جموں، مشن سٹیٹ ہڈ کے کارکنوں کا شراب کی فروخت کے خلاف مظاہرہ
اشاعت کی تاریخ: 21st, February 2026 GMT
سنیل ڈمپل نے کہا کہ حکومت کو چاہیے کہ وہ اسمبلی کے جاری اجلاس میں منشیات فروشوں کو سخت سزا دینے کے لیے بل پاس کرے۔ اسلام ٹائمز۔ بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں ”مشن سٹیٹ ہڈ" کے کارکنوں نے شراب کی فروخت کے خلاف جموں میں احتجاجی مظاہرہ کیا اور اس پر مکمل پابندی لگانے کا مطالبہ کیا۔ ذرائع کے مطابق مشن سٹیٹ ہڈ کے صدر سنیل ڈمپل نے مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جموں شراب کی دکانوں کا مرکز بن چکا ہے اور اگر جلد ہی شراب کی فروخت پر پابندی کا مطالبہ تسلیم نہ کیا گیا تو بڑے پیمانے پر احتجاج کیا جائے گا۔ انہوں نے جموں، کٹرا اور دیگر مقامات میں شراب کی فروخت پر مکمل پابندی لگانے کا مطالبہ کیا۔ سنیل ڈمپل نے کہا کہ حکومت کو چاہیے کہ وہ اسمبلی کے جاری اجلاس میں منشیات فروشوں کو سخت سزا دینے کے لیے بل پاس کرے۔ مظاہرے میں مہندر کمار، دیو راج، وپن، مکیش، راکیش شرما، کالا کمار، ستونت سنگھ، رام کمار داس، اکبر خان، شفیع خان، نذیر احمد، محمد ناصر اور دیگر شریک تھے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: شراب کی فروخت
پڑھیں:
گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ
اسلام آباد: مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے دعوؤں کی حقیقت سامنے آگئی ہے۔ مختلف پلیٹ فارمز پر یہ خبریں وائرل ہو رہی تھیں کہ عیدالاضحیٰ سے قبل مری میں غیر شادی شدہ مردوں یا بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے، تاہم سرکاری وضاحت نے ان دعوؤں کو غلط قرار دے دیا ہے۔
سوشل میڈیا پوسٹس میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ دفعہ 144 کے نفاذ کے بعد مری شہر میں صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت ہوگی جبکہ بیچلرز کو مکمل طور پر روک دیا گیا ہے۔ تاہم ضلعی انتظامیہ کے مطابق ایسی کوئی پابندی پورے مری شہر پر نافذ نہیں کی گئی۔
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود تھی، جہاں سیاحوں کے رش اور نظم و ضبط کو برقرار رکھنے کے لیے اکیلے آنے والے مردوں اور بیچلرز گروپس کے داخلے پر عارضی پابندی لگائی گئی تھی۔ فیملیز کو معمول کے مطابق مال روڈ جانے کی اجازت دی گئی تھی۔
ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) مری کامران صغیر کے مطابق دفعہ 144 کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا اور 31 مئی تک نافذ رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ مری شہر میں آنے والے تمام سیاحوں کے لیے راستے کھلے تھے اور بیچلرز کے شہر میں داخلے پر کوئی مکمل پابندی نہیں تھی۔
ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں بھی واضح کیا گیا تھا کہ یہ اقدام صرف سیاحتی سہولیات بہتر بنانے اور ہجوم کو منظم رکھنے کے لیے کیا گیا تھا۔
اس طرح مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی کے حوالے سے وائرل ہونے والا دعویٰ حقیقت کے برعکس ثابت ہوا۔ مری بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے جبکہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص علاقے تک محدود رہی۔