Nawaiwaqt:
2026-06-02@20:41:07 GMT

وفاق کی 55 ہزار اسامیاں ختم یا مرحلہ وار ختم کی جارہی ہیں

اشاعت کی تاریخ: 21st, February 2026 GMT

وفاق کی 55 ہزار اسامیاں ختم یا مرحلہ وار ختم کی جارہی ہیں

وفاقی حکومت کی رائٹ سائزنگ کی جاری مشق کے نتیجے میں اب تک مختلف وزارتوں اور محکموں میں 55 ہزار 545 خالی آسامیوں کو ختم کیا جا چکا یا مرحلہ وار ختم کرنے کا فیصلہ کیا جا چکا ہے۔ سرکاری ذرائع کے مطابق، ساختی اصلاحات کے تحت اب تک 44 ہزار 286 خالی اسامیوں کو مکمل طور پر ختم کر دیا گیا ہے، جبکہ 11 ہزار 259 آسامیوں کو ’’ڈائنگ کیڈر‘‘ قرار دیا گیا ہے، یعنی یہ اسامیاں خالی ہونے یا موجودہ عہدیداروں کی ریٹائرمنٹ کے بعد بتدریج ختم ہو جائیں گی۔ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے ایک اعلیٰ ذریعے نے بتایا کہ یہ تازہ ترین اعداد و شمار ہیں، یہ عمل وزیرِ اعظم شہباز شریف کی تشکیل کردہ کمیٹی کی نگرانی میں جاری ہے، جس کا مقصد وفاقی حکومت کو موثر بنانا، اخراجات میں کمی اور انتظامی کارکردگی میں بہتری لانا ہے۔ 2024ء کے وسط میں شروع کی گئی اس رائٹ سائزنگ مہم میں تمام وفاقی وزارتیں، ان سے منسلک سیکڑوں محکمے اور خودمختار ادارے شامل ہیں۔ اس مشق کا بنیادی ہدف طویل عرصے سے خالی یا غیر ضروری آسامیاں ختم کرنا ہے تاکہ کم سے کم خلل کے ساتھ تنخواہوں کے بجٹ میں نمایاں کمی لائی جا سکے۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدام جاری معاشی چیلنجز کے تناظر میں بار بار کے اخراجات کو کم کرنے اور وفاقی افرادی قوت کے حجم کو معقول بنانے کیلئے کیا جا رہا ہے۔ 2024 میں کابینہ نے وفاقی حکومت میں تقریباً ایک لاکھ 50 ہزار آسامیوں کے خاتمے کی منظوری دی تھی، ساتھ ہی آرمی ایکٹ میں ترمیم کی اجازت دی گئی تھی تاکہ رائٹ سائزنگ سے متاثرہ ملازمین کیلئے مالی پیکیج فراہم کیا جا سکے۔ کابینہ کے فیصلے کے مطابق تقریباً ڈیڑھ لاکھ خالی آسامیوں میں سے 60 فیصد کو ختم یا ڈائنگ پوسٹس قرار دیا جانا تھا۔ پنشن کے بوجھ میں کمی کیلئے کابینہ نے یہ بھی فیصلہ کیا تھا کہ صفائی، پلمبنگ، باغبانی اور دیگر عمومی و غیر بنیادی خدمات سے متعلق تمام آسامیوں کو آؤٹ سورس کیا جائے۔ حکومت کو توقع ہے کہ اس اقدام سے وفاقی حکومت میں گریڈ ایک تا 16 تک کے عملے کی تعداد میں نمایاں کمی آئے گی اور پنشن اخراجات میں بھی خاطر خواہ کمی ہوگی۔ کابینہ نے وزارتوں اور ڈویژنز میں تمام کنٹیجنسی پوسٹس کے خاتمے کی بھی منظوری دی تھی۔ ذرائع کے مطابق، حکومت نے دانستہ طور پر خالی آسامیوں پر توجہ مرکوز کی تاکہ حاضر سروس ملازمین کی برطرفیوں سے گریز کیا جا سکے۔ ڈائنگ کیڈر قرار دی گئی آسامیاں وقت کے ساتھ ختم ہوتی جائیں گی، جس سے بغیر فوری بے دخلی کے عملے کی تعداد میں تدریجی کمی ممکن ہو سکے گی۔ وفاقی حکومت میں ماضی میں لاکھوں منظور شدہ آسامیوں کی منظوری موجود تھی، جن میں سے ایک بڑی تعداد برسوں سے خالی تھی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: وفاقی حکومت سامیوں کو ا سامیوں خالی ا کیا جا

پڑھیں:

سونے کی فی تولہ قیمت میں پھر سے ہزاروں روپے کا اضافہ

عالمی و مقامی مارکیٹوں میں منگل کو سونے اور چاندی کی قیمتوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

عالمی بلین مارکیٹ میں سونا 46 ڈالر کے اضافے سے 4540 ڈالر فی اونس کی سطح پر پہنچ گیا۔

بین الاقوامی مارکیٹ میں سونے کے نرخ میں اضافے کے باعث مقامی سطح پر بھی فی تولہ سونا 4600 روپے کے اضافے سے 4 لاکھ 76 ہزار 362 روپے پر جاپہنچا۔

مزید پڑھیں

سونے کی قیمت میں بڑی کمی، چاندی کے نرخ بڑھ گئے

سونے کی فی تولہ قیمت میں پھر سے ہزاروں روپے کا اضافہ

اسی طرح دس گرام سونے کی قیمت بھی 3944 روپے کے اضافے سے 4 لاکھ 8 ہزار 403 روپے ہوگئی۔

دوسری جانب چاندی کی فی تولہ قیمت 94 روپے کے اضافے سے 8153 روپے ہوگئی۔

متعلقہ مضامین

  • ملک بھر میں گدھوں، گھوڑوں، خچروں کی تعداد میں اضافہ
  • شازیہ مری کا گلگت بلتستان الیکشن میں وفاقی حکومت پر سرکاری وسائل کے استعمال کا الزام
  • حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
  • گورنرخیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کی وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال سے ملاقات، دینار ہسپتال ڈی آئی خان کیلئے ریڈیالوجی مشینری اور طبی آلات کی فراہمی پر تبادلہ خیال
  • سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
  • پاکستان میں سونے کی قیمت میں پھر بڑا اضافہ
  • کراچی: ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا
  • سونے کی فی تولہ قیمت میں پھر سے ہزاروں روپے کا اضافہ
  • طلبہ اور بے روزگار نوجوانوں کو 50ہزار ای بائیکس ،5 ہزار ای ٹیکسیاں بلاسود دینے کا فیصلہ
  • اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا