لبنان آرمی کے ریٹائرڈ بریگیڈیئر اور فوجی تجزیہ کار نے کہا ہے کہ ایران امریکہ کے جنگی بحری بیڑے کو تباہ کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے اور اس بارے میں رہبر معظم انقلاب آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای کی دھمکی حقیقت پر مبنی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ لبنان آرمی کے ریٹائرڈ بریگیڈیئر چارل ابی نادر جو ایک معروف فوجی تجزیہ کار بھی ہیں، نے نیوز ویب سائٹ العہد پر اپنے تازہ ترین کالم میں لکھا: "جنیوا میں امریکہ اور ایران کے درمیان بالواسطہ مذاکرات جاری ہیں جبکہ رہبر معظم انقلاب آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے خبردار کیا ہے کہ ایران خلیج فارس میں امریکی جنگی بحری بیڑہ غرق کرنے کی طاقت رکھتا ہے۔ زیادہ اہم بات یہ ہے کہ انہوں نے اپنے الفاظ میں ایسے ہتھیار کی جانب اشارہ بھی کیا ہے جو امریکہ کے طیارہ بردار جنگی بحری بیڑے جیرالڈ فورڈ کو سمندر کی تہ میں پہنچا سکتا ہے۔ کیا ایران کے پاس واقعی ایسا ہتھیار موجود ہے جو امریکہ کے جنگی بحری بیڑے اور جنگی کشتیوں کو غرق کر سکتا ہے؟ اس میں کوئی شک نہیں کہ طیارہ بردار جنگی بحری بیڑے میں ایسی ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جاتا ہے جو ہر قسم میزائل یا ڈرون حملے نیز تصادم کی صورت میں اسے مکمل طور پر غرق ہو جانے سے بچاتی ہے اور یوں وہ تیزی سے میدان جنگ سے فرار ہو سکتی ہے۔ مثال کے طور پر اس کے کمرے ایک دوسرے سے جدا ہوتے ہیں اور وہ مکمل طور پر isolated ہوتے ہیں تاکہ کسی بھی حادثے کی صورت میں ایک کمرے کو پہنچنے والا نقصان دوسرے کمرے تک سرایت نہ کر پائے۔ اسی طرح اسلحہ کے ذخائر کی بھی پوری طرح حفاظت کی جاتی ہے۔ لہذا یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ امام خامنہ ای نے ایسا بیان کیوں دیا ہے اور اس کی فوجی یا روحانی پہلو سے کیا اہمیت ہے؟"
 
بریگیڈیئر چارل ابی نادر مزید لکھتے ہیں: "پہلی بات یہ ہے کہ روحانی اعتبار سے امام خامنہ ای کا بیان بہت زیادہ معتبر ہوتا ہے۔ جیسا کہ انہوں نے گزشتہ برس جون میں ایران پر اسرائیلی جارحیت کے موقع پر کہا تھا کہ صیہونی رژیم کو "سزا" ملے گی اور خاص طور پر جنگ کے آخری دنوں میں ایسا ہی ہوا کیونکہ تل ابیب، بئر السبع اور مقبوضہ فلسطین کے دیگر علاقوں پر ایران نے سپرسانک تباہ کن میزائلوں سے مہلک حملے کیے اور امریکہ اور اسرائیل کا دفاعی نظام ان کا مقابلہ نہیں کر پایا اور یوں وہ جنگ بندی کی درخواست کرنے پر مجبور ہو گئے۔ دوسرا یہ کہ ایران کے پاس رفتار، رینج، الیکٹرانک جنگ، گائیڈنس اور تباہی پھیلانے کے لحاظ سے ایسے جدید ترین میزائل موجود ہیں جو جنگی بحری بیڑے کو تباہ کر سکتے ہیں۔ ایران کے پاس خشکی سے سمندر، سمندر سے سمندر، سمندر کی تہ سے سطح پر نیز پانی کے اندر مار کرنے والے میزائلوں کی بڑی کھیپ موجود ہے۔ اسی طرح اس بات کا قوی امکان ہے کہ ایران نے بحیرہ احمر، خلیج عدن، خلیج فارس، بحیرہ عرب اور آبنائے ہرمز کے اردگرد ان میزائلوں کو تعینات کر دیا ہو تاکہ ضرورت پڑنے پر انہیں استعمال کیا جا سکے۔ ایک اور اہم نکتہ جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران کامیابی سے امریکہ کے جنگی بحری بیڑے کو نشانہ بنا سکتا ہے وہ ان جنگی کشتیوں کا بے فائدہ ہونا ہے جو طیارہ بردار جنگی بحری بیڑے کے ہمراہ ہیں۔"
 
