Al Qamar Online:
2026-07-24@02:03:03 GMT

اسلام آباد، اٹک، صوابی میں زلزلے کے جھٹکے، شدت 4.4 ریکارڈ

اشاعت کی تاریخ: 21st, February 2026 GMT

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد، اٹک اور صوابی سمیت مختلف علاقوں میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے ہیں، جنہوں نے شہریوں میں خوف و ہراس پھیلا دیا۔

پاکستان میٹرولوجیکل ڈیپارٹمنٹ (پی ایم ڈی) کے مطابق آج صبح 9 بج کر 28 منٹ پر اسلام آباد، صوابی اور اٹک کے مختلف علاقوں میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے، جن کی شدت ریکٹر اسکیل پر 4.

4 ریکارڈ کی گئی۔

زلزلہ پیما مرکز کے مطابق زلزلے کی گہرائی تقریباً 14 کلومیٹر تھی جبکہ زلزلے کا مرکز اٹک کے علاقے برہان سے 11 کلومیڑ شمال مشرق میں تھا۔

زلزلہ پیمامرکز کا کہنا ہے کہ زلزلے کے اچانک جھٹکوں کے بعد لوگوں میں خوف و ہراس پھیل گیا اور شہری گھروں سے کلمہ طیبہ کا ورد کرتے ہوئے باہر نکل آئے۔

رپورٹ کے مطابق زلزلے سے تاحال کسی جانی یا مالی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی، تاہم مقامی انتظامیہ نے متعلقہ اداروں کو ہدایت دی ہے کہ متاثرہ علاقوں میں صورتحال کا جائزہ لیں اور کسی بھی ہنگامی صورتِ حال سے نمٹنے کے لیے تیار رہیں۔

ریسکیو اداروں کا کہنا ہے کہ صورتِ حال پر نظر رکھی جا رہی ہے اور اب تک کسی ایمرجنسی کی ضرورت پیش نہیں آئی۔

حکام نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ غیر ضروری گھبراہٹ میں مبتلا نہ ہوں، افواہوں سے گریز کریں اور آفیشل ذرائع سے فراہم کی جانے والی  معلومات پر ہی انحصار کریں، زلزلے کے بعد ہنگامی احتیاطی تدابیر اختیا کریں۔

یاد رہے کہ گزشتہ روز بھی وفاقی دارالحکومت اسلام آباد اور راولپنڈی سمیت خیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے تھے۔

زلزلہ پیما مرکز کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق اس زلزلے کی شدت 5 اعشاریہ 6 ریکارڈ کی گئی، جس کی زیرِ زمین گہرائی 73 کلو میٹر تھی جبکہ زلزلے کا مرکز افغانستان کے ہندوکش خطے میں واقع تھا، جہاں سے اٹھنے والی ارتعاشی لہریں سرحدی علاقوں سمیت خیبر پختونخوا کے مختلف حصوں میں شدت کے ساتھ محسوس کی گئیں۔

ذریعہ

ذریعہ: Al Qamar Online

کلیدی لفظ: پاکستان کھیل میں زلزلے کے جھٹکے اسلام آباد کے مطابق محسوس کی

پڑھیں:

کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے

کراچی سے دوسرے شہروں میں جانے کے لیے شہر میں جگہ جگہ قائم بس اڈے دو سال پہلے ختم کرکے شہر سے باہر منتقل کر دیے گئے تھے، شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔

حکومت نے مسافروں کی سہولت کے لیے مفت شٹل سروس شروع کی تھی تاکہ مختلف مقامات سے مسافروں کو کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے، مگر یہ شٹل سروس اب ٹرمینل تک محدود نہیں رہی بلکہ روٹ پرمٹ کے بغیر کمرشل بنیادوں پر کراچی سے حیدرآباد تک بھی چلائی جا رہی ہے۔ 

محکمہ ٹرانسپورٹ سندھ نے اگست 2024 میں آپریشن کرتے ہوئے شہر کے مختلف انٹر سٹی بس اڈے ختم کیے اور بڑی کوچز کے شہر میں داخلے پر پابندی عائد کی تھی۔ 

مسافروں کی سہولت کے لیے وزیر ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن نے مفت شٹل سروس شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا تھا کہ تقریباً 50 شٹل گاڑیاں چلائی جا رہی ہیں تاکہ مسافروں کو مختلف مقامات سے کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے۔ لیکن شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔

ادھر ٹرانسپورٹرز اپنی سواریاں مختلف ذرائع سے کراچی بس ٹرمینل تک پہنچا رہے ہیں، جس کے اضافی اخراجات بھی انہیں خود برداشت کرنا پڑ رہے ہیں۔

محکمہ ٹرانسپورٹ کا بتانا ہے کہ اس روٹ کے لیے شٹل سروس کے پاس کوئی روٹ پرمٹ موجود نہیں۔

جیو نیوز نے اس حوالے سے کراچی بس ٹرمینل انتظامیہ سے مؤقف لینے کی کوشش کی، مگر ان کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔ 

متعلقہ مضامین

  • کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے
  • پنجاب میں پہلی بار سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ شروع
  • قادر آباد بیراج پر اونچے درجے کا سیلاب، چناب میں پانی کا بہاؤ بڑھ گیا
  • کیا فواد خان نے بھی سرجری کروالی؟ نئی تصاویر پر سوشل میڈیا پر بحث
  • خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، پنجاب اور کشمیر میں تیز بارشوں کی پیشگوئی، لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ
  • امریکا کی 250 ویں سالگرہ 5 روزہ نمائش، آزادی کے تصور پر پاکستانی آرٹسٹس کے فن پارے توجہ کا مرکز
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • توشہ خانہ ریکارڈ، وزیراعظم اور اسحاق ڈار کے تحائف کی تفصیلات سامنے آگئیں
  • مون سون کا طاقتورسپیل ، جھل تھل ایک ہوگیا،2 وکلاء کے چیمبر گرگئے
  • شہباز شریف سمیت حکومتی شخصیات کو 21 تحائف ملے، توشہ خانہ کا ریکارڈ جاری