پاکستان میں غربت میں اضافہ، شرح 28.9 فیصد تک پہنچ گئی
اشاعت کی تاریخ: 21st, February 2026 GMT
پاکستان میں سات سال بعد ملک گیر غربت کے تازہ اعداد و شمار جاری کر دیے گئے ہیں، جو معاشی اور سماجی پالیسی سازوں کے لیے تشویش کا باعث بن گئے ہیں، ملک میں غربت کی شرح 29.9 فیصد تک پہنچ چکی ہے، جو گزشتہ برسوں کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ظاہر کرتی ہے۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال نے بتایا کہ 2018 کے بعد ملک میں غربت کے حوالے سے کوئی جامع شماریاتی رپورٹ شائع نہیں کی گئی تھی، تاہم گزشتہ سات سال کے دوران چاروں صوبوں میں غربت میں اضافہ ہوا ہے، اس رپورٹ میں پہلی بار کثیر الجہتی غربت کے اعداد و شمار بھی شامل کیے گئے ہیں، جو غربت کی مجموعی تصویر پیش کرنے میں معاون ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق شہری علاقوں میں غربت 11 فیصد سے بڑھ کر 17.
وفاقی وزیر نے کہا کہ وفاقی ترقیاتی بجٹ کا حجم کافی کم ہو گیا، اور ملکی معیشت کے استحکام کے لیے آئی ایم ایف پروگرام نافذ کرنا پڑا۔ روپے کی قدر میں کمی اور مہنگائی نے عام شہریوں کی زندگیوں کو شدید متاثر کیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ کسی ملک کی ترقی میں غربت کے تخمینے اور ان کا درست تجزیہ انتہائی اہمیت رکھتے ہیں، اور غربت کے خاتمے کے بغیر معیار زندگی کو بہتر بنانا ممکن نہیں۔
احسن اقبال نے غربت میں اضافے کی وجوہات میں پالیسی کے تسلسل میں کمی، کورونا وبا کے اثرات اور آئی ایم ایف کے پروگراموں کو قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ کہراں پاکستان کے تحت ڈسپلن اور مربوط ایجنڈا کے نفاذ کے بغیر غربت کے خاتمے کے اہداف حاصل کرنا ممکن نہیں، معاشی ناہمواری کو ختم کرنا اور غربت میں کمی لانا حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہونا چاہیے تاکہ ملک کے عوام کے لیے بہتر معیار زندگی ممکن بنایا جا سکے۔
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل فیصد سے بڑھ کر غربت کے
پڑھیں:
ہیڈ مرالہ میں پانی کی سطح میں ایک بارپھر اضافہ
سٹی 42 : سیالکوٹ میں ہیڈ مرالہ کے مقام پر پانی کی سطح میں ایک بار پھر اضافہ ہونے لگا۔
ہیڈ مرالہ میں مجموعی پانی کی آمد 1 لاکھ 95 ہزار 857 کیوسک، ہے ۔دریائے چناب میں اخراج 1 لاکھ 80 ہزار 356 کیوسک ریکارڈ کیا گیا ۔
جموں توی میں 11 ہزار 868 کیوسک جبکہ مناور توی میں 5 ہزار 747 کیوسک پانی ریکارڈ کیا گیا ۔ دریائے چناب میں بہاؤ 1 لاکھ 74 ہزار 441 کیوسک ہے ۔
پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی