امریکا کے ری پبلکن سینیٹر لنزے گراہم نے غزہ میں اسرائیل کی جانب سے فلسطینی بچوں کے قتل عام کی حمایت کر دی۔

ایک انٹرویو کے دوران میزبان کی جانب سے سوال پوچھا گیا کہ 7 اکتوبر واقعے کے بعد کے برسوں میں بہت سے لوگ سوچتے ہیں کہ غزہ میں جو کچھ ہوا وہ مسیحی اقدار سے مطابقت نہیں رکھتا، یعنی بچوں کا قتل، عورتوں کا قتل، خاندانوں کا قتل جو عسکریت پسند نہیں تھے۔

سینیٹر لنزے گراہم نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ ہم نے دوسری عالمی جنگ میں کیا کیا تھا؟ کیا ہم نے جرمنوں کو بھوکا مارتے ہوئے ایک منٹ بھی سوچا تھا، ہم نے ہر شہر پر بم پھینک کر ان کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیے تھے، یہ جنگ ہے۔

آپ 7 اکتوبر کا موازنہ دوسری عالمی جنگ سے کر رہے ہیں؟

اس سوال پر لنزے گراہم نے کہا کہ بالکل کر رہا ہوں، یہ یہودی ریاست کے وجود کا خطرہ تھا، 7 اکتوبر کو یہ ہوا تھا کہ 1200 افراد کو ذبح کیا گیا، ریپ کیا گیا، قتل کیا گیا اور اس کی فلمیں بنائی گئیں اور یہ سب ریڈیکل اسلام پسندوں نے کیا جن کے بس میں ہوتا تو وہ ہر ایک یہودی کو قتل کر دیتے، میں دنیا سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیا آپ یہ نہیں سمجھتے کہ یہ اسرائیل کی بقا کے لیے خطرہ تھا۔

اس کے بعد اسرائیل نے غزہ کو ملبے کا ڈھیر بنا دیا؟

ری پبلکن سینیٹر نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ ہم نے برلن کو بھی ملبے کا ڈھیر بنایا تھا، ہم نے ٹوکیو کو بھی ملبے کا ڈھیر بنایا تھا، کیا ہم نے ایٹم بم گرا کر غلطی کی تھی تاکہ جاپان کے دورِ تشدد کو ختم کیا جا سکے؟ کیا ہم غلط تھے؟ اس لیے میرے خیال میں اگر اسرائیل کی جگہ میں ہوتا تو میں بھی وہی کرتا جو اسرائیل نے کیا، فوجی کامیابی کے بغیر انتہا پسندی کو توڑنے کا اور کوئی طریقہ نہیں ہے۔

کتنے امریکی ایسا سوچتے ہیں جیسا آپ سوچتے ہیں؟

اس سوال پر لنزے گراہم نے کہا کہ میرا خیال ہے کہ زیادہ تر ری پبلکن ویسا ہی سوچتے ہیں جیسا میں سوچتا ہوں۔

انہوں نے انٹرویو لینے والی خاتون سے مزید کہا کہ اگر آپ ری پبلکنز کو نہیں جانتی تو اس کا مطلب ہے کہ آپ کو کچھ پتا ہی نہیں ہے، جب معاملہ ریڈیکل اسلام کا آ جائے تو وہ ہمیشہ اسرائیل کے ساتھ ہوں گے، اس کے علاوہ کوئی اور صورت ہو گی ہی نہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: لنزے گراہم نے اسرائیل کی سوچتے ہیں کہا کہ

پڑھیں:

تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے دو پروجیکٹ اقوام متحدہ کی سطح پر شارٹ لسٹ

وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری۔فوٹو: فائل

وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری کا کہنا ہے کہ تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے دو پروجیکٹ اقوام متحدہ کی سطح پر شارٹ لسٹ ہوئے، ورلڈ سمٹ آن دی انفارمیشن سوسائٹی (ڈبلیو ایس آئی ایس) میں دو منصوبوں کی شارٹ لسٹنگ کے ساتھ دنیا کا واحد ملک بن گیا۔

عظمیٰ بخاری نے کہا کہ اقوامِ متحدہ ڈبلیو ایس آئی ایس پرائز 2026 میں پنجاب کا ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی میرا پیارا عالمی چیمپئن پروجیکٹ قرار پایا، ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی ’’میرا پیارا‘‘ پروجیکٹ دنیا کے ٹاپ فائیو میں شامل ہوگیا۔

صوبائی وزیر نے کہا کہ پنجاب حکومت کا ورچوئل ویمن پولیس اسٹیشن بھی دنیا بھر کے ٹاپ 20 پروجیکٹس میں شارٹ لسٹ ہوگیا، ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی کی بدولت 77 ہزار سے زائد گمشدہ بچے بازیاب، ماؤں کی گودیں ہری ہو گئیں، حکومت نے 3 ہزار اسپیشل (معذور) بچوں کو بھی تلاش کر کے خاندانوں سے ملوایا، بدسلوکی، آن لائن استحصال اور کمزور بچوں کے تحفظ کے ہزاروں کیسز حل کیے گئے۔

عظمیٰ بخاری نے کہا کہ پنجاب میں اب تک مختلف کیٹیگریز کے 1,45,772 کیسز رپورٹ، 1,36,157 کیسز کو کامیابی سے حل کیا گیا، رپورٹ ہونے والے مقدمات میں سے 26,274 ایف آئی آرز رجسٹرڈ،7,081 چالان عدالتوں میں جمع کروا دیے گئے۔

صوبائی وزیر نے مزید بتایا کہ گمشدہ اور اغوا ہونے والے 54,741 بچوں میں سے 53,811 بچوں کو کامیابی سے تلاش کر کے اہلخانہ سے ملا دیا گیا، ریسکیو ٹیموں کی کارروائی کے نتیجے میں 22,989 بچے ملے، 21,178 کو خاندانوں کے سپرد کیا گیا، اس وقت سسٹم میں 930 بچے لاپتہ اور 1,811 بچے تاحال غیر شناخت شدہ ہیں۔

وزیر اطلاعات پنجاب نے کہا کہ بچوں پر تشدد اور ابیوز کے 15,447 کیسز رپورٹ ہوئے، 5,075 ایف آئی آرز درج کی گئیں، چائلڈ ابیوز کیسز میں 3,830 ملزمان کو گرفتار کر کے 4,168 مقدمات کے چالان عدالتوں میں جمع کروائے جا چکے ہیں، بچوں کے خلاف آن لائن اور ڈیجیٹل ابیوز کے 191 کیسز سامنے آئے، 14 ایف آئی آرز درج اور 5 ملزمان کو گرفتار کیا گیا۔

عظمیٰ بخاری نے کہا کہ خصوصی افراد کے مجموعی طور پر 4,377 کیسز رپورٹ ہوئے، 2,984 افراد کو بازیاب کروا کے خاندانوں سے ملایا گیا، خصوصی افراد کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے پولیس نے اب تک 646 ایف آئی آرز درج کیں، چائلڈ پروٹیکشن بیورو میں 251 اور دارالامان میں 14 متاثرہ افراد کو فوری پناہ اور حکومتی سرپرستی فراہم کی گئی۔

انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے میرا پیارا یو این گلوبل چیمپئن قرار دیے جانے پر اظہار تشکر کیا۔

متعلقہ مضامین

  • ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
  • آبنائے ہرمز بحالی پر بھی ایران سے پابندیاں نہیں ہٹائینگے: مارکوروبیو
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • شانگلہ: مکان کی چھت گرگئی، 6بچے جاں بحق
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے دو پروجیکٹ اقوام متحدہ کی سطح پر شارٹ لسٹ
  • میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
  • میئر ظہران ممدانی نے نیویارک میں بچوں کا بیڈ ٹائم کیوں معطل کردیا؟
  • امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان