data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

امریکا کے ری پبلکن سینیٹر لنزے گراہم نے غزہ میں اسرائیل کی کارروائی کی کھل کر حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ فوجی ضرورت تھی اور اسے دوسری عالمی جنگ سے تشبیہ دی جا سکتی ہے۔

انٹرویو میں میزبان نے سوال کیا کہ 7 اکتوبر کے بعد غزہ میں ہونے والے قتل عام خاص طور پر بچوں اور غیر عسکری شہریوں کے حوالے سے مسیحی اقدار کے مطابق نہیں ہیں۔ اس پر گراہم نے کہا کہ ہم نے دوسری عالمی جنگ میں کیا کیا تھا؟ ہم نے ہر شہر پر بم پھینک کر انہیں تباہ کر دیا، یہ جنگ ہے۔

جب میزبان نے پوچھا کہ کیا آپ 7 اکتوبر کا موازنہ دوسری عالمی جنگ سے کر رہے ہیں، تو گراہم نے کہا کہ بالکل، یہ یہودی ریاست کے وجود کا خطرہ تھا اور 1200 افراد ذبح، ریپ اور قتل کیے گئے، جو ریڈیکل اسلام پسند تھے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل کی جگہ میں، وہ بھی وہی کرتے جو اسرائیل نے کیا کیونکہ فوجی کامیابی کے بغیر انتہا پسندی کو توڑنے کا اور کوئی طریقہ نہیں۔

گراہم نے مزید کہا کہ زیادہ تر امریکی ری پبلکن ویسا ہی سوچتے ہیں جیسا وہ سوچتے ہیں اور جب معاملہ ریڈیکل اسلام کا آئے تو وہ ہمیشہ اسرائیل کے ساتھ رہیں گے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: گراہم نے کہا کہ

پڑھیں:

چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا

اسلام آباد: چیزیئس ٹیکس ریکوری کا معاملہ اس وقت توجہ کا مرکز بن گیا ہے جب ریجنل ٹیکس آفس (آر ٹی او) ساہیوال نے ایک کارروائی کے دوران معروف فوڈ چین سے 40 لاکھ روپے قومی خزانے میں جمع کروائے۔

محکمہ ریونیو کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق کارروائی انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 175 سی کے تحت کی گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ نگرانی کے دوران کمپنی کی جانب سے ظاہر کردہ فروخت اور زمینی حقائق میں نمایاں فرق سامنے آیا تھا جس کے بعد تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔

ذرائع کے مطابق آر ٹی او ساہیوال کی خصوصی ٹیم نے کاروباری مقام پر فروخت کی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔ اس دوران حاصل ہونے والے اعداد و شمار سے معلوم ہوا کہ ریکارڈ میں درج فروخت اور حقیقی کاروباری حجم میں فرق موجود ہے۔

ابتدائی جانچ مکمل ہونے کے بعد متعلقہ ادارے نے قانونی کارروائی شروع کی اور کمپنی کو واجب الادا رقم جمع کرانے کی ہدایت کی گئی۔ بعد ازاں 40 لاکھ روپے کی رقم قومی خزانے میں جمع کرا دی گئی۔

ماہرین کے مطابق اس نوعیت کی کارروائیاں ٹیکس نظام میں شفافیت بڑھانے اور کاروباری اداروں کو درست مالی ریکارڈ برقرار رکھنے کی ترغیب دیتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹیکس قوانین پر عمل درآمد سے نہ صرف سرکاری آمدنی میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ معیشت کی دستاویزی شکل کو بھی فروغ ملتا ہے۔

حکام نے واضح کیا ہے کہ چیزیئس ٹیکس ریکوری سمیت تمام ایسے معاملات میں قانون کے مطابق کارروائی جاری رکھی جائے گی تاکہ ٹیکس نظام کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
  • خانیوال پل حادثے کی انکوائری مکمل‘پاکستان ریلویز نے دو افسران کو ملازمت سے فارغ کر دیا
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
  • اسمبلی کارروائی پیپر لیس کرنے کیلئے پنجاب اسمبلی میں جدید ٹیبلٹس کی تنصیب
  • امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
  • میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
  • چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا
  • امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان