پاکستان نے بنگلا دیش کے خلاف ون ڈے سیریز کے شیڈول کا اعلان کر دیا
اشاعت کی تاریخ: 21st, February 2026 GMT
آئی سی سی مینز ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کے بعد پاکستان اور بنگلا دیش کے درمیان ون ڈے سیریز کے شیڈول کا اعلان کر دیا گیا۔ پاکستان مینز کرکٹ ٹیم مارچ میں بنگلادیش کا دورہ کرے گی جہاں دونوں ٹیموں کے درمیان تین ون ڈے انٹرنیشنل میچوں پر مشتمل سیریز کھیلی جائے گی۔ شیڈول کے مطابق قومی ٹیم 9 مارچ کو بنگلادیش پہنچے گی جبکہ 10 مارچ کو کھلاڑی پریکٹس سیشن میں حصہ لیں گے۔ تین میچوں کی سیریز کا پہلا ون ڈے 11 مارچ کو، دوسرا 13 مارچ جبکہ تیسرا اور آخری میچ 15 مارچ کو کھیلا جائے گا۔ سیریز کے تمام مقابلے شیرِ بنگلا نیشنل کرکٹ اسٹیڈیم میں منعقد ہوں گے۔یہ گزشتہ برس جولائی کے بعد پاکستان ٹیم کا بنگلادیش کا دوسرا دورہ ہوگا۔ جولائی میں کھیلی گئی ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل سیریز میں میزبان ٹیم نے کامیابی حاصل کی تھی۔ اس سے قبل مئی اور جون میں بنگلادیشی ٹیم نے پاکستان کا دورہ کیا تھا اور سلمان علی آغا کی قیادت میں پاکستان نے تین میچوں کی ٹی ٹوئنٹی سیریز تین صفر سے اپنے نام کی تھی۔ آئندہ ون ڈے سیریز دونوں ٹیموں کے لیے اہمیت کی حامل قرار دی جا رہی ہے کیونکہ یہ مقابلے مستقبل کے بڑے ایونٹس کی تیاری میں مددگار ثابت ہوں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
یورپی یونین نے سرچ انجن کے شعبے میں مبینہ اجارہ داری کا غلط استعمال کرنے پر گوگل کے خلاف بڑا اقدام کرتے ہوئے کمپنی پر 89 کروڑ یورو (تقریباً ایک ارب امریکی ڈالر)کا جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ گوگل نے اپنی بالادست پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حریف کمپنیوں کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ اختیار کیا اور اپنی مختلف سروسز کو ناجائز برتری فراہم کی۔
یورپی کمیشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گوگل نے سرچ انجن میں اپنی مضبوط پوزیشن استعمال کرتے ہوئے شاپنگ، ٹریول، گیمز اور دیگر سروسز کو سرچ نتائج میں نمایاں جگہ دی، جبکہ حریف کمپنیوں کی سروسز کو نیچے دکھایا گیا، جس سے منصفانہ مسابقت متاثر ہوئی۔
کمیشن نے کہا کہ یہ طرزِ عمل ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ (Digital Markets Act) کی خلاف ورزی ہے، جس کے تحت بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اپنی سروسز کے حق میں امتیازی یا جانبدارانہ رویہ اختیار کرنے کی اجازت نہیں۔
یورپی کمیشن نے گوگل پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ کمپنی نے گوگل پلے اسٹور پر ایپ ڈویلپرز کو صارفین کو متبادل ادائیگی کے طریقوں سے آگاہ کرنے سے روکا، تاکہ گوگل کی سروس فیس برقرار رہے۔ کمیشن کے مطابق یہ عمل بھی ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے، جس کا مقصد بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی اجارہ داری کو روکنا ہے۔
کمیشن نے گوگل کو ہدایت کی ہے کہ وہ 60 دن کے اندر فیصلے پر عملدرآمد کرے، بصورت دیگر کمپنی کو مزید جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔دوسری جانب گوگل نے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی کمیشن کے اس اقدام سے یورپی صارفین اور کاروباری اداروں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ یورپی یونین نے گوگل کے خلاف کارروائی کی ہو۔ 2018 میں اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم میں اجارہ داری کے الزام پر گوگل پر 4.7 ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کیا گیا تھا، جبکہ 2017 میں سرچ انجن کے شعبے میں مسابقتی قوانین کی خلاف ورزی پر کمپنی کو 2.8 ارب ڈالر جرمانے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بعد ازاں ان مقدمات میں گوگل کی اپیلیں بھی مسترد کر دی گئی تھیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تازہ کارروائی سے یورپی یونین اور امریکا کے درمیان تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، کیونکہ امریکی انتظامیہ اس سے قبل یورپی یونین کی بعض تجارتی اور ڈیجیٹل پالیسیوں پر تحفظات کا اظہار کر چکی ہے۔