data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

پشاور (خبرایجنسیاں) وفاقی آئینی عدالت نے خیبر پختونخوا سیلز ٹیکس آن سروسز ایکٹ کے خلاف دائر اپیلیں خارج کرتے ہوئے تعمیراتی خدمات پر ٹیکس عاید کرنے کو قانونی قرار دے دیا۔جسٹس عامر فاروق نے کیس کا تحریری فیصلہ جاری کیا۔عدالت نے قرار دیا کہ 27ویں آئینی ترمیم کے بعد عدالت عظمیٰ قوانین کو آئینی بنیاد پر کالعدم قرار نہیں دے سکتی کیونکہ آئینی تشریح کا اختیار مخصوص فورم تک محدود کر دیا گیا ہے، آئینی عدالت کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ کسی بھی عدالت یا ٹریبونل سے ریکارڈ طلب کر سکے۔عدالت نے قرار دیا کہ خیبر پختونخوا سیلز ٹیکس آن سروسز ایکٹ 2022 ء کے شیڈول 2 کا سیریل نمبر 14 آئین کے منافی نہیں ہے، یہ شق تعمیراتی خدمات پر ٹیکس سے متعلق ہے اور اس میں اشیا شامل نہیں ہیں۔فیصلے میں کہا گیا کہ18ویں آئینی ترمیم کے بعد سروسز پر ٹیکس عائد کرنے کا اختیار صوبوں کو حاصل ہے جبکہ وفاقی حکومت صرف اشیا پر ٹیکس لگا سکتی ہے۔عدالت نے واضح کیا کہ کسی شہری یا کمپنی کو ایک ہی چیز پر2 مرتبہ ٹیکس ادا نہ کرنا پڑے، اس کے لیے متعلقہ معاہدے اور طریقہ کار موجود ہیں۔

خبر ایجنسی سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: عدالت نے پر ٹیکس

پڑھیں:

کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار

ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان کے مطابق ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کیلئے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔ اسلام ٹائمز۔ وفاقی تحقیقات ادارے ایف آئی ای نے کوئٹہ شہر میں مختلف وفاقی اداروں کے مبینہ ایجنٹس کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے 14 افراد کو گرفتار کرلیا ہے۔ ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان بہرام مندوخیل کے مطابق کارروائی کے دوران نادرا، سوئی سدرن گیس کمپنی، پاسپورٹ آفس اور میٹروپولیٹن کارپوریشن سے متعلق مبینہ ایجنٹس کو حراست میں لیا گیا ہے، جو شہریوں کو مختلف سرکاری امور میں غیر قانونی سہولت کاری فراہم کرنے میں ملوث تھے۔ انہوں نے بتایا کہ گرفتار ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کے لئے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔

ڈائریکٹر ایف آئی اے نے کہا کہ گرفتار ملزمان سے تفتیش جاری ہے اور ابتدائی تحقیقات کی روشنی میں ان کے نیٹ ورک میں شامل دیگر افراد کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔ امید ہے کہ مزید گرفتاریاں بھی عمل میں آئیں گی۔ بہرام مندوخیل نے کہا کہ ایف آئی اے سرکاری اداروں میں بدعنوانی، جعلسازی اور غیر قانونی سہولت کاری کے خاتمے کے لئے کارروائیاں جاری رکھے گی اور قانون شکنی میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔

متعلقہ مضامین

  • کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
  • خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان
  • خیبر پختونخوا میں بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 22 افراد جاں بحق
  • خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، پنجاب اور کشمیر میں تیز بارشوں کی پیشگوئی، لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا اپنے عہدے سے مستعفی
  • خیبر پختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
  • آزادکشمیرکے ضلع میرپور میں انٹرنیٹ سروسز مرحلہ وار بحال ہونا شروع
  • پاکستان میں سریے کی قیمت آج 23 جولائی 2026، تازہ ریٹس جاری
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن