور کی گئیں ،روز ے کے باوجودکارکنوں کی بڑی تعداد جیل چورنگی پر جمع ہو ئی ، رہائی پانے والے کارکنوں کو جیل چورنگی سے ادارہ نور حق تک جلوس کی شکل میں لایا گیا ، کارکنوں میں زبردست جوش و خروش دیکھنے میں آیا ، نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان ڈاکٹر اسامہ رضی ، امیر کراچی منعم ظفر خان و دیگر رہنمائوں نے ان کا استقبال کیا ، کارکنوں نے تیز ہو تیز ہو جدو جہد تیز ہو ،نعرہ تکبیر اللہ اکبر ، حق دو کراچی کو، جینے دوکراچی کو ، لاٹھی گولی کی سرکار نہیں چلے گی ، نہیں ، چلے گی ، غنڈہ گردی کی سرکار نہیں چلے گی ، نہیں چلے گی سمیت دیگر نعرے لگائے۔ ڈاکٹر اسامہ رضی نے کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پیپلز پارٹی اسٹیبلشمنٹ کی اے پلس ٹیم ہے اس نے کراچی کو یر غمال بنایا ہوا ہے۔ہم واضح کرنا چاہتے ہیں کہ ریڈ لائن صرف آئین پاکستان ہے۔ہم کسی جعلی ریڈ لائن کو تسلیم نہیں کرتے۔ہم آئین اور قانون کی بالادستی کے سوا کسی پابندی کو قبول نہیں کریں گے۔ ہم آئندہ بھی سندھ اسمبلی پر یا وزیر اعلیٰ ہائوس کے باہر بھی آئین و قانون کے تحت احتجاج کا حق رکھتے ہیں۔شرجیل میمن سیاست میں نووارد ہیں، انہیں چاہیے کہ اپنے بڑوں سے پوچھیں کہ محترمہ بینظیر بھٹو کی ریلیاں کن شاہراہوں پر نکلا کرتی تھیں۔آج جن شاہراہوں کو ریڈ لائن قرار دیا جا رہا ہے، انہی شاہراہوں پر پیپلز پارٹی کے جلسے ہوتے رہے ہیں۔میں جماعت اسلامی کے تمام کارکنان کو سلام پیش کرتا ہوں۔آپ لوہے کے چنے ہیں، کوئی طاقت آپ کو دبا نہیں سکتی۔ پیپلز پارٹی نے پر امن جمہوری مظاہرے پر تشدد کیا اور کارکنان کو گرفتار کرکے دہشت گردی کی ایف آئی آر درج کر کے اپنا اصل چہرہ پھر بے نقاب کر دیا ہے ،سیاسی کارکنوں پر دہشت گردی کے مقدمات قائم کرنے کی روایت پیپلز پارٹی نے ڈالی ہے ،یہ حکومت فارم 47 کی پیداوار ہے اور کراچی کی میئرشپ بھی اسی فارم 47 کی جعلی میئرشپ ہے۔یہ اتنے بڑے آقا بن گئے ہیں کہ عوام کو احتجاج کا حق بھی نہیں دینا چاہتے۔یہ دراصل ایک چھپا ہوا مارشل لا ہے، جس میں دونوں خاندان شریک ہیں۔انہوں نے خاص طور پر کراچی کو نشانہ بنایا، کیونکہ کراچی ہمیشہ اپوزیشن اور مزاحمت کی آواز رہا ہے۔کراچی نظریاتی سیاست کا شہر ہے۔انہوں نے کراچی کو تقسیم کرکے اس کی سیاست کو ختم کرنے کی کوشش کی، مگر سلام ہے کراچی والوں کو کہ آج بھی نظریاتی سیاست زندہ ہے۔ اس وقت پورے ملک میں ایک سیٹ اپ چل رہا ہے آصف زرداری،نواز شریف اور اسٹیبلشمنٹ پر مشتمل گٹھ جوڑ ہے۔ یہ ٹولہ ملک پر حکمرانی کررہا ہے جو عوام پر حکمرانی کررہا ہے۔پیپلز پارٹی اب پیپلز پارٹی نہیں رہی اب یہ صرف زرداریوں اور آل شریف کا ٹولہ ہے۔ زرداری کو سندھ اور آل شریف کو پنجاب کمیشن کے طور پر دیا گیا ہے۔ منعم ظفر خان نے اس موقع پر کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ حق دو کراچی تحریک اب جینے دو کراچی تحریک میں تبدیل ہوگئی ہے۔ اہل کراچی کے حق کے لیے احتجاج اور جدو جہد جاری رکھیں گے ، رمضان المبارک میں کراچی کے 13 مقامات پر بڑے احتجاجی جلسے منعقد کیے جائیں گے۔جب طے کریں گے تو سندھ اسمبلی پر اور وزیر اعلیٰ ہاؤس پر بھی احتجاجی دھرنا دیں گے ، پیپلز پارٹی کی صوبائی حکومت نے اہل کراچی کا حق مانگنے کے جرم میں کارکنان کو پابند سلاسل تو کردیا لیکن ان کے عزم و ہمت اور حوصلے کو شکست نہیں دی جا سکتی ، کارکنان نے سندھ اسمبلی کے باہر اور پھر جیل میں بھی صبر اور استقامت کا مظاہرہ کیا ہے۔ پیپلز پارٹی نے پر امن اور نہتے کارکنوں پر انسداد دہشت گردی کا کیس بنا کر ثابت کردیا کہ پیپلز پارٹی کراچی دشمن جماعت ہے اور پر امن احتجاج کو برداشت کرنے پر تیار نہیں ، کراچی کے حق کی بات کرنے والوں پر لاٹھی چارج ، زہریلی آنسو گیس ، گرفتاریاں اور دہشت گردی کے مقدمات پیپلز پارٹی کی فسطائیت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ کراچی کے عوام جینے کا حق، پانی،بجلی کے حصول اور ٹوٹی ہوئی سڑکوں کے خلاف نکلے تھے۔ سندھ حکومت کراچی کے عوام کو بنیادی سہولیات دینے کے لیے تیار نہیں ہے۔ ایک جانب اسٹریٹ کرائمز میں ملوث مجرم آزاد گھوم رہے ہیں اور دوسری جانب بچے گٹر میں گر کر مررہے ہیں۔ رہائی پانے والے کارکنوں کی ادارہ نور حق آمد کے موقع پر اپوزیشن لیڈر کے ایم سی ونائب امیر کراچی سیف الدین ایڈووکیٹ ، سیکرٹری کراچی توفیق الدین، رکن سندھ اسمبلی محمد فاروق اسیرکارکنوں کے مقدموں کی پیروی کرنے والے وکیل طاہر ملک اور اسلامک لائر ز موومنٹ کے وکلا سمیت دیگر ذمے داران بھی موجود تھے ۔

