ٹرمپ کے بیان نے بھارت امریکا تجارتی معاہدے کا ’تاریخی دعویٰ‘ بے نقاب کر دیا
اشاعت کی تاریخ: 21st, February 2026 GMT
تاریخی قرار دیا گیا امریکا کے ساتھ بھارتی تجارتی معاہدہ اب صدر ٹرمپ کے بیان کے بعد بھارتی ناکامی میں بدلتا دکھائی دے رہا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق صدر ٹرمپ نے حالیہ بیان میں کہا کہ کچھ بھی نہیں بدلا وہ (بھارت) ٹیرف دے رہے ہیں، ہم نہیں دے رہے۔
صدر ٹرمپ نے واضح کردیا کہ تجارتی معاہدے میں فائدہ صرف امریکا کو حاصل ہوگا اور بھارت ہی بھاری ٹیرف ادا کرے گا۔
واضح رہے کہ 2 فروری 2026 کو صدر ٹرمپ نے مودی کے ساتھ تجارتی معاہدے کا اعلان کیا تھا۔ صدر ٹرمپ کا حالیہ بیان ان حلقوں کے لیے کاری ضرب ہے جو اس معاہدے پر جشن منا رہے تھے۔
اس سے پہلے بھارت کے لئیے صدر ٹرمپ کی حکمت عملی میں سخت بیانات، معاشی دباؤ، مشروط رعایت کے دعوے شامل رہے۔ مئی 2025 میں صدر ٹرمپ نے خبردار کیا تھا کہ آئی فونز امریکہ میں تیار ہوں گے ورنہ 25 فیصد ٹیرف بھارت پر لگے گا۔
جولائی 2025 کو بھارت پر 25 فیصد ٹیرف عائد کیا گیا اور بھارتی تجارتی رکاوٹیں دنیا میں سب سے بلند قرار پائیں۔ اگست 2025 کو روسی تیل کی خریداری پر مزید 25 فیصد اضافی ٹیرف نافذ کیا گیا اور بھارت کو مردہ معیشت قرار دیا گیا۔
ماہرین کے مطابق صدر ٹرمپ کے بیان نے امریکا کے ساتھ تجارتی معاہدے کے بھارتی سفارتی بیانیے کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اگر معاہدے کے بعد بھی بھارت ہی مالی قیمت ادا کر رہا ہے تو اسے کامیابی کہنا خود فریبی کے مترادف ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: تجارتی معاہدے
پڑھیں:
نابالغ بچے کا نان نفقہ کسی معاہدے سے ختم نہیں کیا جا سکتا: لاہور ہائیکورٹ
لاہور ہائی کورٹ---فائل فوٹولاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا ہے کہ باپ نابالغ بچے کے مستقبل کے نان نفقے کا حق کسی معاہدے یا رضامندی نامے کے ذریعے ختم نہیں کر سکتا۔
لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے درخواست پر تفصیلی تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
عدالت نے معاہدے کی بنیاد پر بچے کا نان نفقہ ختم کرنے سے متعلق باپ کی اپیل خارج کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ، فیملی کورٹ اور اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے ہیں۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ درخواست گزار کے مطابق بورڈنگ کارڈ جاری ہونے کے بعد اچانک آف لوڈ کیا گیا اور صرف اس خدشے پر سفر سے روکا گیا کہ شاید دبئی سے واپس نہ آئے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق فریقین کی شادی 2002ء میں ہوئی تھی جبکہ 2005ء میں طلاق ہو گئی، طلاق کے بعد خاندان کے بڑوں نے دونوں فریقین کے درمیان ایک معاہدہ کروایا جس کے تحت شوہر بچے کے نان نفقے کے حوالے سے 60 ہزار روپے ادا کرے گا۔
عدالتی حکم نامے کے مطابق خاتون نے 2019ء میں بچے کے نان نفقے کا دعویٰ دائر کیا جس پر درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ معاہدے کے باوجود دعویٰ دائر کرنا غیر قانونی ہے تاہم عدالت نے قرار دیا کہ مالی تنگی بھی باپ کی نان نفقے کی ذمے داری ختم نہیں کر سکتی اور نابالغ بچے کا نان نفقہ باپ پر مستقل جاری رہنے والا فریضہ ہے۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ کسی نجی معاہدے یا رضامندی نامے کے ذریعے نابالغ بچے کا نان نفقے کا حق ختم نہیں کیا جا سکتا۔
عدالت نے واضح کیا ہے کہ نان نفقہ باپ پر صرف قانونی ہی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمے داری بھی ہے جبکہ غیر ادا شدہ نان نفقہ باپ پر قابلِ نفاذ قرض ہے جو ختم نہیں ہو سکتا۔
لاہور ہائی کورٹ نے باپ کی درخواست خارج کرتے ہوئے فیصلے کی کاپی لاء اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارتِ قانون و انصاف کو بھی بھیجنے کا حکم دیا ہے۔