امریکی عوام ایران سے جنگ نہیں چاہتے، سابق رکن کانگریس
اشاعت کی تاریخ: 19th, February 2026 GMT
امریکہ کی سابق رکن کانگریس میرجوری ٹیلر گرین نے ٹرمپ کی خارجہ پالیسی پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ امریکی عوام ایران سے جنگ نہیں چاہتے اور امریکی صدر کو بھی چاہیے کہ وہ جنگ کی بجائے عوام کی معیشت بہتر بنانے پر توجہ مرکوز کرے۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی کانگریس کی سابق رکن میرجوری ٹیلر گرین نے ایکس پر اپنے پیغام میں لکھا: "امریکی ایران سے جنگ نہیں چاہتے، امریکی عوام چاہتے ہیں کہ وہ اپنی زندگی کے اخراجات ادا کرنے کے قابل ہو جائیں اور مستقبل کے بارے میں امیدوار ہوں۔ وہ خوش رہنا چاہتے ہیں اور زندگی سے لطف اندوز ہونا چاہتے ہیں۔" اس نے مزید لکھا: "امریکی عوام کا حکومت سے مطالبہ ہے کہ وہ ان بااثر افراد کو جیل میں ڈالیں جنہوں نے بچیوں سے زیادتی کی تھی۔ انہوں نے جنگوں کے خاتمے اور رجیم چینج آپریشن روکنے کو ووٹ دیا تھا۔" ٹیلر گرین ماضی میں ڈونلڈ ٹرمپ کے حامیوں میں شمار ہوتی تھیں لیکن اب اس کی شدید مخالف ہو چکی ہیں۔ انہوں نے اپنے پیغام میں مزید لکھا: "اگر تم لوگوں نے ابتدا سے ہی امریکہ کو پہلی ترجیح بنایا ہوتا تو اس وقت نہ تم خود اور نہ ہی تمہارے حامی عوام کو دھوکہ دینے کے راستے تلاش نہ کر رہے ہوتے۔" انہوں نے ڈونلڈ ٹرمپ کو مخاطب قرار دیتے ہوئے لکھا: "اگر تم نے ایپسٹن کیس کو جعلی نہ کہا ہوتا اور اس کیس کے متاثرہ افراد سے یوں برتاو نہ رکھا ہوتا گویا وہ وجود ہی نہیں رکھتے اور اگر اس کیس کی تمام تفصیلات منظرعام پر لے آتے اور اپنے دولت مند اور طاقتور دوستوں کو جیل روانہ کر دیتے تو شاید امریکی عوام واقعی تمہاری بات توجہ سے سنتے۔"
امریکہ کی سابق رکن کانگریس نے ٹرمپ سے مخاطب ہوتے ہوئے لکھا: "ایک اور بیرونی جنگ، مثال کے طور پر ایران کے ساتھ، کا آغاز حالات مزید خراب کر دے گا۔ صرف محدود افراد جو فاکس نیوز کے پروپیگنڈے سے متاثر ہیں، اس جنگ کی حمایت کریں گے۔" ٹیلر گرین نے مزید لکھا: "ایپسٹن کیس کی تمام تفصیلات شائع کرو اور بچوں سے جنسی زیادتی کرنے والے افراد کی حفاظت کرنا بند کر دو۔ انہیں چھپا کر تم نے سارا معاملہ بگاڑ لیا ہے۔ تنگ کرنا، بدمعاشی کرنا اور توہین آمیز القابات دینا بند کر دو۔ یہ نامعقول طرز عمل ہے اور عوام کی اکثریت اس کی وجہ سے تم سے دور ہو رہی ہے۔ حقیقی لیڈر ایسے عمل نہیں کرتے اور عالمی سطح پر بھی یہ بہت ہی رسوائی والی بات ہے۔ یہ ایسا طرز عمل نہیں جو ہم اپنے بچوں کو سکھانا پسند کرتے ہیں۔" سابق رکن کانگریس نے لکھا: "امریکہ کے حالات اس وقت زیادہ بہتر ہوتے جب حکومت اپنا کام اچھی طرح انجام دیتی۔ سب لوگ حکومت کی جانب سے تمام معاملات کو سیاسی کرنے سے تھک چکے ہیں۔ سیاسی جھگڑوں سے عاری زندگی زیادہ لذت بخش ہوتی ہے۔" یاد رہے میرجوری ٹیلر گرین نے 2020ء میں ٹرمپ کی شدید حمایت کی تھی اور رکن کانگریس منتخب ہوئی تھیں۔ انہوں نے واشنگٹن میں رہائش کے دوران بارہا ریپبلکن پارٹی کے طرز عمل کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ ایک وقت ایسا تھا جب وہ ٹرمپ کی قریبی اتحادی تصور کی جاتی تھیں لیکن جب ایپسٹن کیس سامنے آیا اور ٹرمپ نے اس کیس میں ملوث افراد کی حمایت کی تو انہوں نے 5 جنوری 2026ء کے دن استعفی دے دیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: سابق رکن کانگریس ٹیلر گرین نے امریکی عوام انہوں نے
