بلوچستان حکومت نے افغانستان کے بعد ایران سے ملحقہ سرحد پر بھی راہداری نظام ختم کر کے اسے پاسپورٹ سسٹم پر منتقل کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے، جس سے سرحدی تجارت اور کاروباری سرگرمیوں پر نمایاں اثرات مرتب ہونے کا امکان ہے۔

ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ بلوچستان محمد حمزہ شفقات نے اعلان کیا ہے کہ ایک سے2 ماہ کے اندر ایران بارڈر پر راہداری کے بجائے مکمل طور پر پاسپورٹ سسٹم نافذ کر دیا جائے گا اور بغیر پاسپورٹ کے آمد و رفت ممکن نہیں ہوگی۔

یہ بھی پڑھیں: پاک ایران سرحد پر تجارتی آمدورفت بحال، مقامی معیشت میں نئی جان پڑنے کی توقع

ایڈیشنل چیف سیکرٹری نے کہا کہ حکومت قانونی تجارت سے وابستہ افراد کو سہولیات فراہم کرنے کے لیے اقدامات کر رہی ہے، تاہم اسمگلنگ، پوست کی کاشت اور غیر قانونی تجارت کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ 31 جنوری کے واقعات میں ملوث تقریباً 400 افراد میں سے 221 مارے جا چکے ہیں جبکہ قریباً 100 کو گرفتار کیا گیا ہے، اور نوشکی حملے کی مالی معاونت پوست کی کاشت سے حاصل کی گئی۔

انہوں نے مزید بتایا کہ سرحدی اضلاع کے عوام کو سہولت دینے کے لیے مفت پاسپورٹ کے اجرا اور بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ذریعے مالی معاونت فراہم کرنے پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ ورکرز ویلفیئر بورڈ میں رجسٹرڈ مزدوروں کے بچوں کو اعلیٰ تعلیمی اداروں میں مفت تعلیم اور بیرون ملک روزگار کے خواہشمند افراد کو 7 لاکھ روپے تک معاونت فراہم کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔

یہ بھی پڑھیں: سرحدی کشیدگی کے باعث پاک افغان بارڈر کی بندش سے افغانستان میں غذائی قلت

دوسری جانب کاروباری برادری نے خدشہ ظاہر کیا کہ سخت سرحدی شرائط، غیر منصفانہ ٹیکس ویلیو ایشن اور بارڈر پر تاخیر قانونی تجارت کے لیے رکاوٹ بن رہی ہے۔ چیمبر آف کامرس کے نمائندوں نے تفتان بارڈر کے اوقات کار میں توسیع، بزنس ٹرمینلز پر اشیا کی آمد و رفت میں آسانی اور دیگر سہولیات فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔

ایران سرحد پر راہداری نظام کے خاتمے اور پاسپورٹ سسٹم کے نفاذ کا بنیادی مقصد اسمگلنگ کی روک تھام اور سرحدی نگرانی کو مؤثر بنانا ہے، تاہم اس فیصلے کے دوہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ ایک جانب اس سے غیر قانونی تجارت میں کمی اور ریاستی ریونیو میں اضافہ ممکن ہے، جبکہ دوسری جانب سرحدی علاقوں میں روزگار کا انحصار بڑی حد تک بارڈر ٹریڈ پر ہونے کے باعث مقامی معیشت متاثر ہو سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: بارڈر پر دہشتگردی کے خلاف مشترکہ لائحہ عمل بنانے پر پاکستان ایران کا اتفاق

تجزیہ کاروں کے مطابق اگر حکومت سرحدی اضلاع کے عوام کو متبادل روزگار، آسان پاسپورٹ فراہمی اور قانونی تجارت کے لیے سہولیات فراہم کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو اس فیصلے کے مثبت نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔ بصورت دیگر، سخت پابندیاں مقامی کاروباری سرگرمیوں میں کمی اور معاشی دباؤ کا باعث بن سکتی ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ حکومت سکیورٹی اقدامات کے ساتھ ساتھ کاروباری برادری کے تحفظات کو بھی دور کرے تاکہ قانونی تجارت کو فروغ ملے اور سرحدی علاقوں کی معیشت مستحکم ہو سکے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

we news آمدورفت بلوچستان پاکستان راہداری ویزا.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: ا مدورفت بلوچستان پاکستان راہداری ویزا فراہم کرنے کے لیے

پڑھیں:

پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو

وزارت خارجہ کے ڈائریکٹر جنرل عرفان سومرو نے کہا ہے کہ تجارتی ڈپلومیسی حکومت پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون ہے اور پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ محض تجارتی حجم بڑھانے کا خواہاں نہیں بلکہ مضبوط اور پائیدار معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے۔

