ایک سیاسی محقق کے ٹرمپ سے چھے سوال
اشاعت کی تاریخ: 20th, February 2026 GMT
اسلام ٹائمز: نیٹ سوانسن خود کو اس قابل نہیں سمجھتے کہ وہ پیشین گوئی کر سکیں کہ امریکہ کا اگلا اقدام کیا ہوگا یا انھوں نے جان بوجھ کر اس کا اظہار نہیں کیا۔ ظاہرا معاشی و عسکری دباؤ کا مقصد ایران کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کرنا ہے، تاہم امریکہ اور اس کے اتحادی واضح ہیں کہ ایران وینزویلا نہیں ہے اور نہ ہی اسے اطاعت محض پر مجبور کیا جاسکتا ہے۔ ایسی صورتحال میں فوجی آپشن ہی باقی رہ جاتا ہے۔ ٹرمپ نے آج ایک صحافی کو جواب دیتے ہوئے کہا کہ ہم محدود حملوں پر غور کر رہے ہیں۔ یقیناً ان کی محدود سے مراد ایسا حملہ ہے جو ایران کے کمانڈ اینڈ کنڑول سسٹم، ائیر ڈیفنس اور میزائل سسٹم کو ناکارہ بنا دے، اس معاملے میں اگر امریکہ کو کامیابی نہیں ملتی تو ایران کا جواب بہت وسیع اور سخت ہوگا۔ تالیف: سید اسد عباس
تحقیقی ادارے اٹلانٹک کونسل کے سینیئر فیلو برائے مشرق وسطی "نیٹ سوانسن" لکھتے ہیں کہ ایران پر حملہ کرنے سے قبل ٹرمپ کو درج ذیل چھے سوالات کا جواب دینا چاہیئے۔ نیٹ سوانسن نے لکھا کہ اس وقت خلیج کے علاقے میں جتنا فوجی سازوسامان اور بحری افواج کو جمع کیا گیا ہے وہ فقط علامتی یاسفارتی دباؤ کے لیے نہیں ہے۔ سوانسن اگرچہ ایک مغربی محقق ہے تاہم اس نے حالات کا درست تجزیہ کرنے کی کوشش کی ہے، بالاخص اس کا تجزیہ مغربی نقطہ نظر سے زیادہ اہم ہے۔
یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے آئندہ پندرہ روز کے اندر ایران اور امریکہ کے مابین کوئی معاہدہ طے پا جانا چاہیئے۔ معاہدے سے ٹرمپ کی مراد ایران کے ایٹمی پروگرام کا خاتمہ، ایران کے میزائل پروگرام کو محدود کرنا، علاقائی مزاحمتی گرہوں کی حمایت کا خاتمہ اور ایران میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا خاتمہ ہے جسے ٹرمپ اور اس کے مذاکرات کاروں نے ریڈ لائنز قرار دیا ہے۔ ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ ہم ایٹمی پروگرام کے حوالے سے بات کرنے کے لیے آمادہ ہیں۔ ان کا ایک بیان آج سامنے آیا ہے جس میں انھوں نے کہا ہے آئندہ دو تین روز میں معاہدے کی ایک تحریری پرپوزل امریکی مذاکرات کاروں تک پہنچا دی جائے گی۔ نیٹ سوانسن کے چھے سوالات حسب ذیل ہیں:
1۔ فوجی مہم کا مقصد کیا ہے؟
سوانسن کا کہنا ہے وائٹ ہاؤس نے ابھی تک اس بات کی وضاحت نہیں کی ہے کہ انتظامیہ ایک فوجی مہم کے ذریعے کیا حاصل کرنے کی امید کر رہی ہے۔ وہ اپنے ہی سوال کا جواب دیتے ہوئے لکھتے ہیں ۔اس حوالے سے تین ممکنہ آپشنز موجود ہیں:
یکم: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا خیال ہے کہ حملہ ایٹمی اور تخفیفِ اسلحہ کے مذاکرات میں ان کی پوزیشن کو مضبوط کرے گا۔
دوئم: انتظامیہ ایران کی قیادت کو، جس میں ممکنہ طور پر سپریم لیڈر علی خامنہ ای بھی شامل ہیں، نمایاں طور پر کمزور کرنے یا ختم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
