بنوں: فورسز کے قافلے پر فتنہ الخوارج کا حملہ، پاک فوج کے لیفٹیننٹ کرنل اور سپاہی شہید WhatsAppFacebookTwitter 0 21 February, 2026 سب نیوز

راولپنڈی:(آئی پی ایس۹ بنوں میں سکیورٹی فورسز کے قافلے پر فتنہ الخوارج کے حملے میں پاک فوج کے لیفٹیننٹ کرنل اور ایک سپاہی شہید ہوگئے۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق سکیورٹی فورسزکو خودکش بمبارکی گاڑی کی اطلاع ملی تھی اور خفیہ اطلاع پر سکیورٹی فورسز علاقے میں آپریشن کررہی تھیں۔

آئی ایس پی آر نے بتایا کہ بنوں میں آپریشن کے دوران سکیورٹی فورسز کے قافلے پرفتنہ الخوارج نے حملہ کردیا اور خوارج نے بارود سے بھری گاڑی سکیورٹی فورسز کی ایک گاڑی سے ٹکرادی جس کے نتیجے میں لیفٹیننٹ کرنل شہزادہ گلفراز اور سپاہی کرامت شاہ شہید ہوگئے۔

آئی ایس پی آرکے مطابق اس دوران فورسز کے آپریشن میں 5 خوارج بھی مارے گئے۔

آئی ایس پی آر کا کہنا ہےکہ ماہ مقدس میں بھی خوارج کی افغانستان سے پاکستان میں دہشتگردانہ سرگرمیاں جاری ہیں، دہشتگردوں کے ماہ رمضان کے تقدس کے پامال سے واضح ہے ان کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔

آئی ایس پی آر نے مزید کہا کہ طالبان حکومت افغان سرزمین کوپاکستان کے خلاف دہشتگردی کے لیے استعمال سے روکنے میں ناکام ہے۔

آئی ایس پی آر کے مطابق پاکستان خوارج کے خلاف بلا امتیاز کارروائیاں جاری رکھے گا، سکیورٹی فورسز کی ’عزمِ استحکام‘ کے تحت انسدادِ دہشتگردی مہم پوری قوت سے جاری رہے گی، بہادر سپاہیوں کی ایسی قربانیاں ہمارے غیرمتزلزل عزم کو مزید مضبوط کرتی ہیں۔
وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے بنوں حملے کی شدید مذمت
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے ضلع بنوں میں فتنتہ الخوارج کے دہشت گردوں کی جانب سے سیکیورٹی فورسز کے قافلے پر حملے کی شدید مذمت کی ہے۔
وزیراعظم نے دہشت گردی کے اس حملے میں پاکستان فوج کے لیفٹیننٹ کرنل شہزادہ گل فراز اور سپاہی کرامت شاہ کی شہادت پر گہرے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے شہداء کی بلندی درجات کے لیے دعا کی اور اہل خانہ سے تعزیت کا اظہار کیا۔اپنے بیان میں وزیراعظم نے کہا کہ سیکیورٹی فورسز نے فتنتہ الخوارج کے مزموم عزائم کو ناکام بناتے ہوئے پانچ دہشت گردوں کو ہلاک کیا، جس پر فورسز کی کارکردگی کو سراہا۔

انہوں نے مزید کہا کہ رمضان کے بابرکت مہینے میں دہشت گردی کی کوشش یہ واضح کرتی ہے کہ دہشت گرد کا کوئی مذہب نہیں ہوتا۔وزیراعظم نے کہا کہ سیکیورٹی فورسز کی بروقت کارروائی نے شہر کو بڑے نقصان سے بچایا اور عزم استحکام کے ویژن کے تحت دہشت گردی کے خلاف بڑی کامیابیاں حاصل کی گئی ہیں۔
انہوں نے زور دیا کہ پوری قوم دہشت گردی کے خلاف اس جنگ میں پاکستان کی افواج کے ساتھ کھڑی ہے اور حکومت ملک سے ہر قسم کی دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے پرعزم ہے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرآڈیو لیک کیس میں علی امین گنڈاپور پر فردِ جرم عائد آڈیو لیک کیس میں علی امین گنڈاپور پر فردِ جرم عائد خیبرپختونخوا حکومت کو رمضان پیکیج سے زیادہ بانی کے دانت اور آنکھ اہم ہیں، عظمٰی بخاری شناختی کارڈ زندگی کی بنیادی ضرورت، کوئی عدالت بلاک نہیں کر سکتی: سپریم کورٹ برآمدات کے فروغ کے لیے فعال ٹریڈ ڈپلومیسی ناگزیر ہے: سردار طاہر محمود صدقۂ فطر اور فدیہ و کفارۂ صوم کی کم از کم مقدار کتنی ہے؟ اسلام آباد ہائی کورٹ کا اقدام قتل کیس میں بڑا فیصلہ TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2026, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: فوج کے لیفٹیننٹ کرنل فورسز کے قافلے پر پاک فوج کے اور سپاہی

پڑھیں:

شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان

ایرانی میڈیا میں شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین سے متعلق دعؤوں کے حوالے سے نئی تفصیلات سامنے آئی ہیں، جبکہ ایرانی حکام کی جانب سے مبینہ طور پر تدفین کے انتظامات کے حوالے سے تیاریوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایرانی خبررساں ایجنسی کے مطابق تہران کے نائب میئر برائے سماجی و ثقافتی امور محمد امین توکلی زادہ نے کہا ہے کہ تدفین سے قبل 3 روزہ عوامی تقریبات کا انعقاد کیا جائے گا، جن کے دوران عوام کو عظیم شہید راہنما کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا موقع دیا جائے گا۔ محمد امین توکلی زادہ کے مطابق عوامی تقریبات کے اختتام پر نمازِ جنازہ ادا کی جائے گی، جس کے بعد جلوس کا آغاز ہوگا، تہران میں یہ جلوس کم از کم 24 گھنٹے تک جاری رہ سکتا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ بعد ازاں تقریبات ایران کے اہم مذہبی مراکز قم اور مشہد میں بھی جاری رہیں گی، شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی خواہشات کے مطابق تدفین مشہد میں روضۂ امام رضاؑ کے قریب کیے جانے کا امکان ہے۔

ایرانی حکام کے مطابق یہ تقریب ملک کی جدید تاریخ کے بڑے عوامی اجتماعات میں شمار ہو سکتی ہے، تہران میں انتظامات اس انداز سے کیے جا رہے ہیں کہ ایک کروڑ 50 لاکھ سے 2 کروڑ افراد تک ان تقریبات میں شرکت کر سکیں۔ ان کے مطابق انتظامات کی مجموعی نگرانی پاسدارانِ انقلاب کریں گے جبکہ بلدیاتی حکام اور دیگر ریاستی ادارے لاجسٹک اور عوامی سہولیات کی فراہمی میں معاونت کریں گے۔ تاہم ان دعؤوں اور تفصیلات کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • امریکا ایران جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بےتحاشہ بڑھ گئی ہے
  • شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
  • فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک، آئی ایس پی آر
  • شہباز شریف کا کامیاب انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں پر سکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین
  • سکیورٹی فورسز کی مختلف کارروائیوں میں 17 دہشت گرد جہنم واصل
  • بلوچستان کے مختلف علاقوں میں سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، 17دہشتگرد ہلاک
  • صدر مملکت ، وزیر اعظم وفاقی وزیر داخلہ اور وزیر اعلیٰ سندھ  کا بھارتی سپانسرڈ دہشتگردوں کے خلاف آپریشنز پر سیکورٹی فورسز کی ستائش 
  • لاہور میں ہونیوالی ’’شہید اُمت کانفرنس‘‘ میں ایک اور نشست کا اضافہ
  • علامہ ساجد علی نقوی سے علامہ جواد نقوی کی ملاقات، شہید امت کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی
  • راولپنڈی: سہیل آفریدی کے قافلے کو پولیس نے فیکٹری ناکے پر روک دیا