Al Qamar Online:
2026-06-02@22:21:31 GMT

اسلام آباد، اٹک، صوابی میں زلزلے کے جھٹکے، شدت 4.4 ریکارڈ

اشاعت کی تاریخ: 21st, February 2026 GMT

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد، اٹک اور صوابی سمیت مختلف علاقوں میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے ہیں، جنہوں نے شہریوں میں خوف و ہراس پھیلا دیا۔

پاکستان میٹرولوجیکل ڈیپارٹمنٹ (پی ایم ڈی) کے مطابق آج صبح 9 بج کر 28 منٹ پر اسلام آباد، صوابی اور اٹک کے مختلف علاقوں میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے، جن کی شدت ریکٹر اسکیل پر 4.

4 ریکارڈ کی گئی۔

زلزلہ پیما مرکز کے مطابق زلزلے کی گہرائی تقریباً 14 کلومیٹر تھی جبکہ زلزلے کا مرکز اٹک کے علاقے برہان سے 11 کلومیڑ شمال مشرق میں تھا۔

زلزلہ پیمامرکز کا کہنا ہے کہ زلزلے کے اچانک جھٹکوں کے بعد لوگوں میں خوف و ہراس پھیل گیا اور شہری گھروں سے کلمہ طیبہ کا ورد کرتے ہوئے باہر نکل آئے۔

رپورٹ کے مطابق زلزلے سے تاحال کسی جانی یا مالی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی، تاہم مقامی انتظامیہ نے متعلقہ اداروں کو ہدایت دی ہے کہ متاثرہ علاقوں میں صورتحال کا جائزہ لیں اور کسی بھی ہنگامی صورتِ حال سے نمٹنے کے لیے تیار رہیں۔

ریسکیو اداروں کا کہنا ہے کہ صورتِ حال پر نظر رکھی جا رہی ہے اور اب تک کسی ایمرجنسی کی ضرورت پیش نہیں آئی۔

حکام نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ غیر ضروری گھبراہٹ میں مبتلا نہ ہوں، افواہوں سے گریز کریں اور آفیشل ذرائع سے فراہم کی جانے والی  معلومات پر ہی انحصار کریں، زلزلے کے بعد ہنگامی احتیاطی تدابیر اختیا کریں۔

یاد رہے کہ گزشتہ روز بھی وفاقی دارالحکومت اسلام آباد اور راولپنڈی سمیت خیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے تھے۔

زلزلہ پیما مرکز کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق اس زلزلے کی شدت 5 اعشاریہ 6 ریکارڈ کی گئی، جس کی زیرِ زمین گہرائی 73 کلو میٹر تھی جبکہ زلزلے کا مرکز افغانستان کے ہندوکش خطے میں واقع تھا، جہاں سے اٹھنے والی ارتعاشی لہریں سرحدی علاقوں سمیت خیبر پختونخوا کے مختلف حصوں میں شدت کے ساتھ محسوس کی گئیں۔

ذریعہ

ذریعہ: Al Qamar Online

کلیدی لفظ: پاکستان کھیل میں زلزلے کے جھٹکے اسلام آباد کے مطابق محسوس کی

پڑھیں:

وسائل پر قبضے کی جنگ: افغان طالبان میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے

افغانستان کے صوبے بدخشاں میں سونے کی کانوں، غیر قانونی دولت، مسلح گروہوں کے باہمی مفادات اور قدرتی وسائل پر کنٹرول کے تنازع نے طالبان حکومت کے اندر بڑھتے ہوئے اختلافات کو نمایاں کردیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق بدخشاں کی صورتحال طالبان کے سرکاری بیانیے سے مختلف تصویر پیش کرتی ہے، جہاں مختلف دھڑے عوامی فلاح یا حکمرانی کے بجائے سونے کے ذخائر، منشیات سے حاصل ہونے والی آمدنی، غیر قانونی مالی فوائد اور طاقت کے حصول کے لیے ایک دوسرے کے مدمقابل دکھائی دیتے ہیں۔

سونے کے ذخائر پر کشمکش، قندھاری قیادت پر الزامات

بدخشاں میں سونے کی کانوں پر جاری تنازع نے طالبان کے اندر موجود گہرے اختلافات کو نمایاں کر دیا ہے۔

