ایران، مذاکرات کے بہانے وقت ضائع نہیں کر رہا
اشاعت کی تاریخ: 21st, February 2026 GMT
میڈیا سے اپنی ایک گفتگو میں سید عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ طے یہ پایا ہے کہ اگلے چند دنوں میں معاہدے کا مسودہ تیار کیا جائے گا۔ میں نے اپنی ٹیم کو ہدایت دی ہے کہ وہ ممکنہ معاہدے کے مختلف پہلوؤں پر کام کریں۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی ذرائع ابلاغ سے گفتگو میں ایرانی وزیر خارجہ "سید عباس عراقچی" نے کہا کہ ہم پر پابندیاں جتنی جلدی ختم ہوں، ہمارے لیے بہتر ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکی صدر "ڈونلڈ ٹرمپ" اور ان کی ٹیم فوری معاہدے کی خواہاں ہے، جس سے ہم نے بھی اتفاق کیا۔ مذاکرات میں ہونے والی پیش رفت پر ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ ہم مذاکرات میں رہنماء اصولوں اور ممکنہ معاہدے کی شکل پر اتفاق رائے حاصل کر چکے ہیں۔ طے یہ پایا ہے کہ اگلے چند دنوں میں معاہدے کا مسودہ تیار کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ میں نے اپنی ٹیم کو ہدایت دی ہے کہ وہ ممکنہ معاہدے کے مختلف پہلوؤں پر کام کریں۔ میں رافائل گروسی، اسٹیو ویٹکاف اور جیرڈ کُشنر سے رابطے میں ہوں۔ جب بھی ضرورت پڑی، ہم دوبارہ اکٹھے بیٹھیں گے تاکہ دیکھیں کہ کس طرح ایک منصفانہ اور جامع معاہدہ حاصل کیا جا سکتا ہے۔
دوسری جانب رواں فروری کے ابتدائی عشرے میں، ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان "اسماعیل بقائی" نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ مذاکرات کے ذریعے وقت ضائع کرنا بے سود ہے۔ جتنی جلدی ممکن ہو، ہم سے ظالمانہ پابندیوں کو ہٹایا جائے۔ واضح رہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان بالواسطہ جوہری مذاکرات کا دوسرا دور "عمان" کی ثالثی سے "جنیوا" میں معقد ہوا۔ جہاں ایرانی وفد کی قیادت سید عباس عراقچی، جب کہ امریکی مذاکرات کار، "ڈونلڈ ٹرمپ" کے نمائندہ خصوصی برائے امور مشرق وسطیٰ "اسٹیو ویٹکوف" كی سربراہی میں موجود تھے۔ اس موقع پر امریكی صدر كے داماد "جیرڈ کُشنر" بھی اسٹیو ویٹكاف كے ساتھ ہمراہ تھے۔ ان مذاکرات کو ایرانی وزیر خارجہ نے ماضی کی نسبت سنجیدہ قرار دیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: نے کہا کہ
پڑھیں:
نابالغ بچے کا نان نفقہ کسی معاہدے سے ختم نہیں کیا جا سکتا: لاہور ہائیکورٹ
لاہور ہائی کورٹ---فائل فوٹولاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا ہے کہ باپ نابالغ بچے کے مستقبل کے نان نفقے کا حق کسی معاہدے یا رضامندی نامے کے ذریعے ختم نہیں کر سکتا۔
لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے درخواست پر تفصیلی تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
عدالت نے معاہدے کی بنیاد پر بچے کا نان نفقہ ختم کرنے سے متعلق باپ کی اپیل خارج کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ، فیملی کورٹ اور اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے ہیں۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ درخواست گزار کے مطابق بورڈنگ کارڈ جاری ہونے کے بعد اچانک آف لوڈ کیا گیا اور صرف اس خدشے پر سفر سے روکا گیا کہ شاید دبئی سے واپس نہ آئے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق فریقین کی شادی 2002ء میں ہوئی تھی جبکہ 2005ء میں طلاق ہو گئی، طلاق کے بعد خاندان کے بڑوں نے دونوں فریقین کے درمیان ایک معاہدہ کروایا جس کے تحت شوہر بچے کے نان نفقے کے حوالے سے 60 ہزار روپے ادا کرے گا۔
عدالتی حکم نامے کے مطابق خاتون نے 2019ء میں بچے کے نان نفقے کا دعویٰ دائر کیا جس پر درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ معاہدے کے باوجود دعویٰ دائر کرنا غیر قانونی ہے تاہم عدالت نے قرار دیا کہ مالی تنگی بھی باپ کی نان نفقے کی ذمے داری ختم نہیں کر سکتی اور نابالغ بچے کا نان نفقہ باپ پر مستقل جاری رہنے والا فریضہ ہے۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ کسی نجی معاہدے یا رضامندی نامے کے ذریعے نابالغ بچے کا نان نفقے کا حق ختم نہیں کیا جا سکتا۔
عدالت نے واضح کیا ہے کہ نان نفقہ باپ پر صرف قانونی ہی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمے داری بھی ہے جبکہ غیر ادا شدہ نان نفقہ باپ پر قابلِ نفاذ قرض ہے جو ختم نہیں ہو سکتا۔
لاہور ہائی کورٹ نے باپ کی درخواست خارج کرتے ہوئے فیصلے کی کاپی لاء اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارتِ قانون و انصاف کو بھی بھیجنے کا حکم دیا ہے۔