مقبوضہ کشمیر، صحت کی دیکھ بال کا شعبہ شدید بحران کا شکار
اشاعت کی تاریخ: 21st, February 2026 GMT
محکمہ صحت اور طبی تعلیم نے رکن اسمبلی رنبیر سنگھ پٹھانیا کے تحریری جواب میں انکشاف کیا کہ ان اسامیوں میں 24 سینئر کنسلٹنٹس، 253 کنسلٹنٹس، 458 میڈیکل آفیسرز اور 67 ڈینٹل سرجن شامل ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں صحت کی دیکھ بھال کے شعبے کو افرادی قوت کے شدید بحران کا سامنا ہے اور ڈاکٹروں کی 802 اسامیاں خالی ہیں۔ ذرائع کے مطابق ان اعداد و شمار کا انکشاف عمر عبداللہ کی سربراہی میں قائم نیشنل کانفرنس کی حکومت نے اسمبلی میں کیا۔ محکمہ صحت اور طبی تعلیم (ایچ اینڈ ایم ای) نے رکن اسمبلی رنبیر سنگھ پٹھانیا کے تحریری جواب میں انکشاف کیا کہ ان اسامیوں میں 24 سینئر کنسلٹنٹس، 253 کنسلٹنٹس، 458 میڈیکل آفیسرز اور 67 ڈینٹل سرجن شامل ہیں۔مقبوضہ وادی کشمیر کے دور دراز کے تمام ہسپتالوں میں کنسلٹنٹ کے عہدوں کی ایک قابل ذکر تعداد خالی پڑی ہے، جس سے خصوصی صحت کی دیکھ بھال کی خدمات بری طرح متاثر ہو رہی ہیں۔ جواب میں مزید کہا گیا ہے کہ میڈیکل آفیسرز کی 480 آسامیاں بھرتی کے لیے پبلک سروس کمیشن کو بھیجی گئی ہیں، کنسلٹنٹ کی آسامیاں، جو جدید طبی دیکھ بھال فراہم کرنے کے لیے اہم ہیں، کو ابھی تک سلیکشن کے لیے بھیجا جانا باقی ہے، جس سے مقبوضہ وادی میں ضروری خدمات میں ایک بڑا خلا پیدا ہو گیا ہے۔ ان کلیدی عہدوں کو پر کرنے میں مسلسل تاخیر نے معیاری صحت کی دیکھ بھال تک رسائی کے بارے میں سنگین خدشات کو جنم دیا ہے۔ یاد رہے کہ مودی مقبوضہ علاقے میں تعمیر و ترقی کے بلند بانگ دعوے کر رہی ہے تاہم یہ اعداد و شمار ان دعوﺅں کا منہ چڑھا رہے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: صحت کی دیکھ دیکھ بھال
پڑھیں:
مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔
واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