مقامی سطح پر اس بات پر ناراضی پائی جاتی ہے کہ قندھاری طالبان قیادت مبینہ طور پر کانوں، آمدنی کے ذرائع، ریاستی اختیارات اور معاشی فوائد پر اپنا کنٹرول مضبوط کرنے کی کوشش کر رہی ہے، جبکہ مقامی طالبان عناصر کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔

10 ہزار جنگجوؤں کا دعویٰ، انتظامی بیان یا طاقت کا مظاہرہ؟

صوبہ زابل کے طالبان نائب گورنر ملا جمعہ خان فتح کی جانب سے 10 ہزار جنگجوؤں پر کمانڈ رکھنے کا دعویٰ بھی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق یہ بیان ایک فعال انتظامیہ کے نمائندے کے بجائے ایسے مسلح دھڑے کے رہنما کا تاثر دیتا ہے جو دولت، اثر و رسوخ اور اختیار کی اندرونی کشمکش میں اپنی طاقت دکھانے کے لیے تیار ہے۔

تحقیقات کا حکم، بدعنوانی کے اعتراف کے مترادف قرار

طالبان رہنما کی جانب سے غیر قانونی کان کنی، منشیات کی تجارت اور شہریوں پر مظالم کے الزامات کی تحقیقات کا حکم اس بات کا اعتراف سمجھا جا رہا ہے کہ طالبان نظامِ حکومت کے اندر مجرمانہ مالی مفادات، وسائل کے استحصالی استعمال اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے مسائل موجود ہیں۔

اسلامی انصاف کا دعویٰ سوالات کی زد میں

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طالبان اقتدار سنبھالنے کے بعد بعض عہدیداروں کی اچانک بڑھتی ہوئی دولت، کانوں پر کنٹرول کے لیے دھڑوں کی کشمکش اور ہزاروں جنگجوؤں تک رسائی کے دعوے طالبان کے ’اسلامی انصاف‘ کے بیانیے کو کمزور کرتے ہیں۔ اس صورتحال کو وسائل کی لوٹ مار، عسکری بدعنوانی اور جنگجو سرداروں کی طرز کی سیاست سے تشبیہ دی گئی ہے۔

بدخشاں طالبان طرز حکمرانی کی عکاس تصویر

رپورٹ کے مطابق بدخشاں میں سونے کے مافیا، منشیات پر مبنی معیشت، مسلح سرپرستی کے نظام، شہریوں کو دباؤ میں رکھنے کے حربے اور مختلف جنگجو گروہوں کے درمیان مسابقت طالبان حکمرانی کی ایک واضح تصویر پیش کرتی ہے۔

اس صورتحال میں مقامی آبادی استحصال کا سامنا کررہی ہے جبکہ طالبان کے مختلف حلقے وسائل اور اثر و رسوخ کے حصول کی دوڑ میں مصروف ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق طالبان نے اقتدار میں آنے سے قبل نظم و ضبط، احتساب اور بدعنوانی کے خاتمے کے وعدے کیے تھے، تاہم بدخشاں کی صورتحال قندھاری قیادت کے مبینہ اختیارات پر قبضے، اندرونی اختلافات، معدنی وسائل کی لوٹ مار، منشیات سے جڑی بدعنوانی اور مسلح گروہی طرز عمل کو نمایاں کرتی ہے، جس سے یہ تاثر ابھرتا ہے کہ طالبان حکومت ایک مرکزی ریاستی نظام کے بجائے مختلف مسلح نیٹ ورکس کے اتحاد کی صورت اختیار کر چکی ہے جو اقتدار اور وسائل کی تقسیم پر باہمی کشمکش میں مبتلا ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews اختلافات افغان طالبان وسائل پر قبضے کی جنگ وی نیوز

متعلقہ مضامین

  • سندھ، پنجاب اور کے پی کے مختلف شہروں میں بارش اور مٹی کا طوفان
  • اسلام آباد میں مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری
  • وسائل پر قبضے کی جنگ: افغان طالبان میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے
  • فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک، آئی ایس پی آر
  • سکیورٹی فورسز کی مختلف کارروائیوں میں 17 دہشت گرد جہنم واصل
  • بلوچستان کے مختلف علاقوں میں سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، 17دہشتگرد ہلاک
  • سیکیورٹی فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک
  • سوات اور گردونواح میں زلزلے کے شدید جھٹکے
  • ثاقب چدھڑ کے اثاثوں کی تفصیلات کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر
  • حج سے واپسی کا آغاز، 370 حجاج کرام اسلام آباد پہنچ گئے