نادرا :پاکستانیوں کی فیملی ٹری میں ہزاروں غیرمتعلقہ افراد کی موجودگی کا انکشاف
اشاعت کی تاریخ: 21st, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260221-08-17
راولپنڈی (مانیٹرنگ ڈیسک) نادرا میں پاکستانیوں کی فیملی ٹری میں ہزاروں ’’گھس بیٹھیوں‘‘ کے موجودگی کا انکشاف ہوا ہے۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق فیملی ٹری میں جعل سازی سے شریک ہوئے ’’گھس بیٹھیوں‘‘ کے خلاف نادرا نے بڑا ایکشن شروع کردیا، جعل سازی کے ذریعے پاکستانی شناختی کارڈ حاصل کرنے والے مشتبہ افراد کو نادرا نے طلب کرلیا۔نادرا نے ابتدائی طور پر ضلع راولپنڈی کے 833 افراد کو پیش ہونے کے نوٹس جاری کردیے اور ان 833 افراد کو 7 دنوں میں پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔ذرائع کے مطابق مذکورہ افراد پر جعل سازی کے ذریعے پاکستانی شہریوں کے فیملی ٹری میں شامل ہونے کا الزام ہے، جعل سازی کے ذریعے شناختی کارڈ حاصل کرنے والوں کو فون کال، میسج بھی کیے گئے ہیں، نوٹسز جاری کرکے ان لوگوں کو موقف سنا جائے گا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پیش نہ ہونے والے افراد کی پاکستانی شہریت ختم کی جاسکتی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: فیملی ٹری میں
پڑھیں:
خیبر پختونخوا میں بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 22 افراد جاں بحق
صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطاق 19 جولائی سے اب تک خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں بارشوں اور فلش فلڈز سے مجموعی طور پر 9 مرد، 10 بچے اور تین خواتین جاں بحق ہوئیں۔ اسلام ٹائمز۔ خیبر پختونخوا میں ہونے والی بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 5 روز کے دوران 22 شہری جاں بحق جبکہ 23 زخمی ہوگئے۔ صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطاق 19 جولائی سے اب تک خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں بارشوں اور فلش فلڈز سے مجموعی طور پر 9 مرد، 10 بچے اور تین خواتین جاں بحق ہوئیں۔ اعلامیے کے مطابق زخمیں میں 11 مرد، 5 خواتین 7 بچے شامل ہیں جبکہ تیز بارشوں اور فلش فلڈ کے باعث مجموعی طور پر 37 گھروں کو نقصان پہنچا جس میں 29 گھروں کو جزوی جبکہ 8 گھر مکمل منہدم ہوگئے۔ پی ڈی ایم اے کے مطابق حادثات پشاور، نوشہرہ، خیبر، مردان , بونیر، باجوڑ، شانگلہ، صوابی، چترال لوئر، دیر لوئر اور اپر، ایبٹ آباد، مانسہرہ،ہری پور، ٹانک، تور غر اور کرم اور شمالی و جنوبی وزیرستان میں پیش آئے۔
اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ پی ڈی ایم اے، ریسکیو 1122، ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ اداراے آپس میں رابطے میں اور امدادی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں جبکہ متاثرہ اضلاع کی انتظامیہ کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ متاثرین میں جلد امدادی سامان تقسیم کردے۔ ڈی جی پی ڈی ایم اے نے ضلعی انتظامیہ کو امدادی سرگرمیاں تیز کرنے اور متاثرین کو فوری معاونت فراہم کرنے کی ہدایت کی اور بتایا کہ صوبہ کے تمام دریاؤں اور ندی نالوں میں پانی کی سطح اور بہاو معمول کے مطابق ہے۔ پی ڈی ایم اے کے مطابق تیز بارشوں کا یہ سلسلہ آج تک وقفے وقفے سے جاری رہنے کا امکان ہے۔ پی ڈی ایم اے نے عوام سے اپیل کی کہ وہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور حساس سیاحتی مقامات کا رخ نہ کریں جبکہ حکومتی اداروں کی جانب سے الرٹس/ اور ایڈوائزری پر عمل کریں۔
ڈی جی پی ڈی ایم اے کے مطابق ایمرجنسی آپریشن سینٹر مکمل طور پر فعال ہے، عوام کسی بھی نا خوشگوار واقعے کی اطلاع ، موسمی صورتحال سے آگائی اور معلومات کے لیے فری ہیلپ لائن 1700 پر رابطہ کریں۔