سوئم: فوجی حملے زیادہ تر علامتی ہوں گے، جو ایرانی مظاہرین کی حمایت سے متعلق امریکی صدر کے وعدے کو پورا کریں گے اور ان کی اس "ریڈ لائن" (سرخ لکیر) کی وارننگ کا جواب ہوں گے جس میں انھوں نے حکومت کو مظاہرین کے خلاف مہلک طاقت استعمال کرنے سے روکا تھا۔
سوانسن کا کہنا ہے اگر یہ انتظامیہ کے مقاصد ہیں، تو ان کے حصول میں بڑی رکاوٹیں حائل ہیں۔ ایران کتنا ہی کمزور کیوں نہ ہو جائے، اس بات کا امکان بہت کم ہے کہ خامنہ ای کلیدی مسائل، جیسے کہ ایران کا میزائل پروگرام، پر ہتھیار ڈال دیں گے، کیونکہ ایسا لگتا ہے کہ ایرانی حکومت نے یہ فیصلہ کر رکھا ہے کہ اپنی صلاحیتوں کو ختم کرنا ایک فوجی حملے کا شکار ہونے سے زیادہ خطرناک ہے۔ نظریاتی طور پر، خامنہ ای امریکہ کے سامنے جھکنے کے بجائے شہید کے طور پر مرنے کو ترجیح دیں گے۔
اگر حکومت کی تبدیلی یا قیادت کا خاتمہ ہدف ہے، تو اس سلسلے میں بڑا چیلنج یہ ہے کہ جانشین کے طور پر کس کی حمایت کی جائے۔ 28 جنوری کو امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کی کانگریس میں دی گئی سنجیدہ گواہی سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کے خیال میں کوئی بھی جانشین غالباً حکومت کے اندر سے ہی آئے گا، لیکن ایران میں کوئی واضح "ڈیلسی روڈریگز" (وینزویلا جیسی) جیسی شخصیت موجود نہیں ہے۔ اس بات کی بھی کوئی ضمانت نہیں ہے کہ خامنہ ای کا متبادل ان سے بہتر ہوگا۔
2۔ جواب میں ایران کیا کر سکتا ہے؟
سوانسن لکھتے ہیں حملوں کے نئے دور کے جواب کا تعین کرنے میں ایران کی جانب سے غلط اندازے کا خطرہ بہت زیادہ ہے۔ اس ممکنہ تنازع کی تیاری کے دوران، ایران نے بارہا امریکہ اور اسرائیل پر علاقائی جنگ مسلط کرنے کی دھمکی دی ہے لیکن ماضی میں، ایران نے غیر ملکی حملوں کے خلاف اپنے فوجی ردعمل کو عام طور پر تناسب کے مطابق (اپنے تخمینے میں) رکھا ہے۔ چنانچہ، اگر ایران یہ محسوس کرتا ہے کہ امریکی حملے بنیادی طور پر علامتی ہیں، تو وہ اپنے ردعمل کو اسی کے مطابق ترتیب دے سکتا ہے۔ ساتھ ہی، ایران ایک ایسی پیچیدہ الجھن کا شکار ہے جو اس تنازع سے بھی آگے تک پھیلی ہوئی ہے۔ تہران امریکہ (یا اسرائیل) کے ساتھ طویل جنگ نہیں جیت سکتا، لیکن حکومت کے اندر یہ تاثر بڑھ رہا ہے کہ فوج کو مستقبل کے حملوں کے خلاف دفاعی توازن (Deterrence) بحال کرنے کے لیے امریکیوں کو جانی نقصان پہنچانے کی ضرورت ہے۔
غور کرنے کے لیے ایک اور نامعلوم پہلو بھی ہے: ایرانی پراکسیز۔ اگرچہ یہ گروپ ماضی میں امریکی اور اسرائیلی فوجی حملوں کے ایرانی ردعمل سے بڑی حد تک غائب رہے ہیں، لیکن اب ایران کو جلد فیصلہ کرنا ہوگا کہ آیا وہ فوری طور پر پیچھے ہٹنے کا راستہ تلاش کرے یا، جیسا کہ حکومت دیکھتی ہے، مستقبل کے حملوں کے خلاف دفاعی توازن بحال کرنے کی کوشش کرے۔ بصورتِ دیگر، ایران کے نقطہ نظر سے، امریکہ اور اسرائیل جب بھی مناسب سمجھیں گے، ایران کو نشانہ بناتے رہیں گے۔
3۔ کیا اس بار ٹرمپ کو کسی قسم کے نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا؟
سوانسن لکھتے ہیں: ٹرمپ کی جانب سے ایران پر ایک اور حملے پر غور کرنے کی ایک وجہ یہ ہے کہ انھوں نے غالباً یہ نتیجہ اخذ کر لیا ہے کہ جون 2025ء میں ایران کے خلاف اسرائیل کی بارہ روزہ جنگ یا گزشتہ ماہ کے "ماڈورو آپریشن" میں امریکی شمولیت کے کوئی حقیقی فوجی یا سیاسی اثرات مرتب نہیں ہوئے تھے۔ شاید مہم کی وسعت پر منحصر ہے کہ یہ سلسلہ جاری رہے۔ تاہم، ٹرمپ انتظامیہ کے لیے ایران کے خلاف نئی مہم کے دائرہ کار کا تعین کرنا، ایران اور وینزویلا میں ہونے والے سابقہ محدود آپریشنز کے مقابلے میں زیادہ مشکل ہو سکتا ہے۔ اگر ایران جوابی کارروائی کی کوشش کرتا ہے، تو ٹرمپ اپنے مقاصد اور تنازع کے رخ کو وسعت دینے پر مجبور ہو سکتے ہیں۔ ایسی صورت میں، فیصلہ کن کارروائی اور اتنے ہی فیصلہ کن طریقے سے پیچھے ہٹنے کے ان کے پرانے پیٹرن کو اس بار دہرانا مشکل ہوگا۔
4۔ کیا تنازع سے پہلے کوئی قابلِ عمل سفارتی راستہ موجود ہے؟
نیٹ سوانسن لکھتے ہیں :غالباً نہیں۔ اطلاعات کے مطابق ایران کے پاس امریکی "ریڈ لائنز" پر ٹھوس پیش رفت دکھانے کے لیے دو ہفتے کا وقت ہے، لیکن ہو سکتا ہے کہ نیا تنازع اتنا انتظار نہ کرے۔ اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ ایران کسی بامعنی معاہدے کے لیے ضروری رعایتیں دینے کے قابل نظر نہیں آتا۔ اب تک ایران صرف اپنے ایٹمی پروگرام پر بات کرنے پر بضد رہا ہے، اور وہ "افزودگی کے حق" پر قائم نظر آتا ہے حالانکہ وہ اس وقت یورینیم افزودہ نہیں کر رہا۔ ایران نے علاقائی وزرائے خارجہ کے مذاکرات میں شامل ہونے پر بھی اعتراض کیا اور اسے مذاکرات شروع ہونے سے پہلے ہی اپنی کچھ متوقع رعایتوں (خاص طور پر اپنی 60 فیصد افزودہ یورینیم باہر بھیجنے) سے پیچھے ہٹنا پڑا۔
وسیع تناظر میں دیکھا جائے تو ایران "جے سی پی او اے 2.
5۔ ایرانی عوام فوجی مہم پر کیسا ردعمل دیں گے؟
نیٹ سوانسن کا کہنا ہے: جنوری میں مظاہرین کے خلاف شدید کریک ڈاؤن کے بعد، ایران کے سیکیورٹی اداروں نے گلیوں پر دوبارہ کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔ لہٰذا، مظاہرین کی "مدد" کا موقع غالباً ہاتھ سے نکل چکا ہے۔ پھر بھی، یہ پیش گوئی کرنا مشکل ہے کہ زیادہ تر ایرانی ایک نئی امریکی فوجی مہم پر کیا ردعمل دیں گے۔ اطلاعات کے مطابق بارہ روزہ جنگ میں نو سو ایرانی ہلاک ہوئے تھے، جن میں بہت سے شہری بھی شامل تھے۔ فوجی مداخلت کا مطالبہ کرنے والے زیادہ تر ایرانی اس وقت شاید "سرجیکل اسٹرائیکس" (نشانے پر کیے گئے حملوں) کی امید کر رہے ہیں، نہ کہ ہفتوں طویل مہم کی جس میں مزید شہری ہلاکتوں کا خطرہ ہو۔ وہ حملے جو سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کو نشانہ بنائیں، شاید مزید ایرانیوں کو سڑکوں پر واپس لے آئیں لیکن ٹرمپ انتظامیہ کو اس امکان پر بھروسہ نہیں کرنا چاہیے، کیونکہ بارہ روزہ جنگ کے دوران ایرانیوں نے احتجاج یا بغاوت کی بیرونی کالوں پر کوئی ردعمل نہیں دیا تھا۔
6۔ علاقائی امریکی اتحادیوں کا کیا کردار ہوگا؟
نیٹ سوانسن آخری سوال کرتے ہوئے کہتے ہیں: گزشتہ ایک ماہ کے دوران امریکہ کے عرب اور ترک شراکت داروں نے ٹرمپ انتظامیہ پر زور دیا ہے کہ وہ کشیدگی کم کرے اور ایران کے ساتھ تنازع سے گریز کرے۔ ان میں سے بہت سے شراکت دار اپنے ممالک میں امریکی افواج کی میزبانی بھی کرتے ہیں اور ماضی میں ایرانی جارحیت کا نشانہ بھی بن چکے ہیں۔ جیسے جیسے تنازع کے امکانات بڑھ رہے ہیں، ان کے اگلے اقدامات کو دیکھنا ایک اہم اشارہ ہوگا۔ 2019 میں امریکہ کی "زیادہ سے زیادہ دباؤ" کی مہم کے دوران، ایران نے متحدہ عرب امارات (UAE) اور سعودی عرب کو کامیابی سے نشانہ بنایا تھا، جس کی وجہ سے ایران کے بارے میں ان کی متعلقہ پالیسیوں میں نمایاں تبدیلیاں آئی تھیں۔ ایران اور خلیج کے تعلقات اب یقیناً مضبوط ہیں، اور متحدہ عرب امارات و سعودی عرب پہلے ہی اعلان کر چکے ہیں کہ امریکہ ان کی فضائی حدود حملوں کے لیے استعمال نہیں کر سکتا لیکن خلیجی ممالک کے ٹرمپ پر واضح اثرات ہیں اور ایرانی یہ بات جانتے ہیں، اگر ایران اس بار صورتحال کو جلد ٹھنڈا نہ کر سکا تو کیا وہ خلیج پر غصہ نکالے گا؟
سوانسن کے مطابق یہ فرض کرنا درست ہوگا کہ اسرائیل اس مہم میں کسی نہ کسی شکل میں حصہ لے گا۔ اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو ایران کے میزائل پروگرام سے اسرائیل کو لاحق خطرے کے بارے میں واضح موقف رکھتے ہیں۔ ایک اشارہ جو تنازع کی طوالت پر اثر انداز ہو سکتا ہے وہ یہ ہے کہ آیا اسرائیل کے پاس کافی فضائی دفاعی انٹرسیپٹرز (میزائل شکن نظام) موجود ہیں یا نہیں۔ نیٹ سوانسن لکھتے ہیں: امریکی عوام کی رائے بھی اس تنازع کے انجام پر اثر انداز ہوگی۔ وہ ادارئیے جو ٹرمپ کو باراک اوباما جیسا نہ بننے کا مشورہ دے رہے ہیں، غالباً ان کے فیصلوں پر اثر ڈالتے ہیں۔ دوسری طرف، 70 فیصد امریکی ایران میں فوجی مداخلت کے مخالف ہیں۔ ٹرمپ عام طور پر امریکی پولنگ کے حوالے سے حساس ہیں، اور انھوں نے مسلسل "احمقانہ نہ ختم ہونے والی جنگوں" کو ختم کرنے کے خلاف مہم چلائی ہے۔ یہ واضح ہے کہ ٹرمپ ایران پر کسی بھی ادھورے اقدام کو قبول نہیں کریں گے۔ ملک گیر احتجاج کے جواب میں ایران کی جانب سے اپنے ہی ہزاروں لوگوں کو ہلاک کرنے کے ایک ماہ بعد، امریکی صدر نے اپنی پالیسی کے آپشنز کو ایک نئے ایٹمی معاہدے یا فوجی کارروائی تک محدود کر دیا ہے۔ جیسے جیسے مؤخر الذکر (فوجی کارروائی) کا امکان بڑھ رہا ہے، امید ہے کہ انتظامیہ کے پاس ان اور ان جیسے کئی مزید سوالات کے جوابات موجود ہوں گے۔
نیٹ سوانسن کے سوالات اور ان کے جوابات سے اختلاف ممکن ہے تاہم انھوں نے ایران امریکہ کشیدگی کے حوالے سے مختلف پہلوؤں کو منطقی انداز سے بیان کیا ہے جو اس مسئلہ کے نتائج کو سمجھنے میں آسانی فراہم کرتا ہے۔ نیٹ سوانسن خود کو اس قابل نہیں سمجھتے کہ وہ پیشین گوئی کر سکیں کہ امریکہ کا اگلا اقدام کیا ہوگا یا انھوں نے جان بوجھ کر اس کا اظہار نہیں کیا۔ ظاہرا معاشی و عسکری دباؤ کا مقصد ایران کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کرنا ہے، تاہم امریکہ اور اس کے اتحادی واضح ہیں کہ ایران وینزویلا نہیں ہے اور نہ ہی اسے اطاعت محض پر مجبور کیا جاسکتا ہے۔ ایسی صورتحال میں فوجی آپشن ہی باقی رہ جاتا ہے۔ ٹرمپ نے آج ایک صحافی کو جواب دیتے ہوئے کہا کہ ہم محدود حملوں پر غور کر رہے ہیں۔ یقیناً ان کی محدود سے مراد ایسا حملہ ہے جو ایران کے کمانڈ اینڈ کنڑول سسٹم، ائیر ڈیفنس اور میزائل سسٹم کو ناکارہ بنا دے، اس معاملے میں اگر امریکہ کو کامیابی نہیں ملتی تو ایران کا جواب بہت وسیع اور سخت ہوگا، جس سے امریکی و اسرائیلی ہلاکتیں یقینی ہیں۔ امریکہ اور اسرائیل اسی خطرے سے خوفزدہ ہیں یا اسے کم سے کم رکھنے کے لیے منصوبہ بندی کر رہے ہوں گے۔
میں سمجھتا ہوں یہ ایسا وقت ہے جب روس، چین اور دیگر امن پسند اقوام کو میدان میں اترنا چاہیئے اور سفارتکاری کے ذریعے جنگی آپشن کو روکنا چاہیئے۔ یہ بات تو حتمی ہے کہ امریکہ یا اسرائیل ایران میں زمینی افواج نہیں اتار سکتے، تاہم اگر معاشرے میں بدامنی اور خلفشار جنم لیتا ہے تو یہ بھی ان کے لیے گھاٹے کا سودا نہیں ہے۔ ایران میں خدا نخواستہ اگر کسی بھی قسم کی بد امنی یا ہنگامی صورتحال جنم لیتی ہے تو یہ پورے خطے کے لیے معاشی اور سیاسی مسائل کو جنم دے گی جس کا خطے کے ممالک کو بخوبی احساس ہے اور وہ اسے روکنے کا کوئی سفارتی دقیقہ فروگزاشت نہیں کر رہے۔ خطے کے ممالک امریکہ یا اسرائیل کو طاقت سے روکنے کی صلاحیت نہیں رکھتے، نہ ہی وہ ان دونوں کو اپنے خطے سے نکالنے کی سکت رکھتے ہیں۔ مجھے تصادم بدیہی دکھائی دے رہا ہے، جس میں ایران کا جوابی وار جنگ کی سمت کے تعین کے لیے اہم ہوگا۔ میری نظر میں معاملے کا ایک پرامن سیاسی حل بھی ممکن ہے تاہم اس کے لیے بہت کلیدی فیصلے درکار ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ٹرمپ انتظامیہ امریکہ اور اس اور اسرائیل نیٹ سوانسن کا کہنا ہے کی کوشش کر ایران میں کہ امریکہ میں ایران کے دوران کے مطابق ایران نے حملوں کے کہ ایران ایران کے حوالے سے فوجی مہم ایران کو ایران کی انھوں نے کا خاتمہ خامنہ ای ایران کا کے لیے ا ہے کہ ان یہ ہے کہ سکتا ہے کرنے کی نہیں ہے کے جواب کرنے کے کا جواب نہیں کر کے خلاف ایک اور رہے ہیں کر رہے رہا ہے اور ان دیں گے ہوں گے ہیں کہ
پڑھیں:
باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
ایک نئی جنگ شروع ہوتی نظر آرہی ہے۔ یمن کے حوثیوں نے بحیرہ احمر سے باب المندب بند کر دیا ہے۔پہلے امریکا ایران جنگ کی وجہ سے دنیا جنگ کا شکار ہے۔ پوری کوشش کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا۔آبنائے ہرمز کی بندش کی وجہ سے دنیا میں تیل کی قیمتیں اوپر جا رہی ہیں۔ اب باب المندب کی بندش تیل کی قیمتوں کو مزید اوپر لے کر جائے گی۔ جس کی وجہ تیل کی عالمی قیمتوں میں اضافہ اور ایک بحرانی کیفیت بنتی نظر آرہی ہے۔
باب المندب کی بندش کے بعد حوثیوں نے سعودی عرب کے دو تیل کے ٹینکرز کو بھی تباہ کر دیا ہے۔ ایک تیل کے ٹینکر کو میزائیل لگنے کی سعودی عرب نے تصدیق کر دی ہے۔ عالمی منڈی کا رحجان یہی رہا ہے کہ جب تیل کا ایک ٹینکر تباہ ہوتا ہے تو انشورنس ختم ہو جاتی ہے۔
