Islam Times:
2026-06-02@20:42:42 GMT

امریکی عوام ایران سے جنگ نہیں چاہتے، سابق رکن کانگریس

اشاعت کی تاریخ: 19th, February 2026 GMT

امریکی عوام ایران سے جنگ نہیں چاہتے، سابق رکن کانگریس

امریکہ کی سابق رکن کانگریس میرجوری ٹیلر گرین نے ٹرمپ کی خارجہ پالیسی پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ امریکی عوام ایران سے جنگ نہیں چاہتے اور امریکی صدر کو بھی چاہیے کہ وہ جنگ کی بجائے عوام کی معیشت بہتر بنانے پر توجہ مرکوز کرے۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی کانگریس کی سابق رکن میرجوری ٹیلر گرین نے ایکس پر اپنے پیغام میں لکھا: "امریکی ایران سے جنگ نہیں چاہتے، امریکی عوام چاہتے ہیں کہ وہ اپنی زندگی کے اخراجات ادا کرنے کے قابل ہو جائیں اور مستقبل کے بارے میں امیدوار ہوں۔ وہ خوش رہنا چاہتے ہیں اور زندگی سے لطف اندوز ہونا چاہتے ہیں۔" اس نے مزید لکھا: "امریکی عوام کا حکومت سے مطالبہ ہے کہ وہ ان بااثر افراد کو جیل میں ڈالیں جنہوں نے بچیوں سے زیادتی کی تھی۔ انہوں نے جنگوں کے خاتمے اور رجیم چینج آپریشن روکنے کو ووٹ دیا تھا۔" ٹیلر گرین ماضی میں ڈونلڈ ٹرمپ کے حامیوں میں شمار ہوتی تھیں لیکن اب اس کی شدید مخالف ہو چکی ہیں۔ انہوں نے اپنے پیغام میں مزید لکھا: "اگر تم لوگوں نے ابتدا سے ہی امریکہ کو پہلی ترجیح بنایا ہوتا تو اس وقت نہ تم خود اور نہ ہی تمہارے حامی عوام کو دھوکہ دینے کے راستے تلاش نہ کر رہے ہوتے۔" انہوں نے ڈونلڈ ٹرمپ کو مخاطب قرار دیتے ہوئے لکھا: "اگر تم نے ایپسٹن کیس کو جعلی نہ کہا ہوتا اور اس کیس کے متاثرہ افراد سے یوں برتاو نہ رکھا ہوتا گویا وہ وجود ہی نہیں رکھتے اور اگر اس کیس کی تمام تفصیلات منظرعام پر لے آتے اور اپنے دولت مند اور طاقتور دوستوں کو جیل روانہ کر دیتے تو شاید امریکی عوام واقعی تمہاری بات توجہ سے سنتے۔"
 
امریکہ کی سابق رکن کانگریس نے ٹرمپ سے مخاطب ہوتے ہوئے لکھا: "ایک اور بیرونی جنگ، مثال کے طور پر ایران کے ساتھ، کا آغاز حالات مزید خراب کر دے گا۔ صرف محدود افراد جو فاکس نیوز کے پروپیگنڈے سے متاثر ہیں، اس جنگ کی حمایت کریں گے۔" ٹیلر گرین نے مزید لکھا: "ایپسٹن کیس کی تمام تفصیلات شائع کرو اور بچوں سے جنسی زیادتی کرنے والے افراد کی حفاظت کرنا بند کر دو۔ انہیں چھپا کر تم نے سارا معاملہ بگاڑ لیا ہے۔ تنگ کرنا، بدمعاشی کرنا اور توہین آمیز القابات دینا بند کر دو۔ یہ نامعقول طرز عمل ہے اور عوام کی اکثریت اس کی وجہ سے تم سے دور ہو رہی ہے۔ حقیقی لیڈر ایسے عمل نہیں کرتے اور عالمی سطح پر بھی یہ بہت ہی رسوائی والی بات ہے۔ یہ ایسا طرز عمل نہیں جو ہم اپنے بچوں کو سکھانا پسند کرتے ہیں۔" سابق رکن کانگریس نے لکھا: "امریکہ کے حالات اس وقت زیادہ بہتر ہوتے جب حکومت اپنا کام اچھی طرح انجام دیتی۔ سب لوگ حکومت کی جانب سے تمام معاملات کو سیاسی کرنے سے تھک چکے ہیں۔ سیاسی جھگڑوں سے عاری زندگی زیادہ لذت بخش ہوتی ہے۔" یاد رہے میرجوری ٹیلر گرین نے 2020ء میں ٹرمپ کی شدید حمایت کی تھی اور رکن کانگریس منتخب ہوئی تھیں۔ انہوں نے واشنگٹن میں رہائش کے دوران بارہا ریپبلکن پارٹی کے طرز عمل کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ ایک وقت ایسا تھا جب وہ ٹرمپ کی قریبی اتحادی تصور کی جاتی تھیں لیکن جب ایپسٹن کیس سامنے آیا اور ٹرمپ نے اس کیس میں ملوث افراد کی حمایت کی تو انہوں نے 5 جنوری 2026ء کے دن استعفی دے دیا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: سابق رکن کانگریس ٹیلر گرین نے امریکی عوام انہوں نے