فیڈریشن ہاؤس کراچی میں فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کے زیر اہتمام ڈی ایٹ چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (D-8 CCI) کی پاکستان نیشنل کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے دائریکٹر جنرل وزارت خارجہ عرفان سومرو نے کہا کہ ڈی ایٹ کے قیام کو تین دہائیاں گزر چکی ہیں، اب وقت آ گیا ہے کہ اس وژن کو عملی اقدامات میں تبدیل کیا جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ ڈی ایٹ ممالک کی مشترکہ معیشت تقریباً 5 ہزار ارب ڈالر پر مشتمل ہے اور ایک ارب سے زائد آبادی مشرق بعید سے افریقہ تک پھیلی ہوئی ہے، جو باہمی تجارت اور سرمایہ کاری کے بے شمار مواقع فراہم کرتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ زراعت، معدنیات، سیاحت اور نوجوان افرادی قوت ڈی ایٹ ممالک کے اہم اثاثے ہیں، تاہم مختلف مفاہمتی یادداشتوں (ایم او یوز) پر مؤثر عمل درآمد نہ ہونے کے باعث رکن ممالک اپنی حقیقی معاشی صلاحیت سے بھرپور فائدہ نہیں اٹھا پا رہے۔

ڈی جی وزارت خارجہ کے مطابق پاکستان کی ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ سالانہ تجارت تقریباً 11 ارب ڈالر ہے، جس میں 8 ارب ڈالر درآمدات جبکہ 2.8 ارب ڈالر برآمدات شامل ہیں، اس عدم توازن کو کم کرنے اور برآمدات میں اضافے کی ضرورت پر زور دیا۔

عرفان سومرو نے کہا کہ پاکستان کی بندرگاہیں اور نوجوان آبادی ملکی معیشت کے لیے قیمتی اثاثہ ہیں، کاروباری برادری پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ پاکستانی سفارت خانوں کے ساتھ روابط بڑھائے تاکہ نئی منڈیوں تک رسائی اور سرمایہ کاری کے مواقع سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت بین الاقوامی معاہدے اور سازگار پالیسی فریم ورک فراہم کر سکتی ہے، تاہم تجارت اور سرمایہ کاری کو فروغ دینا نجی شعبے کی ذمہ داری ہے، اس سلسلے میں ایف پی سی سی آئی کا کردار انتہائی اہم ہے۔

ڈائریکٹر جنرل وزارت خارجہ نے خواتین اور نوجوان کاروباری افراد پر زور دیا کہ وہ علاقائی تجارت اور اقتصادی سرگرمیوں میں بھرپور کردار ادا کریں، پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔

اس موقع پر ایف پی سی سی آئی کے صدر عاطف اکرام شیخ نے قاہرہ میں منعقدہ چوتھی ڈی ایٹ ٹریڈ منسٹر کونسل کے فیصلوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے استنبول میں ترکیہ کی تنظیم TOBB کی سرپرستی میں ڈی ایٹ چیمبرز کے مستقل سیکرٹریٹ کے قیام کو اہم پیش رفت قرار دیا۔

ڈی ایٹ سیکریٹری جنرل سہیل محمود نے اپنے خصوصی پیغام میں رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ حلال معیشت، مالیاتی انضمام اور علاقائی تجارت کے مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھائیں۔

ایف پی سی سی آئی کے سینئر نائب صدر ثاقب فیاض مگوں نے کہا کہ ڈی ایٹ ممالک کے درمیان اندرونی تجارت میں نمایاں اضافہ وقت کی اہم ضرورت ہے اور فیڈریشن پریفرینشل ٹریڈ ایگریمنٹ (پی ٹی اے) کو ناگزیر سمجھتی ہے۔

اجلاس میں انڈونیشیا، ترکیہ، ایران، مصر، ملائیشیا، نائجیریا، آذربائیجان اور بنگلہ دیش کے قونصل جنرلز، سینئر سفارت کاروں، ایف پی سی سی آئی کے نائب صدور امان پراچہ، آصف سخی، سابق صدر زبیر طفیل، سابق نائب صدور خالد تواب، حنیف گوہر، شبیر منشا، ناہید مسعود، نازلی عابد، ماہین خان اور دیگر کاروباری رہنماؤں نے بھی شرکت کی۔

متعلقہ مضامین

  • پنجاب حکومت کا سرکاری ملازمین اور پنشنرز کو جولائی کی ادائیگیاں قبل از وقت کرنے کا فیصلہ
  • سابق گورنر چودھری سرور کے بیٹے انس برطانیہ کے وزیر تجارت نامزد
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
  • پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کاروزانہ تعین ; سینٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ
  • آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