ایران پر محدود حملہ کرنے کے بارے میں سوچ رہا ہوں، ڈونلڈ ٹرمپ
اشاعت کی تاریخ: 21st, February 2026 GMT
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق ٹرمپ سے جب سوال کیا گیا کہ کیا وہ ایران پر محدود پیمانے پر حملہ کرنے کا سوچ رہے ہیں، جس پر ٹرمپ نے جواب میں کہا کہ "میرے خیال میں یہ بتا سکتا ہوں کہ میں اس بارے میں غور کر رہا ہوں۔" اسلام ٹائمز۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران کے خلاف محدود فوجی کارروائی پر غور کر رہے ہیں، تاہم اس حوالے سے مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔ غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق ٹرمپ سے جب سوال کیا گیا کہ کیا وہ ایران پر محدود پیمانے پر حملہ کرنے کا سوچ رہے ہیں، جس پر ٹرمپ نے جواب میں کہا کہ "میرے خیال میں یہ بتا سکتا ہوں کہ میں اس بارے میں غور کر رہا ہوں۔" اس سے قبل امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے انکشاف کیا تھا کہ امریکی صدر ایران کے خلاف محدود فوجی حملے پر غور کر رہے ہیں۔ امریکی اخبار کی رپورٹ کے مطابق اس حملے میں ایرانی فوجی یا سرکاری مقامات کو نشانہ بنایا جاسکتا ہے۔
امریکی اخبار کے مطابق محدود حملے پر غور کا مقصد ایران کو جوہری معاہدے پر مجبور کرنا ہے، ایران معاہدے کو قبول نہ کرے تو حملے کو وسیع جنگ تک بڑھایا جا سکتا ہے۔
یاد رہے کہ امریکی صدر اس سے قبل بھی واضح کرچکے ہیں کہ وہ ایران کے معاملے پر سفارتکاری کو ترجیح دیتے ہیں، تاہم ساتھ ہی انہوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر ضروری ہوا تو فوجی طاقت کا استعمال بھی کیا جا سکتا ہے۔ گذشتہ روز غزہ بورڈ آف پیس کے پہلے اجلاس سے خطاب میں بھی امریکی صدر نے دھمکی دی تھی کہ اگر ایران نے معاہدہ نہ کیا تو نتائج انتہائی سنگین ہوں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: امریکی صدر کے مطابق وہ ایران رہے ہیں
پڑھیں:
ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر
ایرانی سفیر رضا امیری مقدم(فائل فوٹو)۔پاکستان میں متعین ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے کہا کہ ٹرمپ کی خام خیالی تھی کہ وہ ہمیں مذاکرات میں مشغول کرکے حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے۔
ایرانی سفیر نے کہا کہ میناب میں اسکول اور عام شہریوں کو نشانہ بنایا گیا، امریکا اور اسرائیل کو 40 روزہ جنگ کے بعد شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے مزید کہا کہ مذاکرات کے حوالے پاکستان ثالث کے طور پر ابھرا، ہم مذاکرات میں اس لیے آئے کہ ہماری نیت ہے، ٹرمپ کہتے ہیں کہ ہمارے پاس ایٹمی ہتھیار نہیں ہونے چاہئیں۔
ایرانی سفیر نے کہا ہمارے رہبر اعلیٰ نے فتویٰ دیا ہوا ہے کہ ہم ایٹمی ہتھیاروں کو حرام سمجھتے ہیں، مذاکرات کی میز پر امریکی کہتے ہیں آپ یورینیم بھی افزودہ نہیں کرسکتے۔
رضا امیری مقدم نے کہا کہ ایٹمی ہتھیاروں اور پرامن مقاصد کیلئے یورینیم افزودہ کرنا الگ ہے، امریکا اور مغرب کے سامنے ایران کبھی نہیں جھکے گا۔
ایرانی سفیر نے کہا کہ ٹرمپ صبح سے شام تک دیوانوں کی طرح باتیں کرتے رہتے ہیں، ان کی خام خیالی تھی کہ وہ ہمیں مذاکرات میں مشغول کرکے حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے۔