ایران کے ساتھ جاری کشیدگی اور تناؤ کے دوران امریکی بحریہ کا دنیا کا سب سے بڑا طیارہ بردار بحری جہاز ایو ایس ایس گیرالڈ آر فورڈ بحیرۂ روم میں داخل ہوگیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان جوہری مذاکرات کا دوسرا دور بھی شروع ہوگیا تاہم دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی تاحال برقرار ہے۔

ایسے وقت میں بحری جہازوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے والی ویب سائٹس نے بتایا کہ یو ایس ایس جیرالڈ آر فورڈ کیریئر اسٹرائیک گروپ میں شامل اس وقت آبنائے جبل الطارق عبور کر رہا ہے۔

جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ دنیا کا سب سے بڑا امریکی بحری بیڑہ مشرقِ وسطیٰ کی جانب تیازی سے بڑھ رہا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ ہفتے اس کیریئر اسٹرائیک گروپ کو مشرقِ وسطیٰ کی طرف روانہ کرنے کا حکم دیا تھا کیوں کہ وہ ایران کے خلاف فوجی کارروائی پر غور کر رہے ہیں۔

امریکی دفاعی حکام کے بقول توقع ہے کہ طیارہ بردار بحری جہاز کو مشرقِ وسطیٰ پہنچنے میں مزید چند دن لگیں گے جس کے بعد یہ ایران کے خلاف ممکنہ آپریشنز کے لیے تیار حالت میں موجود ہوگا۔

USS GERALD R FORD CVN78 and support heading west through the STROG this afternoon⚓️ #shipsinpics #ships #shipping #shipspotting #naval @YorukIsik @air_intel @WarshipCam @seawaves_mag #navy pic.

twitter.com/KzpCXKgm0G

— Daniel Ferro (@Gibdan1) February 20, 2026

حالیہ دنوں میں خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیش نظر اس تعیناتی کو انتہائی اہم سمجھا جا رہا ہے۔

امریکی محکمہ دفاع کی جاری کی گئی تصاویر میں بحیرۂ روم میں یو ایس ایس جیرالڈ آر فورڈ کے عرشے سے ایف/اے-18 ایف سپر ہارنیٹ طیارے کی پرواز بھی دکھائی گئی ہے جو امریکی بحریہ کی آپریشنل تیاریوں کی عکاسی کرتی ہے۔

 

 

ذریعہ

ذریعہ: Express News

پڑھیں:

ایران سے جنگ نے ایک اور مشکل کھڑی کر دی، امریکا کے تیل کے ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے

واشنگٹن:

مشرق وسطیٰ میں ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران امریکہ کے خام تیل کے ذخائر میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے جس نے ملکی توانائی کے تحفظ سے متعلق نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

بینک آف امریکا کی جانب سے جاری کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق اس وقت امریکہ کے پاس خام تیل کا ذخیرہ صرف 43 روز کی ضروریات پوری کرنے کے لیے باقی رہ گیا ہے۔

یہ صورت حال جولائی 1983 کے بعد پہلی مرتبہ سامنے آئی ہے جسے توانائی کے شعبے کے لیے غیر معمولی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کے تازہ ڈیٹا کے مطابق 10 جولائی تک ملک کے کمرشل خام تیل کے ذخائر کم ہو کر 409.7 ملین بیرل رہ گئے، جو گزشتہ پانچ برس کی اوسط کے مقابلے میں تقریباً 6 فیصد کم ہیں۔

ادھر امریکی اسٹریٹیجک پیٹرولیم ریزرو بھی مسلسل دباؤ کا شکار ہے۔ 18 جولائی تک اس کا حجم گھٹ کر 316.5 ملین بیرل رہ گیا، جو اپریل 1983 کے بعد کی سب سے کم سطح ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق کمرشل اور اسٹریٹیجک ذخائر کو ملا کر امریکہ کے مجموعی خام تیل کے ذخائر تقریباً 730.8 ملین بیرل رہ گئے ہیں جو گزشتہ چار دہائیوں کی کم ترین سطحوں میں شمار کیے جا رہے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل
  • ایران پر 13 ویں رات فضائی حملوں کے اہداف مکمل کر لیے گئے، سینٹکام
  • ایران سے جنگ نے ایک اور مشکل کھڑی کر دی، امریکا کے تیل کے ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے
  • مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
  • مشرقِ وسطیٰ کشیدگی،عالمی منڈی میں خام تیل 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گیا
  • دیو ہیکل بحری جہاز "ایم ایس سی ڈیلیٹا” کراچی پورٹ پہنچ گیا
  • پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ
  • پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کیلئے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہوئے ہے، اسحاق ڈار