کراچی میں ٹینکر سسٹم بند کرو، لوگوں کو لائنوں سے پانی دو: ہائیکورٹ
اشاعت کی تاریخ: 21st, February 2026 GMT
—فائل فوٹو
سندھ ہائی کورٹ کے آئینی بینچ نے کراچی واٹر کارپوریشن کے حکام پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میئر نے تو کہا تھا کہ ہم لائن کے ذریعے پانی فراہم کریں گے۔
اورنگی ٹاؤن میں شہری کے گھر پانی کی عدم فراہمی سے متعلق درخواست پر سماعت ہوئی۔
دورانِ سماعت عدالت نے سپرنٹنڈنٹ کراچی واٹر کارپوریشن سے سوال کیا کہ لوگوں کو پانی کیوں نہیں دے رہے؟ درخواست گزار کے گھر تک پانی پہنچائیں۔
کراچی واٹر کارپوریشن کے وکیل نے کہا کہ پرانی لائنیں ہیں، بجلی کی لوڈشیڈنگ بھی ہے۔
یہ بھی پڑھیے کراچی، مختلف علاقوں میں پانی کا بدترین بحران، شہری بوند بوند کو ترس گئے نوے فیصد کراچی پانی خرید کر پی رہا ہے، مصطفیٰ کمالجس پر جسٹس عدنان کریم میمن نے کہا کہ تو لائنیں بناؤ، کچھ خرچ عوام پر بھی کریں۔
سپرنٹنڈنٹ کراچی واٹر کارپوریشن نے عدالت کو بتایا کہ ہمیں پیچھے سے بھی پانی بہت کم مل رہا ہے۔
جسٹس عدنان کریم میمن نے سوال کیا کہ تو پھر ٹینکرز والوں کو پانی کہاں سے ملتا ہے؟ ٹینکرز والے تو پورے کراچی کو پانی پہنچا رہے ہیں، جب ٹینکرز کے ذریعے پانی مل رہا ہے تو لائن کے ذریعے کیوں نہیں دیا جا رہا؟ اس کا مطلب ہے پانی موجود ہے لیکن لائنوں کے ذریعے نہیں دے رہے۔
سپرنٹنڈنٹ کراچی واٹر کارپوریشن نے کہا کہ ٹینکرز والے غیر قانونی ہائیڈرنٹس سے بھی پانی لیتے ہیں۔
عدالت نے کہا کہ قانونی ہو یا غیر قانونی، شہریوں کو پانی گھروں تک ملنا چاہیے، ٹینکر سسٹم بند کرو، لوگوں کو لائنوں کے ذریعے پانی دو، ہم اس درخواست پر سخت فیصلہ کریں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: کراچی واٹر کارپوریشن نے کہا کہ کے ذریعے کو پانی
پڑھیں:
حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ”(targeted subsidy) بنانے کے لیے نیا سسٹم متعارف کرا دیا ۔ جس کے تحت اب صارفین کو اپنی شناخت اور گھریلو معلومات کی تصدیق کرنا ہوگی۔
صارف جب کیو آر کوڈ اسکین کرتا ہے تو اسے ایک آن لائن پورٹل پر لے جایا جاتا ہے۔ اس پورٹل پر شناختی کارڈ ، موبائل نمبر اور بجلی کے میٹر کی تفصیلات درج کرنا ہوتی ہیں۔ اس کے بعد ون ٹائم پاس ورڈ کے ذریعے تصدیق مکمل کی جاتی ہے۔
حکام کے مطابق اس نظام کا مقصد ایک ہی خاندان کے مختلف افراد کے نام پر موجود متعدد میٹرز کو چیک کرنا ہے ۔ یہ بھی دیکھا جا سکے گا کہ کم یونٹس استعمال کرنے والا صارف واقعی مستحق ہے یا نہیں ۔
ذرائع کے مطابق اس عمل میں نادرا ، بجلی تقسیم کار کمپنیوں اور دیگر سرکاری ڈیٹا بیسز سے حاصل معلومات کو ملا کر صارف کی معاشی حیثیت کا جائزہ لیا جائے گا۔ یعنی اب سبسڈی صرف بجلی کے استعمال پر نہیں بلکہ گھرانے کی مجموعی صورتحال پر دی جائے گی۔
پاور ڈویژن کے مطابق اس وقت2 کروڑ 95 لاکھ 70 ہزار یعنی 86 فیصد گھریلو صارفین کو سبسڈی فراہم کی جارہی ہے۔ سبسڈی کا حجم 199 ارب سے بڑھ کر 423 ارب روپے تک پہنچ گیا۔ زرعی اور گھریلو شعبے کو 527 ارب روپے کی سبسڈی مل رہی ہے۔
حکام کے مطابق کیو آر کوڈ سسٹم کے ذریعے اہل صارفین کو بلاتعطل سبسڈی کی فراہمی جاری رہے گی۔دوسری طرف اس نئے نظام پر سوالات بھی اٹھ رہے ہیں کہ کیا صارفین کا ذاتی ڈیٹا محفوظ ہے؟ اور کیا تصدیق نہ کرنے کی صورت میں سبسڈی ختم ہو سکتی ہے؟
مزید پڑھیں:کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف
ادھر حکومت نے صارفین کو خبردار کیا ہے کہ جعلی کیو آر کوڈز اور لنکس سے محتاط رہیں ۔ کسی بھی غیر مصدقہ پلیٹ فارم پر اپنی ذاتی معلومات ہرگز شیئر نہ کریں۔