کوئی کمپنی بھی اپنا جہاز وہاں سے گزارنے کے لیے تیار نہیں ہوتی۔ اس لیے حوثیوں کو باب المندب بند کرنے کے لیے دو جہاز ہی تباہ کرنے تھے ۔ باقی جہاز خود ہی آنے سے انکار کر دیں گے۔ اس لیے باب المندب بند ہوگیا ہے۔ اب جب تک یا تو حوثی اس کو کھولنے کا اعلان نہ کریں یا حوثیوں کی اس کو بند کرنے کی صلاحیت ختم نہ ہوجائے تب تک یہ کھل نہیں سکتا۔
حوثیوں کی جانب سے بندش کے اعلان کے بعد پاکستان کے دفتر خارجہ نے بھی ایک شدید سخت بیان جاری کیا تھا۔ جس میں کہا گیا تھا کہ اگر کسی پاکستانی جھنڈے کے حامل جہاز پر حملہ کیا گیا تو اس کا سخت جواب دیا جائے گا۔اس کے علاوہ باب المندب کی بندش کی مذمت بھی کی گئی تھی اور اس کے خلاف سخت رد عمل جاری کیا گیا تھا۔ لیکن اس بیان کے اگلے ہی دن سعودی عرب کے دو جہازوں پر حملہ کر دیا گیا ہے۔ یہ درست ہے کہ یہ پاکستانی جہاز نہیں تھے۔ لیکن یہ سعودی عرب کے جہاز تھے اور پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ بھی تھا۔
باب المندب بند کرنا لگتا ہے ایران کے لیے ناگزیر تھا۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کم ہی سہی لیکن ایک مناسب مقدار میں اپنا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کر رہے تھے۔ اس لیے ان کی تیل کی برآمد چل رہی تھی۔ کنویں بند نہیں ہو رہے تھے۔ وہاں کوئی خاص بحران نہیں تھا۔
دنیا کو بھی تیل مل رہا تھا اور ایسی خبریں آرہی تھیں کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات ایسی تیل کی لائنیں بچھا رہے ہیں کہ اگلے دو سال میں ان کا آبنائے ہرمز پر انحصار ختم ہو جائے گا۔ وہ اپنا سارا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کرنے کی پوزیشن میں ہونگے۔ یہ تیاری ایران کے آبنائے ہرمز پر کنٹرول رکھنے کی اہمیت کو کم کرنے کے لیے کی جا رہی ہے۔ اس لیے شائد ایران کو بھی سمجھ آگئی ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز سے جو بھی فائدہ اٹھانا ہے اس کی مدت کم ہے۔ عرب ممالک بالخصوص سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات متبادل بندوبست تیزی سے کر رہے ہیں۔
شائد اسی لیے ایران نے بھی حوثیوں کی حوصلہ افزائی کی ہے کہ وہ باب المندب بند کر دیں ۔ کیونکہ ایران کے پاس بھی وقت کم ہے۔ویسے بھی چند دن پہلے ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے مشیر نے ان کی طرف سے یہ بیان دیا تھا کہ اگر امریکا نے ایران پر بمباری بند نہ کی تو ایران جنگ کو وسیع کر دے گا۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ باب المندب بند کرنا جنگ کو وسیع کرنے کی ایک شکل ہے۔ جنگ پھیل گئی ہے۔ ایران جنگ کو پھیلانا چاہتا تھا تو اس نے پھیلا دی ہے۔
باب المندب سے دنیا کے تیل کی سات فیصد ترسیل ہوتی ہے۔ اس لیے سات فیصد کی ترسیل بند ہو گئی ہے۔ لیکن یہ صرف اتنی بات نہیں کئی ماہ سے یو اے ای اور سعودی عرب کے درمیان جاری سرد جنگ بھی یک دم ختم ہوگئی ہے۔ باب المندب بند ہونے کی خبر کیا آئی سعودی عرب اور یو اے ای میں صلح ہوگئی دونوں کے وزراء نے ایک دوسرے کے ساتھ تصویر پوسٹ کر دیں کہ ہم بھائی ہیں۔ آبنائے ہرمز کی بندش تو انھیں اکٹھا نہیں کر سکی لیکن باب المندب کی بندش نے انھیں اکٹھا کر دیا۔ اب آگے کا منظر نامہ کیا ہو سکتا ہے۔ پاکستان اورسعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ موجود ہے۔
