ایرانی لڑاکا طیارہ تباہ، امریکی بحری بیڑے کی موجودگی نے سوالات بڑھا دیے
اشاعت کی تاریخ: 21st, February 2026 GMT
ایران کے مغربی صوبے ہمدان میں ایک فوجی لڑاکا طیارے کے پراسرار حادثے نے خطے میں نئی بحث چھیڑ دی ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب مشرق وسطیٰ میں امریکی بحری سرگرمیوں میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
ایرانی نیم سرکاری خبر رساں ادارے فارس نیوز کے مطابق طیارہ معمول کی تربیتی پرواز پر تھا کہ دوران پرواز فنی خرابی کے آثار سامنے آئے۔ طیارہ 31 ویں ٹیکٹیکل فائٹر اسکواڈرن سے تعلق رکھتا تھا اور اس میں 2 پائلٹس سوار تھے۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق پائلٹس نے مشکوک صورت حال دیکھتے ہوئے واپسی کا فیصلہ کیا اور کسی حد تک طیارے کو کنٹرول کرتے ہوئے ایئربیس تک لے آئے، تاہم لینڈنگ سے کچھ لمحے قبل اچانک طیارہ بے قابو ہو کر زمین بوس ہوگیا اور اس میں آگ بھڑک اٹھی۔
ایرانی فوج کے ترجمان نے تصدیق کی کہ حادثے میں ایک پائلٹ جان کی بازی ہار گیا جبکہ دوسرا محفوظ رہا۔ فوجی حکام کے مطابق حادثے کی مکمل تحقیقات شروع کردی گئی ہیں اور تکنیکی ماہرین ملبے کا جائزہ لے رہے ہیں۔
علاقائی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایسے واقعات حساس جغرافیائی ماحول میں سیاسی رنگ اختیار کر سکتے ہیں، خاص طور پر جب ایران اور امریکا کے تعلقات کشیدہ ہوں۔ ماہرین کے مطابق اگر یہ حادثہ محض تکنیکی تھا تو بھی یہ ایرانی فضائیہ کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے کیونکہ تربیتی پروازوں میں حفاظتی معیار انتہائی سخت ہوتے ہیں۔
حکام نے کہا ہے کہ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد تفصیلی رپورٹ جاری کی جائے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل کے مطابق
پڑھیں:
ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
امریکی سینیٹ نے ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع میں امریکا کی شمولیت ختم کرنے کے لیے پیش کی گئی جنگی اختیارات کی قرارداد مسترد کر دی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سینیٹ نے جمعرات کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کرنے سے انکار کر دیا۔
میری لینڈ سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر کرس وین ہولن کی پیش کردہ وار پاورز ریزولوشن پر ووٹنگ ہوئی تاہم قرارداد 47 کے مقابلے میں 49 ووٹوں سے مسترد ہوگئی اور مطلوبہ حمایت حاصل نہ کرسکی۔
ریپبلکن سینیٹر سوسن کولنز نے اپنی جماعت کی پالیسی کے برعکس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ ڈیموکریٹ سینیٹر جان فیٹرمین نے اپنی پارٹی سے اختلاف کرتے ہوئے قرارداد کی مخالفت کی۔
تین سینیٹرز نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا جن میں سینیٹر کیٹی برٹ، مچ میک کونل، لیزا مرکووسکی اور رینڈ پال شامل ہیں۔
اس قرارداد میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ اگر کانگریس باقاعدہ جنگ کا اعلان نہ کرے یا صدر کو خصوصی اجازت نہ دے، تو صدر ٹرمپ ایران کے اندر یا ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج کو واپس بلائیں۔
ڈیموکریٹ ارکان اور بعض ریپبلکن قانون سازوں کا مؤقف ہے کہ ایران کے خلاف موجودہ فوجی کارروائیوں میں صدر ٹرمپ نے کانگریس کے اس آئینی اختیار کو نظر انداز کیا ہے جس کے تحت صرف کانگریس کو جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار حاصل ہے۔
اس سے چند گھنٹے قبل امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایران جنگ محدود کرنے کی اپنی وار پاورز قرارداد منظور کی تھی تاہم اسے گزشتہ ماہ کے مقابلے میں ایک ووٹ کم ملا جس سے کانگریس میں بھی اس معاملے پر اختلافات نمایاں ہیں۔
گزشتہ ماہ بھی سینیٹ نے اسی نوعیت کی ایک قرارداد 50 کے مقابلے میں 48 ووٹوں سے منظور کی تھی۔ اس وقت چند ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا تھا لیکن اس وقت ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی نافذ تھی اور مزید امریکی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔
آئینی ماہرین کے مطابق 1973 کے وار پاورز ایکٹ کا مقصد صدر کے فوجی اختیارات پر کانگریس کی نگرانی کو یقینی بنانا تھا لیکن اب تک کسی بھی امریکی صدر نے اسے مکمل طور پر پابند قانون کے طور پر تسلیم نہیں کیا۔
مزید یہ کہ اس قانون کی آئینی حیثیت پر کبھی امریکی عدالتوں نے حتمی فیصلہ نہیں دیا اسی لیے اگر قرارداد منظور بھی ہو جاتی تو اس کے نتیجے میں صدر کو فوری طور پر فوج واپس بلانے کا قانونی پابند بنانا مشکل ہوتا۔