پاکستان اور امریکا کا اقتصادی تعاون بڑھانے پر اتفاق، سرمایہ کاری کے فروغ پر زور
اشاعت کی تاریخ: 21st, February 2026 GMT
پاکستان اور امریکا نے باہمی اقتصادی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے اور تجارت و سرمایہ کاری کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔
یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے واشنگٹن میں امریکی وزیر تجارت ہاورڈ اے لٹنک سے ملاقات کی۔ ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تجارت، سرمایہ کاری کے مواقع اور نجی شعبے کے کردار پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔
وزارت خزانہ کے اعلامیے کے مطابق دونوں جانب سے اس بات پر زور دیا گیا کہ پاکستان اور امریکا کے درمیان اقتصادی روابط کو وسعت دینے کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں۔ امریکی حکام نے مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری میں دلچسپی کا اظہار بھی کیا۔
اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ 31 مارچ کو پاک۔امریکا تجارتی و سرمایہ کاری فورم منعقد ہوگا، جس میں دونوں ممالک کی نمایاں کمپنیاں شرکت کریں گی۔ اس فورم میں وزارتی سطح کی نمائندگی بھی متوقع ہے، جس سے کاروباری برادری کو براہِ راست روابط کا موقع ملے گا۔
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے فورم کے انعقاد میں یو ایس چیمبر آف کامرس کے کردار کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی کہ امریکی وزیر تجارت کا دفتر بھی اس اہم تقریب میں شرکت کرے گا۔
دونوں ممالک نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ سرمایہ کاری، تجارت اور نجی شعبے کے روابط کو مزید مضبوط بنایا جائے گا تاکہ باہمی اقتصادی شراکت داری کو نئی جہت دی جا سکے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: سرمایہ کاری
پڑھیں:
کاروباری عدم اعتماد، 80 فیصد اداروں کے سرمایہ کاری فیصلے موخر، اوورسیز چیمبر
اسلام آباد،اوورسیز چیمبر آف کامرس سروے (overseas chamer commerce)میں بتایا گیا کہ پاکستان میں کاروباری اعتماد کمزور ہوگیا، 70 سے 80 فیصد اداروں کے سرمایہ کاری فیصلے موخر ہوئے۔
سروے میں بتایا گیا کہ مجموعی کاروباری اعتماد 9 فیصد پوائنٹس کمی سے مثبت 13 فیصد رہ گیا، خدمات کے شعبے میں اعتماد 20 پوائنٹس گر کر مثبت 14 فیصد رہ گیا۔
اوورسیز چیمبر سروے کے مطابق مینوفیکچرنگ کے شعبے میں کاروباری اعتماد 7 پوائنٹس کم ہوگیا، صرف ریٹیل سیکٹر میں کاروباری اعتماد 3 پوائنٹس اضافے سے مثبت 20 فیصد ہوگیا۔
مزید پڑھیں:سیکیورٹی خدشات: ڈرون اڑانے پر پابندی میںمزید 30 دن کی توسیع
سروے میں یہ بھی بتایا گیا کہ نئی سرمایہ کاری انڈیکس 10 پوائنٹس کمی سے صرف مثبت 2 فیصد رہ گیا۔