تعمیراتی کاموں پر خیبر پختونخوا حکومت کا ٹیکس لگانا قانونی قرار
اشاعت کی تاریخ: 21st, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
پشاور (خبرایجنسیاں) وفاقی آئینی عدالت نے خیبر پختونخوا سیلز ٹیکس آن سروسز ایکٹ کے خلاف دائر اپیلیں خارج کرتے ہوئے تعمیراتی خدمات پر ٹیکس عاید کرنے کو قانونی قرار دے دیا۔جسٹس عامر فاروق نے کیس کا تحریری فیصلہ جاری کیا۔عدالت نے قرار دیا کہ 27ویں آئینی ترمیم کے بعد عدالت عظمیٰ قوانین کو آئینی بنیاد پر کالعدم قرار نہیں دے سکتی کیونکہ آئینی تشریح کا اختیار مخصوص فورم تک محدود کر دیا گیا ہے، آئینی عدالت کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ کسی بھی عدالت یا ٹریبونل سے ریکارڈ طلب کر سکے۔عدالت نے قرار دیا کہ خیبر پختونخوا سیلز ٹیکس آن سروسز ایکٹ 2022 ء کے شیڈول 2 کا سیریل نمبر 14 آئین کے منافی نہیں ہے، یہ شق تعمیراتی خدمات پر ٹیکس سے متعلق ہے اور اس میں اشیا شامل نہیں ہیں۔فیصلے میں کہا گیا کہ18ویں آئینی ترمیم کے بعد سروسز پر ٹیکس عائد کرنے کا اختیار صوبوں کو حاصل ہے جبکہ وفاقی حکومت صرف اشیا پر ٹیکس لگا سکتی ہے۔عدالت نے واضح کیا کہ کسی شہری یا کمپنی کو ایک ہی چیز پر2 مرتبہ ٹیکس ادا نہ کرنا پڑے، اس کے لیے متعلقہ معاہدے اور طریقہ کار موجود ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان کے مطابق ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کیلئے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔ اسلام ٹائمز۔ وفاقی تحقیقات ادارے ایف آئی ای نے کوئٹہ شہر میں مختلف وفاقی اداروں کے مبینہ ایجنٹس کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے 14 افراد کو گرفتار کرلیا ہے۔ ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان بہرام مندوخیل کے مطابق کارروائی کے دوران نادرا، سوئی سدرن گیس کمپنی، پاسپورٹ آفس اور میٹروپولیٹن کارپوریشن سے متعلق مبینہ ایجنٹس کو حراست میں لیا گیا ہے، جو شہریوں کو مختلف سرکاری امور میں غیر قانونی سہولت کاری فراہم کرنے میں ملوث تھے۔ انہوں نے بتایا کہ گرفتار ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کے لئے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے نے کہا کہ گرفتار ملزمان سے تفتیش جاری ہے اور ابتدائی تحقیقات کی روشنی میں ان کے نیٹ ورک میں شامل دیگر افراد کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔ امید ہے کہ مزید گرفتاریاں بھی عمل میں آئیں گی۔ بہرام مندوخیل نے کہا کہ ایف آئی اے سرکاری اداروں میں بدعنوانی، جعلسازی اور غیر قانونی سہولت کاری کے خاتمے کے لئے کارروائیاں جاری رکھے گی اور قانون شکنی میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