ایران پر ممکنہ حملہ: برطانیہ کا امریکا کو فوجی اڈے دینے سے انکار
اشاعت کی تاریخ: 20th, February 2026 GMT
برطانیہ نے امریکا کو ایران کے خلاف کسی ممکنہ فوجی کارروائی کے لیے برطانوی فضائی اڈے استعمال کرنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا ہے، جس سے لندن اور واشنگٹن کے درمیان کشیدگی بڑھ گئی ہے۔
امریکی طیارے ماضی کے معاہدوں کے تحت رائل ایئر فورس کے اڈے فیئر فورڈ (RAFFairford) اور بحرِ ہند میں واقع ڈیاگو گارشیا استعمال کر سکتے ہیں، مگر اس کے لیے برطانوی حکومت کی پیشگی منظوری ضروری ہے۔
مزید پڑھیں:ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران کو 10 سے 15 دن کی ڈیڈ لائن، معاہدہ نہ ہوا تو ’سنگین نتائج‘ کی دھمکی
رپورٹس کے مطابق لندن نے واضح قانونی جواز کے بغیر کسی بھی ممکنہ حملے میں شمولیت سے گریز کیا ہے اور مؤقف اختیار کیا ہے کہ ایسا اقدام بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہو سکتا ہے۔ اس فیصلے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سخت ردِعمل دیا ہے۔
مزید پڑھیں:افغانستان کے بعد ایرانی سرحد پر راہداری نظام ختم کرنے کا فیصلہ، کاروباری طبقے پر ممکنہ اثرات پر تشویش
صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ممکنہ خطرے کے پیشِ نظر امریکا کو ان اڈوں کی ضرورت پڑ سکتی ہے، تاہم برطانوی وزیراعظم کی حکومت نے محتاط مؤقف برقرار رکھا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکا ایران پر ممکنہ حملہ برطانوی وزیراعظم برطانیہ صدر ٹرمپ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: امریکا ایران پر ممکنہ حملہ برطانوی وزیراعظم برطانیہ
پڑھیں:
کفایت شعاری اقدامات، حکومت نے مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی
نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی زیر صدارت کفایت شعاری اقدامات پر اہم اجلاس ہوا جس میں مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کی زیر صدارت وزارتِ خارجہ میں کفایت شعاری اقدامات کی نگرانی اور عملدرآمد سے متعلق کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا۔
اجلاس میں ملک بھر میں توانائی کے مؤثر استعمال اور کاروباری سرگرمیوں کے اوقات کارجبکہ جاری کفایت شعاری اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
موسمِ گرما میں دن کے دورانیے میں اضافے اور بلند درجہ حرارت کے پیش نظر کمیٹی نے دکانوں، بازاروں، شاپنگ مالز اور جنرل ریٹیل کاروبار کے اوقات کار رات 9 بجے تک بڑھانے کی منظوری دے دی۔
مزید پڑھیںلاہور میں بھی اسمارٹ لاک ڈاؤن پھر سے نافذ، پرانے اوقات کار بحال
اجلاس کے فیصلوں کے مطابق ریسٹورنٹس، کیفے اور دیگر کھانے پینے کے مراکز رات 11 بجے تک کھلے رہ سکیں گے، تاہم ٹیک اوے اور ہوم ڈلیوری سروسز ان اوقات کی پابندی سے مستثنیٰ ہوں گی۔
شادی ہالز اور تقریبات کے مقامات کے اوقات کار رات 10 بجے تک برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا جبکہ فارمیسیز، ہسپتال، پٹرول پمپس، آئی ٹی اور ٹیلی کام سے متعلق خدمات سمیت ضروری سروسز کو ان پابندیوں سے استثنیٰ حاصل ہوگا۔
کمیٹی نے صوبائی حکومتوں کو ہدایت کی کہ وہ وفاقی حکام کے ساتھ مکمل تعاون کرتے ہوئے ان فیصلوں پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنائیں۔
اجلاس میں وفاقی وزراء برائے پیٹرولیم، موسمیاتی تبدیلی، اطلاعات اور آئی ٹی و ٹیلی کام، وزیر اعظم کے معاونینِ خصوصی برائے خزانہ اور نائب وزیراعظم، وفاقی سیکریٹریز تجارت، کابینہ، پیٹرولیم اور آئی ٹی و ٹیلی کمیونی کیشنز کے علاوہ صوبائی حکومتوں کے سینئر حکام نے بھی شرکت کی۔کمیٹی نے ایجنڈے میں شامل دیگر امور اور کیسز کی بھی منظوری دی۔