باجوڑ دھماکے کے سہولت کاروں کے سروں کی قیمت مقرر، آپریشن متوقع
اشاعت کی تاریخ: 21st, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
پشاور: خیبرپختونخوا حکومت نے باجوڑ میں ہونے والے ہولناک خودکش دھماکے کے بعد سخت ردعمل دیتے ہوئے سہولت کاروں اور معاونین کے خلاف بڑے ایکشن کا فیصلہ کرلیا ہے۔
محکمہ انسداد دہشت گردی کے ذرائع کے مطابق 3 اہم سہولت کاروں کے سروں کی مجموعی طور پر پانچ کروڑ روپے قیمت مقرر کی گئی ہے اور ان کے خلاف بھرپور کارروائی کی تیاری مکمل کرلی گئی ہے۔
یاد رہے کہ 16 فروری 2026 کو باجوڑ کی ملنگی پوسٹ پر خودکش حملے میں دو بے گناہ شہریوں سمیت 11 سیکیورٹی اہلکار شہید ہوگئے تھے۔ اس افسوسناک واقعے نے نہ صرف صوبے بلکہ پورے ملک میں غم و غصے کی لہر دوڑا دی تھی۔
تحقیقات کے دوران سامنے آنے والی معلومات کے مطابق حملہ آور کا تعلق افغانستان سے تھا اور اس کی شناخت احمد عرف قاری عبداللہ ابوذر کے نام سے ہوئی۔
ذرائع کے مطابق مذکورہ حملہ آور افغانستان کے صوبہ بلخ کا رہائشی تھا اور ماضی میں طالبان کی اسپیشل فورسز کا حصہ بھی رہ چکا تھا۔ سیکورٹی اداروں کا کہنا ہے کہ حملے کی منصوبہ بندی اور سہولت کاری مقامی نیٹ ورک کے ذریعے کی گئی جسے اب مکمل طور پر بے نقاب کرنے کا عزم ظاہر کیا گیا ہے۔
سی ٹی ڈی حکام کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کے اس نیٹ ورک کو توڑنے کے لیے خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر چھاپے مارے جائیں گے اور سرحدی نگرانی کو مزید سخت کیا جائے گا۔
حکومت کا مؤقف ہے کہ دہشت گردوں کے سہولت کار دراصل وہ کڑی ہوتے ہیں جو ایسے حملوں کو ممکن بناتے ہیں، اس لیے ان کے خلاف کارروائی فیصلہ کن ہوگی۔ سیاسی اور عسکری حلقوں کا کہنا ہے کہ اس واقعے کے بعد صوبے میں انسداد دہشت گردی کی حکمت عملی پر نظرثانی کی جا رہی ہے۔
سیکورٹی ماہرین کے مطابق انعامی رقم کا اعلان عوام کو معلومات فراہم کرنے کی ترغیب دینے کے لیے کیا گیا ہے تاکہ دہشت گردوں کے سہولت کار جلد قانون کی گرفت میں آسکیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کے مطابق
پڑھیں:
آپریشن سندور کی ناکامی پر بھارتی حکومت کا بیانیہ اپنے ہی شہریوں نے زمین بوس کر دیا
پروپیگنڈا اور گمراہ کن دعوؤں کے برعکس بھارتی نوجوان نے شکست خوردہ مودی حکومت کو آئینہ دکھا دیا۔
دہلی میں بھارتی مظاہرین نے آپریشن سندور میں شکست اورناکامی کو چھپانے کیلئےفوجیوں کی ہلاکت کو دبانے کے پاکستانی مؤقف کی تائید کر دی۔ دہلی میں مظاہرین نے تشدد کرنےوالے پولیس اہلکاروں کو مخاطب کر کے کہاکہ حکومت نے آپریشن سندور میں ہلاک ہونے والے فوجیوں کی شناخت اور ان کی قربانیوں کو عوام سے چھپایا۔
مظاہرین کا کہنا تھا کہ جو حکومت اپنے فوجیوں کی قربانیوں کو نظر انداز کرے، وہ کسی بھی اہلکار کے ساتھ ایسا کر سکتی ہے ، حکومت کو پولیس اور فوجی جوانوں کی زندگیوں اور قربانیوں کی کوئی پروا نہیں ہے۔
آپریشن سندور میں ہلاک ہونے والے فوجی جوانوں کے نام اور قربانیوں کو حکومتی سطح پر نظر انداز کیا گیا، تم حکومت کا ساتھ دیتے ہو،لیکن یہی حکومت تمہاری موت کے بعد تمہاری شناخت تک چھپا دیتی ہے۔
بھارتی عوام کا مودی کے خلاف اپنے غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے ان کے پوسٹر پھاڑ رہے ہیں اور ان کی تصویر پر چپلیں برسا رہے ہیں۔