data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

مقبوضہ بیت المقدس: اسرائیل میں تعینات امریکی سفیر مائک ہکابی کے ایک حالیہ انٹرویو نے عالمی سفارتی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

خبر رساں اداروں کے مطابق  ایک ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بائبل کے حوالے سے یہ مؤقف اختیار کیا کہ اسرائیل کو وسیع خطے پر کنٹرول حاصل کرنے کا حق ہے، جس پر مختلف ممالک اور بین الاقوامی اداروں نے شدید ردعمل ظاہر کیا ہے۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی سفیر نے مشرقِ وسطیٰ کی ممکنہ جغرافیائی حدود سے متعلق سوال پر کہا کہ تاریخی اور مذہبی حوالوں کی روشنی میں اسرائیل کے دعوے کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

دوسری جانب ان کے اس بیان کو بعض مبصرین نے ’گریٹر اسرائیل‘ کے نظریے سے جوڑا ہے، جس میں دریائے نیل سے لے کر دریائے فرات تک کے علاقے کا تصور شامل کیا جاتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ نظریہ شدت پسند حلقوں میں پایا جاتا ہے اور اس کا عملی سیاست سے تعلق انتہائی حساس نوعیت کا ہے۔

یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب مغربی کنارے میں زمین کو نام نہاد ریاستی اراضی قرار دینے کے اسرائیلی اقدام پر دنیا کے متعدد ممالک پہلے ہی تشویش کا اظہار کر چکے ہیں۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتیریس نے اس اقدام کو غیر قانونی اور خطے میں عدم استحکام کا سبب قرار دیتے ہوئے اسے واپس لینے کا مطالبہ کیا تھا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق امریکی سفیر کا بیان نہ صرف سفارتی آداب کے حوالے سے اہمیت رکھتا ہے بلکہ اس سے امریکا کی مشرقِ وسطیٰ پالیسی پر بھی سوالات اٹھ سکتے ہیں۔ کئی یورپی اور عرب ممالک نے دو ریاستی حل کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ یکطرفہ بیانات خطے میں امن کی کوششوں کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ ایسے بیانات حساس حالات میں کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں، خصوصاً جب غزہ اور مغربی کنارے کی صورتحال پہلے ہی غیر مستحکم ہو۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ آیا واشنگٹن اس بیان کی وضاحت کرتا ہے یا اسے ذاتی رائے قرار دیا جاتا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: امریکی سفیر

پڑھیں:

سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل

نیتن یاہو - فوٹو: فائل

اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔ 

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔

خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔

سعودی عرب سے جوہری معاہدہ، ٹرمپ نے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط رکھ دی

اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔

صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔

تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔

متعلقہ مضامین

  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بے قابو، فی بیرل 100 ڈالر سے متجاوز
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل