غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق ٹرمپ سے جب سوال کیا گیا کہ کیا وہ ایران پر محدود پیمانے پر حملہ کرنے کا سوچ رہے ہیں، جس پر ٹرمپ نے جواب میں کہا کہ "میرے خیال میں یہ بتا سکتا ہوں کہ میں اس بارے میں غور کر رہا ہوں۔" اسلام ٹائمز۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران کے خلاف محدود فوجی کارروائی پر غور کر رہے ہیں، تاہم اس حوالے سے مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔ غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق ٹرمپ سے جب سوال کیا گیا کہ کیا وہ ایران پر محدود پیمانے پر حملہ کرنے کا سوچ رہے ہیں، جس پر ٹرمپ نے جواب میں کہا کہ "میرے خیال میں یہ بتا سکتا ہوں کہ میں اس بارے میں غور کر رہا ہوں۔" اس سے قبل امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے انکشاف کیا تھا کہ امریکی صدر ایران کے خلاف محدود فوجی حملے پر غور کر رہے ہیں۔ امریکی اخبار کی رپورٹ کے مطابق اس حملے میں ایرانی فوجی یا سرکاری مقامات کو نشانہ بنایا جاسکتا ہے۔

امریکی اخبار کے مطابق محدود حملے پر غور کا مقصد ایران کو جوہری معاہدے پر مجبور کرنا ہے، ایران معاہدے کو قبول نہ کرے تو حملے کو وسیع جنگ تک بڑھایا جا سکتا ہے۔
یاد رہے کہ امریکی صدر اس سے قبل بھی واضح کرچکے ہیں کہ وہ ایران کے معاملے پر سفارتکاری کو ترجیح دیتے ہیں، تاہم ساتھ ہی انہوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر ضروری ہوا تو فوجی طاقت کا استعمال بھی کیا جا سکتا ہے۔ گذشتہ روز غزہ بورڈ آف پیس کے پہلے اجلاس سے خطاب میں بھی امریکی صدر نے دھمکی دی تھی کہ اگر ایران نے معاہدہ نہ کیا تو نتائج انتہائی سنگین ہوں گے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: امریکی صدر کے مطابق وہ ایران رہے ہیں

پڑھیں:

ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر

 ایرانی سفیر رضا امیری مقدم(فائل فوٹو)۔ 

پاکستان میں متعین ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے کہا کہ ٹرمپ کی خام خیالی تھی کہ وہ ہمیں مذاکرات میں مشغول کرکے حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے۔ 

ایرانی سفیر نے کہا کہ میناب میں اسکول اور عام شہریوں کو نشانہ بنایا گیا، امریکا اور اسرائیل کو 40 روزہ جنگ کے بعد شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ 

اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے مزید کہا کہ مذاکرات کے حوالے پاکستان ثالث کے طور پر ابھرا، ہم مذاکرات میں اس لیے آئے کہ ہماری نیت ہے، ٹرمپ کہتے ہیں کہ ہمارے پاس ایٹمی ہتھیار نہیں ہونے چاہئیں۔

ایرانی سفیر نے کہا ہمارے رہبر اعلیٰ نے فتویٰ دیا ہوا ہے کہ ہم ایٹمی ہتھیاروں کو حرام سمجھتے ہیں، مذاکرات کی میز پر امریکی کہتے ہیں آپ یورینیم بھی افزودہ نہیں کرسکتے۔  

رضا امیری مقدم نے کہا کہ ایٹمی ہتھیاروں اور پرامن مقاصد کیلئے یورینیم افزودہ کرنا الگ ہے، امریکا اور مغرب کے سامنے ایران کبھی نہیں جھکے گا۔ 

ایرانی سفیر نے کہا کہ ٹرمپ صبح سے شام تک دیوانوں کی طرح باتیں کرتے رہتے ہیں، ان کی خام خیالی تھی کہ وہ ہمیں مذاکرات میں مشغول کرکے حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے۔

متعلقہ مضامین

  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
  • آبنائے ہرمز بحالی پر بھی ایران سے پابندیاں نہیں ہٹائینگے: مارکوروبیو
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
  • واپڈا صارفین کے لیے خوشخبری، جون میں 20 پیسے فی یونٹ ریلیف برقرار
  • امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار