تھائی لینڈ میں مہلک وائرس سے 10 دن میں 72 ٹائیگر ہلاک
اشاعت کی تاریخ: 21st, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
تھائی لینڈ کے شمالی صوبے چیانگ مائی میں واقع نجی جنگلی حیات کے پارک “ٹائیگر کنگڈم” میں مہلک وائرس اور بیکٹیریا کے پھیلاؤ کے نتیجے میں 10 دن کے اندر 72 شیر ہلاک ہو گئے، جس نے مقامی اور عالمی ماہرینِ حیوانات میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق ہلاک ہونے والے ٹائیگرز کی لیبارٹری ٹیسٹ رپورٹس میں کینائن ڈسٹیمپر وائرس اور سانس کے نظام کو متاثر کرنے والے بیکٹیریا کی موجودگی ثابت ہوئی ہے، جو جانوروں کی قوتِ مدافعت پر شدید اثر ڈالنے کے باعث موت کا سبب بنے۔
قومی محکمۂ لائیو اسٹاک کے ڈائریکٹر نے اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ ٹائیگرز میں بیماری کی ابتدائی علامات کا بروقت پتہ لگانا انتہائی مشکل ہوتا ہے اور اکثر کیسز میں جب بیماری کی شدت کا اندازہ ہوتا ہے تو جانوروں کو بچانا ممکن نہیں رہتا۔
پارک انتظامیہ نے ابھی تک اس معاملے پر کوئی باقاعدہ مؤقف جاری نہیں کیا، جس سے مقامی حکام اور ماہرین کے درمیان مزید تحقیقات کی ضرورت سامنے آ گئی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے واقعے جنگلی حیات کی دیکھ بھال میں پیشہ ورانہ اقدامات کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہیں اور ان میں دیرینہ بیماریوں کی نگرانی اور ویکسینیشن کا نظام لازمی ہونا چاہیے۔
یہ واقعہ نہ صرف تھائی لینڈ میں جنگلی حیات کے تحفظ کے امور کو اجاگر کرتا ہے بلکہ عالمی سطح پر نجی جنگلی پارکوں میں حیوانات کی صحت و حفاظت کے لیے موثر حکمت عملی اور فوری ردِ عمل کی اہمیت کو بھی واضح کرتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے وزیر اعلی سید مراد علی شاہ کی ہدایت پر صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے سندھ بھر کی ضلعی انتظامیہ کو ہائی الرٹ کر دیا ہے اور تمام متعلقہ محکموں کو احتیاطی اور ہنگامی ردعمل کے اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے، کیونکہ بحیرہ عرب سے آنے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے صوبے کو متاثر کر رہے ہیں۔ پی ڈی ایم اے کی جانب سے جاری کردہ موسمیاتی ایڈوائزری کے مطابق، پاکستان محکمہ موسمیات (پی ایم ڈی) کی پیش گوئی کی بنیاد پر ملک میں داخل ہونے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے، بالائی اور وسطی علاقوں کو متاثر کرنے والے مغربی موسمی نظام کے ساتھ مل کر، 23 جولائی سے 25 جولائی تک سندھ کے کئی اضلاع میں وسیع پیمانے پر بارش، گرج چمک اور بعض مقامات پر موسلا دھار بارش کا سبب بن سکتے ہیں۔
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیر اعلی نے ڈویژنل کمشنرز اور بلدیاتی اداروں کو مزید ہدایت کی کہ وہ نشیبی علاقوں، شہری مراکز اور حساس مقامات کی کڑی نگرانی کریں، امدادی سامان اور آلات کی دستیابی یقینی بنائیں اور موسمیاتی پیش گوئی کی مدت کے دوران تمام محکموں کے درمیان بلاتعطل رابطہ برقرار رکھیں۔