اگر سعودی عرب باب المندب کھلوانے کے لیے حوثیوں کے ساتھ جنگ شروع کرتا ہے اور جواب میں حوثی سعودی عرب پر حملہ کرتے ہیں تو پاکستان اپنے دفاعی معاہدہ کے تحت سعودی عرب کے ساتھ کھڑے ہونے کا پابند ہوگا۔ کیسے اور کتنا، اس سوال کا ابھی تک کسی کے پاس کوئی جواب نہیں۔ لیکن حوثیوں نے یہ خبردار کیا ہے کہ اگر ان پر کسی بھی قسم کا کوئی بھی حملہ کیا گیا تو وہ سعودی عرب کی تیل اور دیگر تنصیبات کو نشانہ بنائیں گے۔ایک عمومی رائے یہ ہے کہ اتنی سخت بمباری کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا تو کیا صرف بمباری سے باب المندب کھلوایا جا سکے گا۔ حوثی بھی جواب میں میزائل ماریں گے۔
یہ درست ہے کہ ان کے پاس ایران جتنے میزائل نہیںہیں۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ان کے پاس میزائل ہیں۔ انھوں نے ماضی میں اسرائیل اور سعودی عرب پر میزائیل مارے بھی ہیں۔ شاید حوثیوں کو یہ لگ رہا ہے کہ جیسے ایران کی دیگر پراکسیوں کو ختم کیا جا رہا ہے۔ اگر وہ اس جنگ سے باہر رہتے ہیں تو بعد میں ان کی باری بھی آئے گی۔ اس لیے جنگ میں شامل ہونے کا یہ بہترین وقت ہے۔ باب المندب اور آبنائے ہرمز کا معاملہ اکٹھے طے کیا جائے، مل کر بات کی جائے، اس سے طاقت بڑھ جائے گی۔
اب سوال یہی ہے کہ پاکستان ایران امریکا لڑائی میں تو غیر جانبدار رہا۔ جس کی وجہ سے وہ آج تک ثالث ہے۔ لیکن کیا وہ باب المندب کی بندش اور سعودی عرب اور حوثیوں کی لڑائی میں بھی غیر جانبدار رہے گا۔ عملی طور پر یہ ممکن نظر نہیں آرہا۔ پاکستان کو سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہونا پڑے گا۔ اس کے علاوہ کوئی اور حل نظر نہیں آرہا۔ امریکا ایران میں مصروف ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے باب المندب کھلوانے کے لیے کردار ادا کرنے کا اعلان کیا ہے۔ لیکن پہلی ترجیح ایران ہی ہوگا۔ ایسے میں یہ لڑائی فی الحال سعودی عرب کو خود ہی لڑنی ہوگی۔ اگر پاکستان اس لڑائی میں شریک ہوتا ہے تو پھر اس کی ثالث کی پوزیشن بھی ختم ہو جائے گی۔ ایران پاکستان کو بھی لڑائی میں فریق سمجھے گا۔ خدشہ ہے کہ پاکستان بھی نہ چاہتے ہوئے لڑائی میں شامل ہو جائے گا۔ ہم پہلے بھی ایران کو بتا چکے ہیں کہ سعودی عرب ہماری ریڈ لائن ہے۔ لیکن شائد حوثی پاکستان کی اس بات کو نہیں سمجھیں گے، وہ سعودی عرب پر حملے کریں گے۔
اس تناظر میں دیکھا جائے تو لڑائی وسیع ہو رہی ہے۔ ایک خطرناک منظر نامہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ حوثیوں کے خلاف لڑائی میں پاکستان سعودی عرب ، یو اے ای ، امریکا اور اسرائیل مل کر لڑ رہے ہوں۔ یہ بھی لڑائی کی کوئی اچھی شکل نہیں ہوگی۔ لیکن اس کو مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ یہ ممکن ہے۔