نادرا میں پاکستانیوں کی فیملی ٹری میں ہزاروں ’’گھس بیٹھیوں‘‘ کے موجودگی کا انکشاف
اشاعت کی تاریخ: 20th, February 2026 GMT
ذرائع کے مطابق مذکورہ افراد پر جعل سازی کے ذریعے پاکستانی شہریوں کے فیملی ٹری میں شامل ہونے کا الزام ہے، جعل سازی کے ذریعے شناختی کارڈ حاصل کرنے والوں کو فون کال، میسج بھی کیے گئے ہیں، نوٹسز جاری کرکے ان لوگوں کو موقف سنا جائے گا۔ اسلام ٹائمز۔ نادرا میں پاکستانیوں کی فیملی ٹری میں ہزاروں ’’گھس بیٹھیوں‘‘ کے موجودگی کا انکشاف ہوا ہے۔ فیملی ٹری میں جعلسازی سے شریک ہوئے گھس بیٹھیوں کے خلاف نادرا نے بڑا ایکشن شروع کر دیا ہے۔ جعل سازی کے ذریعے پاکستانی شناختی کارڈ حاصل کرنے والے مشتبہ افراد کو نادرا نے طلب کر لیا ہے۔ نادرا نے ابتدائی طور پر ضلع راولپنڈی کے 833 افراد کو پیش ہونے کے نوٹس جاری کر دیئے اور ان 833 افراد کو 7 دنوں میں پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق مذکورہ افراد پر جعل سازی کے ذریعے پاکستانی شہریوں کے فیملی ٹری میں شامل ہونے کا الزام ہے، جعل سازی کے ذریعے شناختی کارڈ حاصل کرنے والوں کو فون کال، میسج بھی کیے گئے ہیں، نوٹسز جاری کرکے ان لوگوں کو موقف سنا جائے گا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پیش نہ ہونے والے افراد کی پاکستانی شہریت ختم کی جاسکتی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: جعل سازی کے ذریعے فیملی ٹری میں
پڑھیں:
بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے رکن قومی اسمبلی نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہا ہے کہ پاکستان کے خلاف ایک خاموش جنگ لڑی جا رہی ہے جو بارود سے زیادہ نوجوانوں کے ذہنوں کو نشانہ بنا رہی ہے۔ بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
صوبائی وزرا علی مدد جتک اور عاصم کرد گیلو کے ہمراہ کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہاکہ دشمن پاکستان اور بلوچستان کو توڑنے کی کوشش کر رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ 2018 میں بشیر زیب نے جب ایک کالعدم تنظیم کی کمان سنبھالی تو حالات مزید خراب ہوئے، جبکہ جنید بشیر زیب کا رائٹ ہینڈ ہے۔
انہوں نے کہاکہ آج کی جنگ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر لڑی جا رہی ہے اور کالعدم تنظیموں کے کارندے زنگی ایپ کے ذریعے ایک دوسرے سے رابطے میں رہتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ کالعدم تنظیمیں سنگل ایپ کے ذریعے آپریشنل منصوبہ بندی جبکہ ڈیلٹا چیٹ کے ذریعے خفیہ بھرتیاں کرتی ہیں۔
نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہاکہ آج دشمن صرف گولی کا استعمال نہیں کر رہا بلکہ سوشل میڈیا پر ٹرینڈز چلا کر بھی اپنا ایجنڈا آگے بڑھا رہا ہے۔ ہم نہیں چاہتے کہ نوجوان پہاڑوں کا رخ کریں۔
انہوں نے دعویٰ کیاکہ کالعدم تنظیموں نے اپنی سرگرمیوں میں خواتین کا استعمال بھی شروع کر دیا ہے۔ شہناز بلوچ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے جلسوں میں شرکت کرتی تھیں اور ان کا باہوٹ کے ذریعے کالعدم تنظیم سے رابطہ ہوا۔
نوابزادہ جمال رئیسانی نے مزید کہاکہ بلوچ یکجہتی کمیٹی بلوچستان کی قیادت ڈاکٹر صبیحہ کر رہی ہیں اور ان کا بھائی ایک کالعدم تنظیم کا حصہ ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے کراچی سیل کی قیادت فوزیہ شاہوانی کررہی ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews بلوچستان سیاست خاموش جنگ نوابزادہ جمال رئیسانی وی نیوز