ایران امریکی جنگی بحری بیڑہ تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، عرب فوجی تجزیہ کار
اشاعت کی تاریخ: 20th, February 2026 GMT
لبنان آرمی کے ریٹائرڈ بریگیڈیئر اور فوجی تجزیہ کار نے کہا ہے کہ ایران امریکہ کے جنگی بحری بیڑے کو تباہ کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے اور اس بارے میں رہبر معظم انقلاب آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای کی دھمکی حقیقت پر مبنی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ لبنان آرمی کے ریٹائرڈ بریگیڈیئر چارل ابی نادر جو ایک معروف فوجی تجزیہ کار بھی ہیں، نے نیوز ویب سائٹ العہد پر اپنے تازہ ترین کالم میں لکھا: "جنیوا میں امریکہ اور ایران کے درمیان بالواسطہ مذاکرات جاری ہیں جبکہ رہبر معظم انقلاب آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے خبردار کیا ہے کہ ایران خلیج فارس میں امریکی جنگی بحری بیڑہ غرق کرنے کی طاقت رکھتا ہے۔ زیادہ اہم بات یہ ہے کہ انہوں نے اپنے الفاظ میں ایسے ہتھیار کی جانب اشارہ بھی کیا ہے جو امریکہ کے طیارہ بردار جنگی بحری بیڑے جیرالڈ فورڈ کو سمندر کی تہ میں پہنچا سکتا ہے۔ کیا ایران کے پاس واقعی ایسا ہتھیار موجود ہے جو امریکہ کے جنگی بحری بیڑے اور جنگی کشتیوں کو غرق کر سکتا ہے؟ اس میں کوئی شک نہیں کہ طیارہ بردار جنگی بحری بیڑے میں ایسی ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جاتا ہے جو ہر قسم میزائل یا ڈرون حملے نیز تصادم کی صورت میں اسے مکمل طور پر غرق ہو جانے سے بچاتی ہے اور یوں وہ تیزی سے میدان جنگ سے فرار ہو سکتی ہے۔ مثال کے طور پر اس کے کمرے ایک دوسرے سے جدا ہوتے ہیں اور وہ مکمل طور پر isolated ہوتے ہیں تاکہ کسی بھی حادثے کی صورت میں ایک کمرے کو پہنچنے والا نقصان دوسرے کمرے تک سرایت نہ کر پائے۔ اسی طرح اسلحہ کے ذخائر کی بھی پوری طرح حفاظت کی جاتی ہے۔ لہذا یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ امام خامنہ ای نے ایسا بیان کیوں دیا ہے اور اس کی فوجی یا روحانی پہلو سے کیا اہمیت ہے؟"
بریگیڈیئر چارل ابی نادر مزید لکھتے ہیں: "پہلی بات یہ ہے کہ روحانی اعتبار سے امام خامنہ ای کا بیان بہت زیادہ معتبر ہوتا ہے۔ جیسا کہ انہوں نے گزشتہ برس جون میں ایران پر اسرائیلی جارحیت کے موقع پر کہا تھا کہ صیہونی رژیم کو "سزا" ملے گی اور خاص طور پر جنگ کے آخری دنوں میں ایسا ہی ہوا کیونکہ تل ابیب، بئر السبع اور مقبوضہ فلسطین کے دیگر علاقوں پر ایران نے سپرسانک تباہ کن میزائلوں سے مہلک حملے کیے اور امریکہ اور اسرائیل کا دفاعی نظام ان کا مقابلہ نہیں کر پایا اور یوں وہ جنگ بندی کی درخواست کرنے پر مجبور ہو گئے۔ دوسرا یہ کہ ایران کے پاس رفتار، رینج، الیکٹرانک جنگ، گائیڈنس اور تباہی پھیلانے کے لحاظ سے ایسے جدید ترین میزائل موجود ہیں جو جنگی بحری بیڑے کو تباہ کر سکتے ہیں۔ ایران کے پاس خشکی سے سمندر، سمندر سے سمندر، سمندر کی تہ سے سطح پر نیز پانی کے اندر مار کرنے والے میزائلوں کی بڑی کھیپ موجود ہے۔ اسی طرح اس بات کا قوی امکان ہے کہ ایران نے بحیرہ احمر، خلیج عدن، خلیج فارس، بحیرہ عرب اور آبنائے ہرمز کے اردگرد ان میزائلوں کو تعینات کر دیا ہو تاکہ ضرورت پڑنے پر انہیں استعمال کیا جا سکے۔ ایک اور اہم نکتہ جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران کامیابی سے امریکہ کے جنگی بحری بیڑے کو نشانہ بنا سکتا ہے وہ ان جنگی کشتیوں کا بے فائدہ ہونا ہے جو طیارہ بردار جنگی بحری بیڑے کے ہمراہ ہیں۔"
انہوں نے مزید لکھا: "اگر امریکہ اور ایران کے درمیان کوئی فوجی ٹکراو ہوتا ہے تو امریکی جنگی بحری بیڑے کے ہمراہ موجود جنگی کشتیوں کا کوئی فائدہ نہیں ہو گا کیونکہ اس بات کا قوی امکان ہے کہ ایران میزائل اور ڈرون طیاروں سے حملہ ور ہو گا جبکہ ان جنگی کشتیوں پر کوئی موثر فضائی دفاعی نظام نصب نہیں ہے۔ اسی طرح ایران کے پاس سمندر کی تہ سے میزائل اور دوسرے ہتھیار جیسے تارپیڈو وغیرہ فائر کرنے کی صلاحیت پائی جاتی ہے جن کے مقابلے میں امریکہ کی جنگی کشتیاں مکمل طور پر بے بس اور بے دفاع ہیں۔ لہذا ایران کے ممکنہ حملے کا مقابلہ کرنا ان کے بس کی بات دکھائی نہیں دیتی۔ امریکی جنگی کشتیوں پر صرف ٹاماہاک میزائل نصب ہیں جبکہ ایران کے حساس مراکز ان کی رینج سے بہت دور ہیں اور وہ انہیں نشانہ بنانے سے قاصر ہوں گے۔ یوں ان میزائلوں کا بھی کوئی فائدہ دکھائی نہیں دیتا۔"
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: جنگی بحری بیڑے ایران کے پاس امریکی جنگی جنگی کشتیوں ہے کہ ایران امریکہ کے خامنہ ای کرنے کی کی جنگی ہوتا ہے
پڑھیں:
باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
ایک نئی جنگ شروع ہوتی نظر آرہی ہے۔ یمن کے حوثیوں نے بحیرہ احمر سے باب المندب بند کر دیا ہے۔پہلے امریکا ایران جنگ کی وجہ سے دنیا جنگ کا شکار ہے۔ پوری کوشش کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا۔آبنائے ہرمز کی بندش کی وجہ سے دنیا میں تیل کی قیمتیں اوپر جا رہی ہیں۔ اب باب المندب کی بندش تیل کی قیمتوں کو مزید اوپر لے کر جائے گی۔ جس کی وجہ تیل کی عالمی قیمتوں میں اضافہ اور ایک بحرانی کیفیت بنتی نظر آرہی ہے۔
باب المندب کی بندش کے بعد حوثیوں نے سعودی عرب کے دو تیل کے ٹینکرز کو بھی تباہ کر دیا ہے۔ ایک تیل کے ٹینکر کو میزائیل لگنے کی سعودی عرب نے تصدیق کر دی ہے۔ عالمی منڈی کا رحجان یہی رہا ہے کہ جب تیل کا ایک ٹینکر تباہ ہوتا ہے تو انشورنس ختم ہو جاتی ہے۔
کوئی کمپنی بھی اپنا جہاز وہاں سے گزارنے کے لیے تیار نہیں ہوتی۔ اس لیے حوثیوں کو باب المندب بند کرنے کے لیے دو جہاز ہی تباہ کرنے تھے ۔ باقی جہاز خود ہی آنے سے انکار کر دیں گے۔ اس لیے باب المندب بند ہوگیا ہے۔ اب جب تک یا تو حوثی اس کو کھولنے کا اعلان نہ کریں یا حوثیوں کی اس کو بند کرنے کی صلاحیت ختم نہ ہوجائے تب تک یہ کھل نہیں سکتا۔
حوثیوں کی جانب سے بندش کے اعلان کے بعد پاکستان کے دفتر خارجہ نے بھی ایک شدید سخت بیان جاری کیا تھا۔ جس میں کہا گیا تھا کہ اگر کسی پاکستانی جھنڈے کے حامل جہاز پر حملہ کیا گیا تو اس کا سخت جواب دیا جائے گا۔اس کے علاوہ باب المندب کی بندش کی مذمت بھی کی گئی تھی اور اس کے خلاف سخت رد عمل جاری کیا گیا تھا۔ لیکن اس بیان کے اگلے ہی دن سعودی عرب کے دو جہازوں پر حملہ کر دیا گیا ہے۔ یہ درست ہے کہ یہ پاکستانی جہاز نہیں تھے۔ لیکن یہ سعودی عرب کے جہاز تھے اور پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ بھی تھا۔
باب المندب بند کرنا لگتا ہے ایران کے لیے ناگزیر تھا۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کم ہی سہی لیکن ایک مناسب مقدار میں اپنا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کر رہے تھے۔ اس لیے ان کی تیل کی برآمد چل رہی تھی۔ کنویں بند نہیں ہو رہے تھے۔ وہاں کوئی خاص بحران نہیں تھا۔
دنیا کو بھی تیل مل رہا تھا اور ایسی خبریں آرہی تھیں کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات ایسی تیل کی لائنیں بچھا رہے ہیں کہ اگلے دو سال میں ان کا آبنائے ہرمز پر انحصار ختم ہو جائے گا۔ وہ اپنا سارا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کرنے کی پوزیشن میں ہونگے۔ یہ تیاری ایران کے آبنائے ہرمز پر کنٹرول رکھنے کی اہمیت کو کم کرنے کے لیے کی جا رہی ہے۔ اس لیے شائد ایران کو بھی سمجھ آگئی ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز سے جو بھی فائدہ اٹھانا ہے اس کی مدت کم ہے۔ عرب ممالک بالخصوص سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات متبادل بندوبست تیزی سے کر رہے ہیں۔
شائد اسی لیے ایران نے بھی حوثیوں کی حوصلہ افزائی کی ہے کہ وہ باب المندب بند کر دیں ۔ کیونکہ ایران کے پاس بھی وقت کم ہے۔ویسے بھی چند دن پہلے ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے مشیر نے ان کی طرف سے یہ بیان دیا تھا کہ اگر امریکا نے ایران پر بمباری بند نہ کی تو ایران جنگ کو وسیع کر دے گا۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ باب المندب بند کرنا جنگ کو وسیع کرنے کی ایک شکل ہے۔ جنگ پھیل گئی ہے۔ ایران جنگ کو پھیلانا چاہتا تھا تو اس نے پھیلا دی ہے۔
باب المندب سے دنیا کے تیل کی سات فیصد ترسیل ہوتی ہے۔ اس لیے سات فیصد کی ترسیل بند ہو گئی ہے۔ لیکن یہ صرف اتنی بات نہیں کئی ماہ سے یو اے ای اور سعودی عرب کے درمیان جاری سرد جنگ بھی یک دم ختم ہوگئی ہے۔ باب المندب بند ہونے کی خبر کیا آئی سعودی عرب اور یو اے ای میں صلح ہوگئی دونوں کے وزراء نے ایک دوسرے کے ساتھ تصویر پوسٹ کر دیں کہ ہم بھائی ہیں۔ آبنائے ہرمز کی بندش تو انھیں اکٹھا نہیں کر سکی لیکن باب المندب کی بندش نے انھیں اکٹھا کر دیا۔ اب آگے کا منظر نامہ کیا ہو سکتا ہے۔ پاکستان اورسعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ موجود ہے۔