پڑھیں:
پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو وارننگ، کویت میں امریکی الیکٹرانک وارفیئر کا یونٹ تباہ
ایران کی سپاہ پاسدارانِ انقلاب نے اعلان کیا ہے کہ آپریشن "نصر 2" کی 26 ویں لہر کے دوران مشترکہ حملوں میں کویت کے العدیری فوجی اڈے پر قائم امریکی الیکٹرانک وارفیئر کے خصوصی یونٹ کو تباہ کر دیا۔ اسلام ٹائمز۔ ایران کی سپاہ پاسدارانِ انقلاب نے اعلان کیا ہے کہ آپریشن "نصر 2" کی 26 ویں لہر کے دوران مشترکہ حملوں میں کویت کے العدیری فوجی اڈے پر قائم امریکی الیکٹرانک وارفیئر کے خصوصی یونٹ کو تباہ کر دیا۔ بیان کے مطابق اس یونٹ سے وابستہ ایک مرکز کو بھی نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں متعدد اہلکار ہلاک یا زخمی ہوئے، جبکہ اڈے کے فضائی ٹریفک کنٹرول ٹاور کو بھی نقصان پہنچا۔ پاسدارانِ انقلاب کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ یہ کارروائی جارح کو سزا دینے کے سلسلے کی کڑی ہے اور امریکی فوج کی ان کارروائیوں کا جواب ہے، جن میں جمعرات کی صبح امام حسینؑ کے روضے کی جانب جانے والے زائرین کے راستے کو نشانہ بنایا گیا۔ بیان کے مطابق امریکی حملے میں عراق کی سرحد پر واقع شلمچہ بارڈر کراسنگ پر دو افراد جاں بحق اور 11 زخمی ہوئے۔
سپاہ پاسداران انقلاب نے اپنے بیان میں برطانیہ کو تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ ایران کیخلاف استعمال ہونے والا برطانوی اڈہ جائز ہدف تصور ہو گا۔ بیان کے مطابق امریکی فوج نے گزشتہ روز بحرِ ہند میں موجود اپنے بحری بیڑے کے کروز میزائل ختم ہونے کے بعد برطانیہ کے فیئرفورڈ فضائی اڈے سے اڑنے والے B-1 بمبار طیاروں کا استعمال کیا۔ پاسدارانِ انقلاب نے ایک بار پھر ایرانی وزارتِ خارجہ کے مؤقف کو دہراتے ہوئے کہا کہ ایران پر حملے کے لیے استعمال ہونے والا ہر فوجی اڈہ ایک جائز ہدف تصور کیا جائے گا۔ بیان کے اختتام پر برطانیہ کی حکومت کو خبردار کرتے ہوئے کہا گیا کہ وہ خطے کے عوام کی مشکلات کی بنیادی ذمہ دار ہے اور اسلامی ممالک کی تقسیم، قتلِ عام، آمرانہ حکومتوں کے قیام، فلسطین پر قبضے کی منصوبہ بندی اور اسرائیل کے قیام میں اس کا کردار تاریخ کا حصہ ہے۔ بیان میں یہ بھی الزام عائد کیا گیا کہ برطانیہ نے ایران کے خلاف حالیہ امریکی اور اسرائیلی حملوں میں بھی نمایاں کردار ادا کیا۔
یاد رہے کہ اس سے قبل آج ہی ایرانی وزارتِ خارجہ نے برطانوی حکومت کے اس فیصلے کی مذمت کی تھی، جس کے تحت امریکہ کو ایران کے خلاف فوجی حملوں کی تیاری کے لیے برطانوی فوجی اڈوں اور تنصیبات کے استعمال کی اجازت دی گئی۔ وزارتِ خارجہ نے کہا کہ ان حملوں کی تیاری یا ان پر عمل درآمد میں کسی بھی قسم کا تعاون جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت کے مترادف ہوگا۔