گورنر ہاؤس میں جو تقریب ہوئی اس میں تعصب کی انتہا ہوئی، شرجیل میمن
اشاعت کی تاریخ: 21st, February 2026 GMT
ایک بیان میں صوبائی وزیر نے کہا کہ نفرت انگیز باتیں اور تعصب پر مبنی سیاست کرنے والوں کا حال دیکھ لیں، ایم کیو ایم کا ایک ممبر کہہ رہا ہے کہ اسے ایم کیو ایم کے دوسرے ممبر سے خطرہ ہے، ایم کیو ایم کے ایک ممبر کے لیے آپ نے سارجنٹ بلائے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے صوبائی وزیر شرجیل میمن نے کہا کہ گورنر ہاؤس، آئینی ادارے تعصب نما تقاریر کے لیے نہیں بنے، کراچی پہلے ہی یہ ماحول دیکھ چکا ہے، مزید متحمل نہیں ہوسکتا۔ ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ گورنر ہاؤس میں جو تقریب ہوئی اس میں تعصب کی انتہا ہوئی ہے، سندھ ایک تھا، ایک ہے اور ایک رہے گا۔ شرجیل میمن نے کہا کہ نفرت انگیز باتیں اور تعصب پر مبنی سیاست کرنے والوں کا حال دیکھ لیں، ایم کیو ایم کا ایک ممبر کہہ رہا ہے کہ اسے ایم کیو ایم کے دوسرے ممبر سے خطرہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم کے ایک ممبر کے لیے آپ نے سارجنٹ بلائے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ایم کیو ایم کے نے کہا کہ ایک ممبر
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