اگر سعودی عرب باب المندب کھلوانے کے لیے حوثیوں کے ساتھ جنگ شروع کرتا ہے اور جواب میں حوثی سعودی عرب پر حملہ کرتے ہیں تو پاکستان اپنے دفاعی معاہدہ کے تحت سعودی عرب کے ساتھ کھڑے ہونے کا پابند ہوگا۔ کیسے اور کتنا، اس سوال کا ابھی تک کسی کے پاس کوئی جواب نہیں۔ لیکن حوثیوں نے یہ خبردار کیا ہے کہ اگر ان پر کسی بھی قسم کا کوئی بھی حملہ کیا گیا تو وہ سعودی عرب کی تیل اور دیگر تنصیبات کو نشانہ بنائیں گے۔ایک عمومی رائے یہ ہے کہ اتنی سخت بمباری کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا تو کیا صرف بمباری سے باب المندب کھلوایا جا سکے گا۔ حوثی بھی جواب میں میزائل ماریں گے۔
یہ درست ہے کہ ان کے پاس ایران جتنے میزائل نہیںہیں۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ان کے پاس میزائل ہیں۔ انھوں نے ماضی میں اسرائیل اور سعودی عرب پر میزائیل مارے بھی ہیں۔ شاید حوثیوں کو یہ لگ رہا ہے کہ جیسے ایران کی دیگر پراکسیوں کو ختم کیا جا رہا ہے۔ اگر وہ اس جنگ سے باہر رہتے ہیں تو بعد میں ان کی باری بھی آئے گی۔ اس لیے جنگ میں شامل ہونے کا یہ بہترین وقت ہے۔ باب المندب اور آبنائے ہرمز کا معاملہ اکٹھے طے کیا جائے، مل کر بات کی جائے، اس سے طاقت بڑھ جائے گی۔
اب سوال یہی ہے کہ پاکستان ایران امریکا لڑائی میں تو غیر جانبدار رہا۔ جس کی وجہ سے وہ آج تک ثالث ہے۔ لیکن کیا وہ باب المندب کی بندش اور سعودی عرب اور حوثیوں کی لڑائی میں بھی غیر جانبدار رہے گا۔ عملی طور پر یہ ممکن نظر نہیں آرہا۔ پاکستان کو سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہونا پڑے گا۔ اس کے علاوہ کوئی اور حل نظر نہیں آرہا۔ امریکا ایران میں مصروف ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے باب المندب کھلوانے کے لیے کردار ادا کرنے کا اعلان کیا ہے۔ لیکن پہلی ترجیح ایران ہی ہوگا۔ ایسے میں یہ لڑائی فی الحال سعودی عرب کو خود ہی لڑنی ہوگی۔ اگر پاکستان اس لڑائی میں شریک ہوتا ہے تو پھر اس کی ثالث کی پوزیشن بھی ختم ہو جائے گی۔ ایران پاکستان کو بھی لڑائی میں فریق سمجھے گا۔ خدشہ ہے کہ پاکستان بھی نہ چاہتے ہوئے لڑائی میں شامل ہو جائے گا۔ ہم پہلے بھی ایران کو بتا چکے ہیں کہ سعودی عرب ہماری ریڈ لائن ہے۔ لیکن شائد حوثی پاکستان کی اس بات کو نہیں سمجھیں گے، وہ سعودی عرب پر حملے کریں گے۔
اس تناظر میں دیکھا جائے تو لڑائی وسیع ہو رہی ہے۔ ایک خطرناک منظر نامہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ حوثیوں کے خلاف لڑائی میں پاکستان سعودی عرب ، یو اے ای ، امریکا اور اسرائیل مل کر لڑ رہے ہوں۔ یہ بھی لڑائی کی کوئی اچھی شکل نہیں ہوگی۔ لیکن اس کو مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ یہ ممکن ہے۔