وائس چانسلر پنجاب یونیورسٹی کو توہین عدالت کا نوٹس جاری
اشاعت کی تاریخ: 21st, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260221-08-1
لاہور (نمائندہ جسارت) لاہور ہائیکورٹ نے اسموگ کے تدارک کے لیے دائر درخواستوں پر سماعت کے دوران وائس چانسلر پنجاب یونیورسٹی کو باقاعدہ توہین عدالت کا نوٹس جاری کر دیا۔جسٹس شاہد کریم نے ہارون فاروق سمیت دیگر کی درخواستوں پر سماعت کی۔عدالت نے شیرانوالہ گیٹ اور ٹکسالی گیٹ پروجیکٹس پر حکم امتناع میں توسیع کرتے ہوئے سماعت 27 فروری تک ملتوی کر دی۔ عدالت نے لا افسران اور ممبر کمیشن سے رپورٹس بھی طلب کرلی۔ممبر جوڈیشل واٹر کمیشن نے کہا کہ درختوں کی پالیسی سے متعلق اجلاس میں پی ایچ اے کا کوئی نمائندہ شریک نہیں ہوا۔ جسٹس شاہد کریم نے ریمارکس دیے کہ پی ایچ اے کا رویہ دیکھ لیں۔عدالت نے ریمارکس دیے کہ ٹھیک ہے پھر پروجیکٹس بھی روکے رہیں گے۔وی سی پنجاب یونیورسٹی کی جانب سے تحریری جواب جمع کرایا گیا۔ وکیل پنجاب یونیورسٹی نے کہا کہ وی سی کہتے ہیں کہ انہیں درخت کٹوانے کا اختیار ہے۔جسٹس شاہد کریم نے ریمارکس دیے کہ درختوں کی کٹائی سے متعلق عدالت کے واضح احکامات موجود ہیں۔ عدالت نے کہا کہ وائس چانسلر کو باقاعدہ توہین عدالت کا نوٹس کیا جاتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: پنجاب یونیورسٹی عدالت نے
پڑھیں:
کراچی: زیادتی کی شکار غیرملکی خاتون نے ملزم کو معاف کردیا
کراچی کے علاقے ڈیفنس میں زیادتی کا شکار غیر ملکی خاتون نے ملزم کو معاف کردیا۔ جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی ملزم کے جسمانی ریمانڈ میں چار روز کی توسیع کردی۔
کراچی میں درخشاں تھانے کی حدود میں امریکی خاتون سے زیادتی کے مقدمے کی سماعت جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی کی عدالت میں ہوئی پولیس نے گرفتار ملزم جیسپر عرف آدی محمود کو عدالت میں پیش کیا۔
متاثرہ خاتون نے عدالت میں زیر دفعہ 164 کا بیان ریکارڈ کروایا، متاثرہ خاتون نے ملزم کو معاف کرنے کا بیان دیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ مقدمہ میں ملوث ملزم آدی محمود کو گرفتار کرلیا ہے، ملزم تھانا درخشاں میں گزشتہ ڈیڑھ ماہ سے صفائی کا کام کر رہا تھا۔
خاتون نے بیان میں کہا کہ پولیس افسر نے اس کا دستخط شدہ بیان جلادیا، پولیس افسر نے کہا کہ مقدمہ درج کروائیں ورنہ ہمارے لیے مشکل ہوجائے گی۔
متاثرہ خاتون نے کہا کہ ملزم کی زندگی خراب نہیں کرنا چاہتی۔
عدالت نے متاثرہ خاتون کا بیان کیس کا حصہ بنادیا جبکہ عدالت نے ملزم جیسپر کے جسمانی ریمانڈ میں چار روز کی توسیع کردی۔
عدالت نے تفتیشی افسر کو ملزم کی عمر کے تعین سے متعلق رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی۔