data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) عدالت عظمیٰ نے ہرجانہ کیس میں بانی پی ٹی آئی کی درخواست پر ٹرائل کورٹ کو کارروائی سے روک دیا۔ جسٹس عائشہ ملک کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے حکم امتناع جاری کیا، عدالت عظمیٰ نے شہباز شریف کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کرلیا، عدالت نے کہا کہ کیس کو جلد سماعت کے لیے مقرر کیا جائے گا۔ واضح رہے کہ 2017 میں شہباز شریف نے بانی پی ٹی آئی کے خلاف 10 ارب روپے کا ہتک عزت کا دعویٰ دائر کیا تھا، ٹرائل کورٹ نے بانی پی ٹی آئی کے دفاع کا حق ختم کردیا تھا، ٹرائل کورٹ میں کیس شہادتوں پر پہنچا ہوا ہے۔ بانی پی ٹی آئی نے دعویٰ کیا تھا کہ پاناما کیس پر خاموشی کے لیے انہیں شہباز شریف کی جانب سے 10 ارب روپے کی پیشکش کی گئی جس پر وزیراعظم شہباز شریف نے الزامات کو جھوٹا قرار دیتے ہوئے ہتک عزت کا دعویٰ کیا تھا۔ لاہور کی سیشن کورٹ میں کیس کا ٹرائل جاری ہے، ٹرائل کورٹ نے بانی پی ٹی آئی کی جانب سے جواب جمع کرانے میں تاخیر پر ان کا حقِ دفاع ختم کر دیا تھا، لاہور ہائی کورٹ نے بھی ٹرائل کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا تھا، لاہور ہائیکورٹ کے مطابق بانی پی ٹی آئی نے جواب دینے میں غیر ضروری تاخیر کی۔ مئی 2025 میں ٹرائل کورٹ کے سامنے شہباز شریف نے وڈیو لنک کے ذریعے اپنا بیان ریکارڈ کروایا تھا، گواہ عطا تارڑ اور ملک احمد خان پر بانی پی ٹی آئی کے وکلاء کی جانب سے جرح مکمل ہوچکی ہے۔ عدالت عظمیٰ کے 3رکنی بینچ نے حق دفاع ختم کرنے کیخلاف بانی پی ٹی آئی کی درخواست خارج کردی تھی، جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس امین الدین خان نے بانی پی ٹی آئی کی اپیل خارج اور حقِ دفاع ختم کرنے کے فیصلے کو برقرار رکھا۔ اکثریت فیصلے کے مطابق بانی پی ٹی آئی کا رویہ دانستہ نافرمانی والا رہا اور عدالتی عمل میں تاخیر کی، جسٹس عائشہ ملک نے فیصلے میں اختلافی نوٹ لکھا تھا، جسٹس عائشہ ملک کا مؤقف تھا کہ کسی بھی فریق کا حقِ دفاع ختم نہیں کیا جانا چاہیے، جسٹس عائشہ ملک کے اختلافی نوٹ کے مطابق بانی پی ٹی آئی کو دفاع کا موقع ملنا چاہیے تھا۔

مانیٹرنگ ڈیسک سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: بانی پی ٹی ا ئی کی نے بانی پی ٹی ا ئی جسٹس عائشہ ملک شہباز شریف عدالت عظمی ٹرائل کورٹ دفاع ختم

پڑھیں:

برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ

برطانیہ کے 70 سے زائد ارکانِ پارلیمنٹ نے نئے وزیراعظم اینڈی برنہم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کے آزاد تحقیقاتی کمیشن کے نتائج کو باضابطہ طور پر تسلیم کریں اور اسرائیل کے خلاف فوری اور مؤثر اقدامات کریں۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق خط میں نشاندہی کی گئی ہے کہ گزشتہ ماہ جاری ہونے والی اقوامِ متحدہ کی آزاد تحقیقاتی رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا تھا کہ غزہ میں اسرائیلی فوج کی کارروائیاں نسل کشی کے زمرے میں آتی ہیں اور رپورٹ میں خاص طور پر اسرائیلی حملوں میں بچوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنانے کی تصدیق بھی تھی۔

ارکان پارلیمان نے کھلے خط میں نو منتخب وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ بین الاقوامی عدالتِ انصاف کی جولائی 2024 کی مشاورتی رائے پر بھی عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کریں۔

برطانوی ارکانِ پارلیمنٹ کے بقول عالمی عدالت نے اسرائیل پر زور دیا تھا کہ وہ فوری طور پر مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے اپنی موجودگی ختم کرے، تمام اسرائیلی بستیاں ختم کرے، متاثرہ فلسطینیوں کو معاوضہ ادا کرے اور بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کی واپسی میں تعاون کرے۔

عدالت نے اپنی رائے میں یہ بھی کہا تھا کہ دنیا کے تمام ممالک پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کریں جو اسرائیلی قبضے کو برقرار رکھنے یا اس میں معاونت کا سبب بنیں۔

خط میں برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اسرائیل پر مکمل اسلحہ پابندی عائد کی جائے، اسرائیلی حکام کے خلاف پابندیاں لگائی جائیں اور ایسی ہر قسم کی تجارت پر پابندی عائد کی جائے جو مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم اسرائیلی بستیوں کو فائدہ پہنچاتی ہو۔

ارکانِ پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ برطانیہ کو بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق سے متعلق اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہوئے واضح اور مؤثر پالیسی اختیار کرنی چاہیے۔

I'm one of 80 MPs & Peers calling on the PM to:

- Recognise the UN’s findings on genocide & implement the ICJ ruling in full
- Impose sanctions including a full arms embargo
- Ban trade that supports Israel’s illegal settlements

End Britain’s complicity in genocide, now. pic.twitter.com/TjtJ0yj2Qq

— Kim Johnson (@KimJohnsonMP) July 23, 2026

فلسطین سالیڈیرٹی کمپین کے نائب ڈائریکٹر پیٹر لیری نے ارکانِ پارلیمنٹ کے خط کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا تھا کہ برطانوی حکومت نے طویل عرصے سے نسل کشی کنونشن اور بین الاقوامی عدالتِ انصاف کے مؤقف کو نظر انداز کیا ہے۔

انھوں نے الزام عائد کیا ہے کہ برطانیہ مسلسل ایسی پالیسیاں اپناتا رہا ہے جن سے فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کو عملی یا سفارتی حمایت ملتی رہی۔

خیال رہے کہ اسرائیل غزہ میں نسل کشی کے الزامات کو مسترد کرتا ہے اور مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ اس کی فوجی کارروائیاں حماس اور دیگر مسلح گروہوں کے خلاف ہیں جبکہ شہری ہلاکتوں سے بچنے کے لیے اقدامات کیے جاتے ہیں۔

واضح رہے کہ اقوامِ متحدہ اور متعدد بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں اسرائیلی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے غزہ میں بڑے پیمانے پر شہریوں، خصوصاً خواتین اور بچوں کے جانی نقصان پر مسلسل تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔

 

متعلقہ مضامین

  • نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
  • چیف جسٹس سپریم کورٹ کا ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت پر اظہار افسوس
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • یو اے ای ویزا آن ارائیول کی نئی شرائط اور فیس جاری
  • فیلڈ مارشل، میں اور قوم سعودیہ کیساتھ ہیں، وزیراعظم کا ولی عہد سے رابطہ، آئل ٹینکرز پر حملے کی مذمت
  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم
  • شہباز شریف سمیت حکومتی شخصیات کو 21 تحائف ملے، توشہ خانہ کا ریکارڈ جاری