لاہور ہائیکورٹ میں اینٹی ریپ ایکٹ کیس کی سماعت کے لیے تاریخ مقرر
اشاعت کی تاریخ: 21st, February 2026 GMT
لاہور ہائیکورٹ نے اینٹی ریپ ایکٹ پر عملدرآمد سے متعلق کیس کی سماعت کے لیے تاریخ مقرر کر دی ہے۔ عدالت نے پنجاب حکومت سے تفصیلی رپورٹ طلب کر رکھی ہے۔
چیف جسٹس مس عالیہ نیلم کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ 24 فروری کو کیس کی سماعت کرے گا۔ بینچ کے دیگر اراکین میں جسٹس فاروق حیدر اور جسٹس علی ضیاء باجوہ شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: سکھر رینج پولیس کی جامع کارکردگی: کتنے ڈاکو مارے، ہنی ٹریپ سے کتنے بچائے؟
عدالت نے ایڈووکیٹ جنرل پنجاب امجد پرویز کو ذاتی حیثیت میں طلب کر رکھا ہے۔
اس دوران، زیادتی کے ملزم واجد علی اور سلمان نے ضمانت بعد از گرفتاری کی درخواست دائر کر رکھی ہے۔ ملزمان نے درخواست میں اینٹی ریپ ایکٹ کے مطابق میڈیکل نہ ہونے کا اعتراض اٹھایا ہے۔
درخواست گزار نے میاں داؤد ایڈووکیٹ کی وساطت سے ضمانت کی درخواست دائر کی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
پڑھیں:
باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ مالی مشکلات یا کسی نجی معاہدے کی بنیاد پر باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا اور یہ ذمہ داری اسلامی تعلیمات کے مطابق مستقل اور قابل نفاذ فریضہ ہے۔جسٹس محسن اختر کیانی نے 15 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے باپ اختر حسین اعوان کی درخواست خارج کر دی اور فیملی کورٹ و اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے۔عدالت نے قرار دیا کہ نابالغ بچے کا نان و نفقہ صرف قانونی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمہ داری بھی ہے۔ غیر ادا شدہ نان و نفقہ باپ پر قرض تصور ہوگا جو وقت گزرنے سے ختم نہیں ہو سکتا۔فیصلے میں سور البقرہ، سور الطلاق اور متعدد احادیث نبوی کے حوالے دیتے ہوئے کہا گیا کہ معاہدے یا رضامندی کے ذریعے نابالغ بچے کے حقوق ختم نہیں کیے جا سکتے، خصوصا جب بچہ معذوری کی حالت میں ہو۔(جاری ہے)
درخواست گزار کا موقف تھا کہ 2005 میں فریقین کے درمیان ہونے والے رضامندی نامے کے تحت تاحیات خرچہ طے ہو چکا تھا اور ماضی کے نان و نفقہ کی وصولی قانونا چھ سال سے زائد مدت کے لیے نہیں کی جا سکتی۔عدالت نے ماضی کے نان و نفقہ سے متعلق اسلامی اصولوں کی روشنی میں نئی قانون سازی کی سفارش کرتے ہوئے فیصلے کی نقل لا اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارت قانون و انصاف کو ارسال کرنے کا حکم بھی دیا۔