وی ایکسکلوسیو: نواز شریف عمران خان کی صحت کی براہ راست نگرانی نہیں کر رہے، ڈاکٹر طارق فضل چوہدری
اشاعت کی تاریخ: 21st, February 2026 GMT
مسلم لیگ (ن) کے رہنما اور وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری کا کہنا ہے کہ نواز شریف براہ راست نہ عمران خان کی صحت مانیٹر کر رہے ہیں اور نہ ہی ان کی میڈیکل رپورٹس دیکھ رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: عمران خان کی صحت پر سیاست نہیں ہونے چاہی، طارق فضل چوہدری
وی ایکسکلوسیو میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عمران خان کی صحت کی ذمہ داری ریاست پر عائد ہوتی ہے اور حکومت اسے سنجیدگی سے محسوس کرتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ طبی فیصلے ورثا نہیں بلکہ ڈاکٹرز کرتے ہیں اور علاج سے متعلق تمام معاملات متعلقہ طبی ٹیم کی نگرانی میں ہوتے ہیں۔
مذاکرات میں رکاوٹ کی وجہڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا کہ اگر پاکستان تحریک انصاف اندرونی طور پر اتفاق رائے قائم کر لے تو مذاکرات نہ صرف ممکن ہیں بلکہ نتیجہ خیز بھی ثابت ہو سکتے ہیں۔ تاہم ان کے بقول اس وقت پی ٹی آئی شدید گروہ بندی کا شکار ہے جس کے باعث کسی واضح پیشرفت میں رکاوٹ درپیش ہے۔
ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا کہ حکومت اپوزیشن کو پارلیمان اور پارلیمانی کارروائی کا حصہ بنانا چاہتی ہے لیکن پی ٹی آئی کے ارکان قانون سازی پر توجہ دینے کے بجائے احتجاج، نعرے بازی اور ہنگامہ آرائی میں مصروف رہتے ہیں۔
مزید پڑھیے: عمران خان سے ملاقاتوں کی اجازت کب سے ملنے والی ہے، طارق فضل چوہدری نے بتادیا
ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کی ترجیح قانون سازی نہیں بلکہ ایسی ویڈیوز بنانا ہوتی ہیں جو سوشل میڈیا ٹیموں اور عمران خان تک پہنچائی جا سکیں۔
پی ٹی آئی میں گروہ بندی اور مذاکرات کی پیشکشپی ٹی آئی کی اندرونی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جماعت مختلف دھڑوں میں تقسیم دکھائی دیتی ہے جس کے باعث یکسوئی اور کنسنسس کا فقدان ہے۔
ان کے مطابق پارٹی کے اندر سے مذاکرات کی آوازیں بھی سنائی دے رہی ہیں اور حکومت بھی بات چیت کے لیے تیار ہے۔
انہوں نے بتایا کہ وزیر اعظم نے قومی اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف محمود خان اچکزئی سے خود جا کر مصافحہ کیا اور مذاکرات کی پیشکش کی۔ وزیر اعظم اب بھی اپوزیشن لیڈر سے ان کے چیمبر میں ملاقات کے لیے تیار ہیں جو حکومت کی جانب سے خیرسگالی اور سیاسی دروازے کھلے رکھنے کا ثبوت ہے۔
سیاست اور ریاستی اداروں کا معاملہڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا کہ عمران خان نے سیاست کو سیاسی دائرے سے نکال کر ریاست اور ریاستی اداروں کے خلاف محاذ آرائی کی شکل دے دی ہے۔ حکومت کا مؤقف واضح ہے کہ سیاسی اختلافات کا مقابلہ سیاسی میدان میں ہونا چاہیے، نہ کہ ریاستی اداروں کے ساتھ۔
مزید پڑھیں: ڈی سی اسلام آباد اور وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری کا رمضان بازاروں کا دورہ، اشیاء کی قیمتوں اور معیار کا جائزہ
انہوں نے کہا کہ حکومت نے عمران خان کو واضح پیغام دیا ہے کہ سیاسی مقابلہ سیاسی جماعتوں اور حکومت کے ساتھ کیا جائے، مگر وہ کسی اور محاذ پر مقابلہ کر رہے ہیں۔