پڑھیں:

بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو

چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ ایران میں جاری جنگ کے اثرات کے باعث معاشی بحران نے جنم لیا ہے اور موجودہ معاشی چیلنجز سے نمٹنے کی صلاحیت صرف پیپلز پارٹی کے پاس ہے، گلگت بلتستان کے عوام 7 جون کو تیر پر مہر لگائیں۔

اسکردو میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے پاکستان کی جانب سے امن کے قیام کے لیے کی جانے والی کوششوں کو قابل فخر قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ جنگ بندی کے لیے کی جانے والی کاوشیں کامیاب ہوں گی۔

مزید پڑھیں: کسی پر تنقید کرکے نہیں بلکہ کارکردگی پر ووٹ مانگتا ہوں، نواز شریف کا گلگت میں خطاب

چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہاکہ ان کی جماعت ملک کے پسماندہ اور محروم طبقات کی حقیقی نمائندہ ہے۔ ایسی ترقی اور معاشی پالیسی کا کیا فائدہ جس میں امیر مزید امیر اور غریب مزید مشکلات کا شکار ہو جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام ملک کا واحد ایسا ادارہ ہے جو براہ راست مستحق خاندانوں تک پہنچتا ہے اور اس پروگرام کے خلاف ہونے والی سیاسی سازشیں ناکام ہوں گی۔

بدقسمتی اس ملک کی ہے کہ ہمارے سیاست دان ایسے ہیں کہ جب معاشی حالات خراب ہوتے ہیں تو وہ یہ نہیں سوچتے کہ ہم اپنے امیر دوستوں کی سبسڈی کیسے ختم کریں، وہ یہ نہیں سوچتے کہ کاروباری طبقہ کتنا ٹیکس دے رہا ہے، وہ سیدھا اس پر پہنچتے ہیں کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرو، مگر ہم یہ… pic.twitter.com/ioZikOPLZU

— WE News (@WENewsPk) June 2, 2026

انہوں نے دعویٰ کیا کہ بعض حکمران عناصر اس پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی اسے بچانے کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گی اور آئندہ بجٹ میں اس کے فنڈز میں اضافے کے لیے وزیراعظم سے بات کی جائے گی۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پاکستان کو ایٹمی طاقت بنانے کی بنیاد شہید ذوالفقار علی بھٹو نے رکھی جبکہ میزائل ٹیکنالوجی کے فروغ میں شہید محترمہ بینظیر بھٹو کا کردار نمایاں رہا۔

انہوں نے کہا کہ ماضی میں گلگت بلتستان کو شمالی علاقہ جات کہا جاتا تھا لیکن اس خطے کو موجودہ شناخت صدر آصف علی زرداری نے دی۔ ذوالفقار علی بھٹو نے بلتستان کی سرزمین سے پاکستان کو ایٹمی قوت بنانے کا اعلان کیا تھا۔