جماعت اسلامی کے کارکنوں کی رہائی کے بعد ادارہ نورحق آمد کے موقع پر مرکزی نائب امیر ڈاکٹر اسامہ رضی ، امیر کراچی منعم ظفر خان کارکنوں کے ساتھ میڈیا سے گفتگو کررہے ہیں

اسٹاف رپورٹر سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: جماعت اسلامی کے سندھ اسمبلی پیپلز پارٹی کارکنوں کی کراچی کو کراچی کے چلے گی

پڑھیں:

حکمران ہم سے خوفزدہ، ہمارا فوکس بانی پی ٹی آئی کی رہائی ہے، علیمہ خان

بانی پی ٹی آئی کی ہمشیرہ علیمہ خان(Aleema khan)  نے کہا کہ حکمراں اتنے خوفزدہ ہیں کہ بشریٰ بی بی کی فیملی کو بتایا ہوا ہے باہر جا کر بات نہیں کرنا۔

راولپنڈی میں گورکھپور فیکٹری ناکے پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے علیمہ خان نے کہا کہ ہمیں پتہ ہے یہ ڈرے ہوئے اور خوفزدہ ہیں، ہمارا فوکس بانی پی ٹی آئی کی رہائی ہے۔

انھوں نے کہا کہ آج اڈیالہ جیل کے اطراف کرفیو لگایا گیا ہے، بازار بھی بند کیا گیا ہے، ہمارا آئینی حق ہے کہ ہم اپنے بھائی سے ملیں، بانی پی ٹی آئی کو قید تنہائی میں رکھ کر ٹارچر کیا جا رہا ہے۔

مزید پڑھیں:نیپرا، بجلی 1 روپیہ 73 پیسے مہنگی کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ

علیمہ خان نے کہا کہ میرے خلاف بھی کیس چل رہا ہے مجھے بھی جیل میں ڈال دیں۔

 

متعلقہ مضامین

  • گلگت میں ن لیگ کے ترقیاتی کاموں کا کوئی جماعت مقابلہ نہیں کرسکتی، احسن اقبال
  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
  • شازیہ مری کا گلگت بلتستان الیکشن میں وفاقی حکومت پر سرکاری وسائل کے استعمال کا الزام
  • سندھ بلڈنگ، کراچی میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا طوفان
  • سندھ میں 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کو ممکن بنائیں گے:بلاول بھٹو کا گلگت جلسے سے خطاب
  • جو ایم پی اے بانی کی رہائی کے لئے جدوجہد کرے گا وہ پاکستان کا سب سے بڑا ہیرو ہو گا ؛علیمہ خانم
  • حکمران ہم سے خوفزدہ، ہمارا فوکس بانی پی ٹی آئی کی رہائی ہے، علیمہ خان
  • بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
  • دعا ہے فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں، بلاول بھٹو زرداری