امریکی بحری بیڑہ قریب تر پہنچ گیا؛ ایران میں لڑاکا طیارہ پُراسرار طور پر گر کر تباہ
اشاعت کی تاریخ: 20th, February 2026 GMT
ایران کے مغربی صوبے ہمدان میں ایک لڑاکا طیارہ گر کر تباہ ہو گیا اور اس میں خوفناک آگ بھڑک اُٹھی۔
ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی فارس نیوز کے مطابق لڑاکا طیارے نے دو پائلٹس کے ہمراہ پرواز بھری تھی۔
یہ طیارہ 31 ویں ٹیکٹیکل فائٹر اسکواڈرن سے تعلق رکھتا تھا۔ دوران پرواز مشکوک صورت حال کو دیکھتے ہوئے پائلٹس سے واپسی کا فیصلہ کیا۔
ہوا بازی کے ماہر نے العربیہ کو بتایا کہ پائلٹس کسی حد تک طیارے کو کنٹرول میں رکھتے ہوئے ہمدان کے ایئربیس تک واپس لانے میں کامیاب بھی ہوگئے تھے۔
انھوں نے مزید بتایا کہ لینڈنگ سے کچھ دیر پہلے جب گیئر کھولے گئے تو اچانک طیارہ ہچکولے کھاتے ہوئے زمین بوس ہوگیا۔
ترجمان ایرانی فوج نے بتایا کہ طیارے میں سوار دو پائلٹس میں سے ایک جان کی بازی ہار گیا جب کہ دوسرا پائلٹ محفوظ رہا۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ لڑاکا طیارے نے معمول کی تربیتی پرواز بھری تھی اور تاحال حادثے کی وجہ کا تعین نہیں ہوسکا۔
ایرانی فضائیہ کے دفتر برائے تعلقاتِ عامہ نے بتایا کہ حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
تاہم بیان میں طیارے کی قسم اور حادثے کے مکمل حالات سے متعلق مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔
دوسری جانب ایران کی ایروسپیس فورس نے اس قیاس آرائی پر کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا کہ آیا طیارہ دوستانہ فائرنگ کا نشانہ بنا یا نہیں ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: بتایا کہ
پڑھیں:
’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران پر اب تک کے سب سے بڑے فوجی حملے کی منظوری دینے کے قریب ہیں۔
امریکی خبر رساں ادارے سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ میں ایران پر ایک بہت بڑے حملے پر غور کر رہا ہوں جو پہلے ہونے والے تمام حملوں سے کہیں بڑا ہوگا۔
انھوں نے مزید کہا کہ اگرچہ ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ تمام عسکری آپشنز زیر غور ہیں۔ میں فیصلہ کرنے کے بہت قریب ہوں اور اس کی تمام تیاریاں بھی مکمل ہیں۔
امریکی صدر ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اگر وہ چاہیں تو اسرائیل دو منٹ میں اس کارروائی میں شامل ہو جائے گا تاہم ہمیں کسی کی ضرورت نہیں۔
قبل ازیں ایران کے حمایت یافتہ یمنی حوثیوں کے بحیرہ احمر میں دو سعودی آئل ٹینکروں پر حملے کے بعد امریکی صدر نے ایران اور حوثیوں دونوں کو بڑی فوجی سزا دینے کی دھمکی بھی دی تھی۔
صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا تھا کہ اگر حوثیوں نے دوبارہ ایسے حملے کیے تو امریکا انھیں ایران کی کارروائی تصور کرے گا کیونکہ حوثی اس کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔
دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت ایک بار پھر 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہے۔
بحیرہ احمر اور باب المندب میں جہاز رانی کو لاحق خطرات نے عالمی توانائی منڈی میں تشویش بڑھا دی ہے۔
ادھر اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے نے کہا کہ صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے۔ خطہ مسلسل وسیع ہوتے تصادم کی لپیٹ میں آ رہا ہے۔ ایک بحران دوسرے بحران کو جنم دے رہا ہے اور ہر نئی کشیدگی اگلی کشیدگی کا سبب بن رہی ہے۔