کراچی (نوائے وقت رپورٹ) وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ کوئلے سے یوریا بنانے کا منصوبہ تھر اور پاکستان کے لیے گیم چینجر ثابت ہوگا۔ منصوبے سے متعلق فوجی فرٹلائیزر کمپنی  اور سندھ حکومت کے درمیان اہم بیٹھک ہوئی، جہانگیر پراچہ سمیت سینئر حکام شریک تھے۔مراد علی شاہ نے کہا منصوبے سے یوریا درآمد میں کمی آئیگی۔ اور ممکنہ طور پر 260 ملین ڈالر تک برآمدات سے قومی خزانے کو فائدہ ہوگا، سندھ حکومت کو سالانہ تقریباً 5.

5 ملین ڈالر تک رائلٹی ملنے کا امکان ہے۔

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

پڑھیں:

گوگل کا ’گڈ مچھر بیڈ مچھر‘ نظریہ، امریکا میں لوہے کو لوہے سے کاٹنے کے لیے ’فورس‘ تیار

امریکی ٹیکنالوجی کمپنی گوگل فلوریڈا اور کیلیفورنیا میں تقریباً 3 کروڑ 20 لاکھ مچھر چھوڑنے کے منصوبے پر کام کر رہی ہے جس کا مقصد خطرناک مچھروں کی افزائش روکنا اور ان سے پھیلنے والی بیماریوں پر قابو پانا ہے۔ تاہم اس منصوبے نے ماہرین ماحولیات اور ناقدین میں کئی خدشات کو جنم دے دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: یہ اتفاق نہیں: مچھر دوسروں کو چھوڑ کر آپ کے ہی پیچھے کیوں پڑجاتے ہیں؟

گوگل کے ’ڈی بگ‘ پروگرام کے تحت ایسے نر مچھر چھوڑے جائیں گے جنہیں ’اچھے مچھر‘ قرار دیا جا رہا ہے۔ ان مچھروں میں قدرتی طور پر پائے جانے والے بیکٹیریا وولباخیا موجود ہوں گے جو جنگلی مادہ مچھروں کے ساتھ ملاپ کے بعد انڈوں کو پھوٹنے سے روک دیں گے یوں خطرناک مچھروں کی نسل بتدریج کم ہوتی جائے گی۔

گوگل کے مطابق یہ نر مچھر نہ کاٹتے ہیں اور نہ ہی بیماریاں پھیلاتے ہیں اس لیے یہ انسانی صحت کے لیے نقصان دہ نہیں ہوں گے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کا مقصد اچھے کیڑوں کے ذریعے برے کیڑوں کا خاتمہ ہے۔

ماہرین کے مطابق مچھر دنیا کے مہلک ترین کیڑوں میں شمار ہوتے ہیں جو ڈینگی، زیکا اور چکن گنیا جیسی خطرناک بیماریوں کے پھیلاؤ کا سبب بنتے ہیں۔

خاص طور پر ایڈیز ایجپٹی نسل کے مچھر ہر سال کروڑوں افراد کو خطرے میں ڈالتے ہیں۔

مزید پڑھیے: مچھروں کو ملیریا سے بچانے کے لیے دوا ڈھونڈ لی گئی، آپ بھی چکرا گئے نا!

گوگل کا کہنا ہے کہ روایتی کیڑے مار ادویات وقت کے ساتھ کم مؤثر ہو رہی ہیں اور ان کے ماحولیاتی اثرات بھی نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں اس لیے ایک نئے اور محفوظ طریقہ کار کی ضرورت ہے۔

کمپنی کے سائنس دانوں کے مطابق اس منصوبے میں نہ تو جینیاتی تبدیلی کی گئی ہے اور نہ ہی کسی قسم کے زہریلے کیمیکل استعمال کیے جائیں گے۔

جدید مصنوعی ذہانت، روبوٹکس اور خودکار نظام کے ذریعے مچھروں کی افزائش اور چھانٹی کی جائے گی تاکہ بڑے پیمانے پر ان کی رہائی ممکن ہو سکے۔

مزید پڑھیں: برازیل میں مچھر فیکٹری کا افتتاح، ہر ہفتے 19 کروڑ کی پیداوار، لیکن کیوں؟

گوگل اس منصوبے کے لیے وفاقی منظوری کا منتظر ہے۔ امریکی ماحولیاتی تحفظ ایجنسی اس وقت کمپنی کی درخواستوں کا جائزہ لے رہی ہے۔

منصوبے کے مطابق پہلے سال فلوریڈا میں ایک کروڑ 60 لاکھ مچھر چھوڑے جائیں گے جبکہ باقی مچھر دوسرے مرحلے میں چھوڑے جائیں گے۔

دوسری جانب ناقدین کا کہنا ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں مچھروں کی رہائی کے طویل المدتی ماحولیاتی اثرات غیر متوقع ہو سکتے ہیں۔ بعض ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اس اقدام سے قدرتی غذائی زنجیر متاثر ہو سکتی ہے اور ماحولیاتی توازن بگڑنے کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے: ’بہت دیر کی مہرباں آتے آتے‘: آئس لینڈ میں پہلی بار مچھر نمودار، یہ آ کیسے گیا؟

کچھ حلقوں نے اس بات پر بھی سوال اٹھایا ہے کہ عوامی صحت کے نام پر بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو حیاتیاتی نوعیت کے وسیع منصوبوں میں کس حد تک اختیار دیا جانا چاہیے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

گڈ مچھر بیڈ مچھر گوگل گوگل کے ’گڈ مچھر‘ اور ’بیڈ مچھر‘

متعلقہ مضامین

  • شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
  • فلاحی ریاست کا درس دینے والے غریبوں کے وظیفے پر سیخ پا کیوں؟ سعدیہ جاوید
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
  • فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان
  • گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
  • کے فور منصوبہ مزید تاخیر کا شکار، 2029 تک مکمل ہونے کا امکان
  • اراکین پارلیمنٹ کیلئے اضافی فیملی سوٹس کی تعمیر کی تجویز، بجٹ میں ڈیڑھ ارب روپے مختص ہونے کا امکان
  • سندھ میں 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کو ممکن بنائیں گے:بلاول بھٹو کا گلگت جلسے سے خطاب
  • گوگل کا ’گڈ مچھر بیڈ مچھر‘ نظریہ، امریکا میں لوہے کو لوہے سے کاٹنے کے لیے ’فورس‘ تیار