کراچی کے مختلف علاقوں میں مبینہ پولیس مقابلے، زخمیوں سمیت 8 ملزمان گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 21st, February 2026 GMT
کراچی کے مختلف علاقوں میں جرائم پیشہ عناصر کے خلاف پولیس کی کارروائیاں جاری ہیں، جہاں مبینہ پولیس مقابلوں کے دوران زخمیوں سمیت 8 ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا۔
صفورہ چورنگی کے قریب رم جھم ٹاور کے اطراف چار رکنی ڈکیت گینگ سے فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔ ترجمان ضلع ایسٹ پولیس کے مطابق دوطرفہ فائرنگ میں ایک زخمی سمیت تین ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا جبکہ ایک ساتھی فرار ہو گیا۔
گرفتار ملزمان کی شناخت بشیر احمد، فرحان اور فیض اللہ کے نام سے ہوئی۔ پولیس کے مطابق ملزمان کے قبضے سے تین غیر قانونی پستول بمعہ ایمونیشن، موبائل فونز اور دو موٹر سائیکلیں برآمد ہوئیں۔ زخمی ملزم کو طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
ملیر پولیس اور حساس ادارے نے تھانہ اسٹیل ٹاؤن کی حدود میں مسلح ملزمان کے خلاف کارروائی کی۔ ایس ایس پی ملیر عبد الخالق پیرزادہ کے مطابق ایک زخمی ملزم صادق افغانی عرف شوٹر کو گرفتار کر لیا گیا جبکہ اس کے ساتھی فرار ہو گئے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم شہر میں متعدد سنگین جرائم اور اسٹریٹ کرائم کی سو سے زائد وارداتوں میں مطلوب تھا۔ اس کے قبضے سے غیر قانونی اسلحہ، موبائل فون اور نقدی برآمد کر کے اسلحہ فرانزک کے لیے روانہ کر دیا گیا ہے۔
شاہراہ نور جہاں تھانے کی حدود عبداللہ کالج کے قریب کے ڈی اے گراؤنڈ بلاک U میں پولیس نے موٹر سائیکل سوار دو ملزمان جاوید مگسی اور فیضان کو زخمی حالت میں گرفتار کیا۔ ملزمان کے قبضے سے دو ٹی ٹی پستول اور موٹر سائیکل برآمد ہوئی۔
دوسری جانب اتحاد ٹاؤن پولیس نے ڈسٹرکٹ کیماڑی کے علاقے عابد آباد میں کارروائی کرتے ہوئے ایک زخمی سمیت دو ملزمان کو گرفتار کر لیا۔ ایس ایس پی کیماڑی امجد احمد شیخ کے مطابق ملزمان سے دو پستول اور مسروقہ موٹر سائیکل برآمد ہوئی۔
لیاقت آباد، تین ہٹی برج کے قریب پولیس مقابلے میں عامر قریشی نامی ملزم زخمی حالت میں گرفتار ہوا جبکہ اس کا ساتھی فرار ہو گیا۔ ملزم کے قبضے سے 30 بور پستول بمعہ لوڈ میگزین اور موٹر سائیکل برآمد ہوئی۔ زخمی ملزم کو عباسی شہید اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
پولیس کے مطابق تمام واقعات کی مزید تفتیش جاری ہے اور فرار ملزمان کی تلاش کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل کو گرفتار کر لیا موٹر سائیکل برآمد ہوئی کے قبضے سے کے مطابق
پڑھیں:
مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
مستونگ میں فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اوران کے گن مین شہید جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے.وزیراعلیٰ بلوچستان اور وزیر داخلہ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے فوری کارروائی کا حکم دیا۔ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پرنامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے۔ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ راستے میں ان کی گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کردی۔واقعے کے بعد لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات اور حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی۔بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظام انصاف پر دہشت گرد حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی. واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا، جبکہ ججز، وکلاء اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات اور ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا اور حملہ آوروں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت کی۔