آئینی ترامیم پر مؤقفڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے 27ویں یا 28ویں آئینی ترمیم سے متعلق زیرِ گردش خبروں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ نہ تو حکومت اور نہ ہی اتحادی جماعتوں کی جانب سے کسی باضابطہ ٹائم لائن یا مسودے کا اعلان کیا گیا ہے۔
ان کے مطابق 18ویں آئینی ترمیم کے مکمل جائزے کی بات نہیں ہو رہی بلکہ بعض آئینی نکات، خصوصاً چیف الیکشن کمشنر کی تعیناتی پر ڈیڈ لاک کے باعث اتفاق رائے ممکن نہیں۔
یہ بھی پڑھیے: ’سیاسی مخالفت کو سیاست تک رہنا چاہیے‘، طارق فضل چوہدری کی سیاسی حریف شعیب شاہین کی عیادت
انہوں نے کہا کہ ان ہی وجوہات کے باعث مستقبل قریب میں کسی آئینی ترمیم کی منظوری کا امکان نظر نہیں آتا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اگلی آئینی ترامیم پی ٹی آئی میں گروہ بندی حکومت پی ٹی آئی مذاکرات ڈاکٹر طارق فضل چوہدری عمران خان صحت وی ایکسکلوسیو.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اگلی ا ئینی ترامیم پی ٹی آئی میں گروہ بندی حکومت پی ٹی ا ئی مذاکرات ڈاکٹر طارق فضل چوہدری وی ایکسکلوسیو ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے عمران خان کی صحت انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے باعث
پڑھیں:
گلگت بلتستان کی سڑکوں کی خستہ حالی دیکھ کر شدید دکھ ہوا، نواز شریف
ایک بیان میں قائد نون لیگ کا کہنا تھا کہ ووٹ ملے یا نہ ملے، ہم آپ کو محروم نہیں رکھیں گے۔ آپ ووٹ دیں یا نہ دیں ہم پھر بھی آپ کی خدمت کریں گے اور ترقیاتی کام مکمل کریں گے۔ اسلام ٹائمز۔ نون لیگ کے قائد میاں نواز شریف نے کہا ہے کہ ہم نے گلگت سے سکردو کا 9 گھنٹے کا سفر 3 گھنٹے میں بدل کر عوام کے 6 گھنٹے بچائے ہیں۔ 70 سال سے لٹکے منصوبے ہم نے اربوں روپے لگا کر مکمل کیے۔ ہمیں یہ منظور نہیں کہ یہاں 20، 22 گھنٹے لوڈشیڈنگ ہو۔ ووٹ ملے یا نہ ملے، ہم آپ کو محروم نہیں رکھیں گے۔ آپ ووٹ دیں یا نہ دیں ہم پھر بھی آپ کی خدمت کریں گے اور ترقیاتی کام مکمل کریں گے۔ ایک بیان میں میاں نواز شریف کا کہنا تھا کہ میں شہباز شریف اور مریم کو بھی کہوں گا کہ وہ دونوں یہاں آئیں اور اگر اللہ کے فضل و کرم سے ہماری حکومت آتی ہے، تو میں خود ہر دوسرے تیسرے مہینے یہاں آکر شروع کیے گئے ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل اور نگرانی اپنی دیکھ بھال میں مکمل کرواؤں گا۔ یہاں دیس نکالے کی باتیں کرنے والے یاد رکھیں کہ 2017ء میں این ایف سی کمیٹی نواز شریف نے ہی بنائی تھی تاکہ اس مسئلے کا مستقل حل نکل سکے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ گلگت، سکردو، بلتستان اور ہنزہ سمیت پورے خطے کے عوام سے مخاطب ہوں۔ اللہ کے فضل و کرم سے اور شہباز شریف سے بات کر کے اس شاہراہ کو پورا خنجراب تک پہنچائیں گے۔ پاک چائنا ٹریڈنگ کے اس منصوبے سے یہاں ایسی خوشحالی آئے گی کہ آپ کو گھر بیٹھے روزگار اور اخراجات ملیں گے اور پورا خطہ بدل جائے گا۔ آج گلگت بلتستان کی سڑکوں کی خستہ حالی دیکھ کر شدید دکھ ہوا، وہ گلگت کہاں ہے جسے میں جانتا تھا؟ ہم نے مانسہرہ سے تھاکوٹ تک بہترین سڑک بنائی جسے خنجراب تک جانا تھا مگر اسے نظر انداز کر دیا گیا۔ ہم کسی کی برائی کرنے نہیں بلکہ ہمیشہ اپنی کارکردگی کی بنیاد پر ووٹ مانگتے ہیں۔ یہاں کے عوام بے تحاشہ ترقی اور روزگار کے حقدار ہیں۔