انہوں نے مزید لکھا: "اگر امریکہ اور ایران کے درمیان کوئی فوجی ٹکراو ہوتا ہے تو امریکی جنگی بحری بیڑے کے ہمراہ موجود جنگی کشتیوں کا کوئی فائدہ نہیں ہو گا کیونکہ اس بات کا قوی امکان ہے کہ ایران میزائل اور ڈرون طیاروں سے حملہ ور ہو گا جبکہ ان جنگی کشتیوں پر کوئی موثر فضائی دفاعی نظام نصب نہیں ہے۔ اسی طرح ایران کے پاس سمندر کی تہ سے میزائل اور دوسرے ہتھیار جیسے تارپیڈو وغیرہ فائر کرنے کی صلاحیت پائی جاتی ہے جن کے مقابلے میں امریکہ کی جنگی کشتیاں مکمل طور پر بے بس اور بے دفاع ہیں۔ لہذا ایران کے ممکنہ حملے کا مقابلہ کرنا ان کے بس کی بات دکھائی نہیں دیتی۔ امریکی جنگی کشتیوں پر صرف ٹاماہاک میزائل نصب ہیں جبکہ ایران کے حساس مراکز ان کی رینج سے بہت دور ہیں اور وہ انہیں نشانہ بنانے سے قاصر ہوں گے۔ یوں ان میزائلوں کا بھی کوئی فائدہ دکھائی نہیں دیتا۔"

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: جنگی بحری بیڑے ایران کے پاس امریکی جنگی جنگی کشتیوں ہے کہ ایران امریکہ کے خامنہ ای کرنے کی کی جنگی ہوتا ہے

پڑھیں:

صومالی بحری قزاقوں کے ہاتھوں پاکستانیوں کے اغوا کا معاملہ، متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا

متاثرہ خاندان نے حکومتِ پاکستان، وزارتِ خارجہ اور متعلقہ اداروں سے اپیل کی ہے کہ مغوی پاکستانیوں کی جلد اور محفوظ رہائی کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں اور اہلِ خانہ کو صورتحال سے باخبر رکھا جائے۔ اسلام ٹائمز۔ صومالی بحری قزاقوں کے قبضے میں موجود پاکستانی شہریوں کی رہائی سے متعلق معاملے پر متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا ہے۔ متاثرہ خاندان نے بعض سفارتی ذرائع سے زیر گردش خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ صومالی بحری قزاقوں نے یرغمالیوں کی رہائی کے لیے کبھی 10 ملین ڈالر کے تاوان کا مطالبہ نہیں کیا۔ خاندان کے مطابق مغوی پاکستانیوں نے خود اطلاع دی ہے کہ بحری قزاق ان کی رہائی کے لیے رقم کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ متاثرہ خاندان کا کہنا ہے کہ قزاقوں نے ابتدا میں 3 ملین ڈالر تاوان مانگا تھا جبکہ اب یہ مطالبہ کم کرکے 2.5 ملین ڈالر کردیا گیا ہے۔ خاندان نے مزید کہا کہ میڈیا اور سفارتی ذرائع میں گردش کرنے والی بعض اطلاعات حقائق کے منافی ہیں اور ان کی تصدیق نہیں کی گئی۔ 

ان کے بقول انہیں اس بات کا بھی کوئی علم نہیں کہ بحری جہاز "آنر 25" کے مالک، صومالیہ کی حکومت اور بحری قزاقوں کے درمیان کس نوعیت کی بات چیت جاری ہے۔ متاثرہ خاندان نے بتایا کہ بحری قزاق مسلسل پاکستانی نیوز چینلز سے براہِ راست بات چیت کی خواہش کا اظہار کر رہے ہیں اور اس حوالے سے بار بار مطالبات بھی سامنے آ رہے ہیں۔ خاندان نے حکومتِ پاکستان، وزارتِ خارجہ اور متعلقہ اداروں سے اپیل کی ہے کہ مغوی پاکستانیوں کی جلد اور محفوظ رہائی کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں اور اہلِ خانہ کو صورتحال سے باخبر رکھا جائے۔ واضح رہے کہ صومالی بحری قزاقوں کے قبضے میں موجود پاکستانیوں کی رہائی کے حوالے سے مختلف اطلاعات سامنے آ رہی ہیں، تاہم متاثرہ خاندان نے اپنے مقف میں بعض زیر گردش دعوں کی واضح تردید کی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
  • آبنائے ہرمز بحالی پر بھی ایران سے پابندیاں نہیں ہٹائینگے: مارکوروبیو
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • صومالی بحری قزاقوں کے ہاتھوں پاکستانیوں کے اغوا کا معاملہ، متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا
  • فیکٹ چیک: تھائی لینڈ کی ویڈیو پاکستانی فوجی افسر سے منسوب کرنے کی بھارتی کوشش ناکام
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
  • امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
  • نیتن یاہو کا لبنان میں فوجی کارروائیاں مزید تیز کرنے کا اعلان
  • امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان