’خدا نے یہ زمین اسرائیل کو دی ہے‘ امریکی سفیر کے بیان نے نئی بحث چھیڑ دی
اشاعت کی تاریخ: 21st, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
مقبوضہ بیت المقدس: اسرائیل میں تعینات امریکی سفیر مائک ہکابی کے ایک حالیہ انٹرویو نے عالمی سفارتی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
خبر رساں اداروں کے مطابق ایک ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بائبل کے حوالے سے یہ مؤقف اختیار کیا کہ اسرائیل کو وسیع خطے پر کنٹرول حاصل کرنے کا حق ہے، جس پر مختلف ممالک اور بین الاقوامی اداروں نے شدید ردعمل ظاہر کیا ہے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی سفیر نے مشرقِ وسطیٰ کی ممکنہ جغرافیائی حدود سے متعلق سوال پر کہا کہ تاریخی اور مذہبی حوالوں کی روشنی میں اسرائیل کے دعوے کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
دوسری جانب ان کے اس بیان کو بعض مبصرین نے ’گریٹر اسرائیل‘ کے نظریے سے جوڑا ہے، جس میں دریائے نیل سے لے کر دریائے فرات تک کے علاقے کا تصور شامل کیا جاتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ نظریہ شدت پسند حلقوں میں پایا جاتا ہے اور اس کا عملی سیاست سے تعلق انتہائی حساس نوعیت کا ہے۔
یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب مغربی کنارے میں زمین کو نام نہاد ریاستی اراضی قرار دینے کے اسرائیلی اقدام پر دنیا کے متعدد ممالک پہلے ہی تشویش کا اظہار کر چکے ہیں۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتیریس نے اس اقدام کو غیر قانونی اور خطے میں عدم استحکام کا سبب قرار دیتے ہوئے اسے واپس لینے کا مطالبہ کیا تھا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق امریکی سفیر کا بیان نہ صرف سفارتی آداب کے حوالے سے اہمیت رکھتا ہے بلکہ اس سے امریکا کی مشرقِ وسطیٰ پالیسی پر بھی سوالات اٹھ سکتے ہیں۔ کئی یورپی اور عرب ممالک نے دو ریاستی حل کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ یکطرفہ بیانات خطے میں امن کی کوششوں کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ ایسے بیانات حساس حالات میں کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں، خصوصاً جب غزہ اور مغربی کنارے کی صورتحال پہلے ہی غیر مستحکم ہو۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ آیا واشنگٹن اس بیان کی وضاحت کرتا ہے یا اسے ذاتی رائے قرار دیا جاتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: امریکی سفیر
پڑھیں:
بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
اپنے ایک جاری بیان میں بحرینی وزارت داخلہ کا کہنا تھا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کیخلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ اسلام ٹائمز۔ آج "بحرین" کی وزارت داخلہ نے نام نہاد علاقائی سیکورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے، اپنے شہریوں کو تا حکم ثانوی "ایران" اور "عراق" کے سفر سے روک دیا۔ مذکورہ ملک کی وزارت داخلہ نے کہا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ بحرین نے الزام لگایا کہ اس نے یہ فیصلہ ایرانی جارحیت کے نتیجے میں پیدا ہونے والی موجودہ سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر کیا۔ جس کا مقصد ملک کی سلامتی کو برقرار رکھنا اور بحرینی شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔ حالانکہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ جنگِ رمضان کے دوران ایران کے خلاف کھلی امریکی و صیہونی جارحیت میں بحرین برابر کا شریک ہے۔ خطے کا سب سے بڑا امریکی اڈہ بھی اسی ملک میں موجود ہے۔ ان اڈوں کے خلاف ایران کی جوابی کاری ضربوں نے بحرین کو شدید متاثر کیا۔ جس کی وجہ سے اُسے اقتصادی مشکلات کا سامنا ہے۔ مزید برآں کہ درست سفارتی فیصلوں کی بجائے "منامہ" اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہے۔ جس سے اُسے مزید سنگین نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