انہوں نے کہاکہ اگر 18ویں آئینی ترمیم کے تحت صوبوں کو دیے گئے اختیارات گلگت بلتستان کو بھی منتقل کر دیے جائیں تو خطے کے متعدد مسائل حل ہو سکتے ہیں۔

بلاول بھٹو نے کہاکہ حق حاکمیت کے بعد عوام کو حق ملکیت بھی ملنا چاہیے اور اسلام آباد کو تسلیم کرنا ہوگا کہ گلگت بلتستان کے وسائل پر سب سے پہلا حق مقامی آبادی کا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جب تک اس حقیقت کو تسلیم نہیں کیا جاتا، نہ گلگت بلتستان اور نہ ہی پاکستان حقیقی ترقی کر سکتا ہے۔

پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے سندھ حکومت کی کارکردگی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سیلاب سے متاثرہ خاندانوں کو گھر فراہم کیے گئے اور یہی عوامی خدمت پیپلز پارٹی کی سیاست کا بنیادی محور ہے۔

ان کے مطابق پارٹی ہمیشہ عام آدمی، مزدور اور محروم طبقات کے حقوق کی سیاست کرتی آئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ صدر آصف علی زرداری نے روٹی، کپڑا اور مکان کے نعرے کو بینظیر کارڈ کے ذریعے عملی شکل دی، جبکہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کو دنیا کے کئی ممالک نے قابل تقلید ماڈل قرار دیا۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ مسلم دنیا میں ایٹمی صلاحیت رکھنے والا واحد ملک پاکستان ہے اور اس صلاحیت کا سہرا شہید ذوالفقار علی بھٹو کے سر جاتا ہے۔

انہوں نے کہاکہ آج بھی گڑھی خدا بخش سے پاکستان کے دفاع کی روایت جڑی ہوئی ہے۔ جنرل مشرف کے دور میں غیر ملکی ممالک کو پاکستان میں اڈے حاصل تھے، تاہم سلالہ واقعے کے بعد صدر آصف علی زرداری نے ان اڈوں کو بند کروا دیا۔

انہوں نے سی پیک کے تحت تھرکول منصوبے کو سب سے کامیاب منصوبہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہاں 80 فیصد ملازمتیں مقامی افراد کو فراہم کی گئیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کی کوشش ہوتی ہے کہ زیادہ سے زیادہ روزگار کے مواقع پیدا کیے جائیں، جبکہ دیگر سیاسی قوتیں لوگوں کو بے روزگار کرنے کی پالیسی اپناتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ان کی جماعت غریب نوجوانوں کو روزگار فراہم کرکے معاشی طور پر مضبوط بنانا چاہتی ہے۔

مزید پڑھیں: کسی بھی نئی آئینی ترمیم میں گلگت بلتستان کے عوامی حقوق کا تحفظ یقینی بنانا چاہیے، بلاول بھٹو

چیئرمین پیپلز پارٹی نے سندھ میں سیلاب کے بعد بحالی کے اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے پورا صوبہ پانی میں ڈوب گیا ہو، تاہم حکومت 20 لاکھ متاثرہ گھروں کی تعمیر کر رہی ہے اور اتنے ہی خاندانوں کو مالکانہ حقوق کے ساتھ رہائش فراہم کی جا رہی ہے۔

بلاول بھٹو نے کہاکہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ سڑکوں کی تعمیر سے پہلے متاثرین کو گھر دیے جائیں۔ اس منصوبے کے نتیجے میں قریباً 10 لاکھ افراد کو روزگار ملا۔

انہوں نے گلگت بلتستان کے عوام سے اپیل کی کہ 7 جون کو تیر کے انتخابی نشان پر مہر لگائیں، پیپلز پارٹی یہاں بھی سندھ طرز کے عوامی فلاحی منصوبے متعارف کرائے گی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews بلاول بھٹو چیئرمین پیپلز پارٹی گلگت بلتستان الیکشن وی نیوز

متعلقہ مضامین

  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
  • آبنائے ہرمز بحالی پر بھی ایران سے پابندیاں نہیں ہٹائینگے: مارکوروبیو
  • امریکا ایران جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بےتحاشہ بڑھ گئی ہے
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
  • بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
  • امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان