واشنگٹن  (ڈیلی پاکستان آن لائن) چیئرمین پاکستان ورچوئل اثاثہ جات ریگولیٹری اتھارٹی اور وزیر مملکت بلال بن ثاقب نے امریکہ میں منعقدہ ایک خصوصی اور دعوت نامے پر مبنی تقریب میں شرکت کی، جس کا اہتمام ورلڈ لبرٹی فنانشنل نے کیا۔ یہ ادارہ امریکی صدر کے خاندان سے منسلک بتایا جاتا ہے۔یہ بند کمرہ اجلاس مار اے لاگو میں منعقد ہوا، جو ڈونلڈ ٹرمپ کی نجی رہائش گاہ اور معروف کلب ہے۔ یہ مقام عالمی سطح پر اعلیٰ سیاسی، کاروباری اور سفارتی سرگرمیوں کی میزبانی کے لیے جانا جاتا ہے۔

تقریب کی میزبانی ڈونلڈ ٹرمپ جو نیئر اور ایرک ٹرمپ سمیت دیگر منتظمین نے کی۔ اس خصوصی فورم میں عالمی مالیاتی اداروں، ٹیکنالوجی کمپنیوں، ڈیجیٹل اثاثوں، سرمایہ منڈیوں اور عوامی پالیسی سے وابستہ اہم شخصیات کو مدعو کیا گیا تھا۔ شرکت صرف سینئر منتظمین، پالیسی سازوں، نگران اداروں کے نمائندوں اور نمایاں سرمایہ کاروں تک محدود رکھی گئی۔شرکاء میں چینگ پنگ زاہو،ڈیوڈ سولومون،ایڈنا فرائیڈ مین ، لین مارٹن، جینی جانسن، برائن آرمسٹرانگ،  جیانی انفاٹینو ، کیون و لیری  اور کیلی لوفلر شامل تھے ۔تقریب میں عالمی مالیاتی نظام کے مستقبل، ڈیجیٹل اثاثوں، مستحکم ڈیجیٹل سکوں، سرمایہ منڈیوں میں جدت اور ضابطہ کاری و نئی مالیاتی ٹیکنالوجی کے باہمی تعلق پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

پاکستان میں ڈیٹا تک غیر مجاز رسائی اور واٹس ایپ ہیکنگ کی وارداتیں بڑھ گئیں، ایک سال کے دوران ڈیڑھ لاکھ سے بھی زائد شکایات موصول

بلال بن ثاقب کی اس اعلیٰ سطحی تقریب میں شرکت پاکستان کی جانب سے عالمی مالیاتی اور تکنیکی مباحث میں بڑھتی ہوئی دلچسپی اور کردار کی عکاسی کرتی ہے۔ حکومتی حلقوں کے مطابق پاکستان ڈیجیٹل اثاثوں اور مالیاتی جدت کے شعبے میں مؤثر ضابطہ جاتی ڈھانچہ تشکیل دینے کی سمت میں پیش رفت کر رہا ہے اور ایسی بین الاقوامی سرگرمیاں ملک کے مؤقف کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے کا ذریعہ بن رہی ہیں۔تقریب کے اختتام پر بند کمرہ ملاقاتیں اور مشاورتی نشستیں بھی منعقد ہوئیں، جن میں مستقبل کی مالیاتی حکمت عملی اور عالمی منڈیوں کے رجحانات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

لاہور میں راہگیر خاتون سے چھیڑ چھاڑ کرنے والا اوباش گرفتار

مزید :.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Pakistan

پڑھیں:

ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی

امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔

رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔

خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔

اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔

ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔

یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔

 

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بے قابو، فی بیرل 100 ڈالر سے متجاوز
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • پاکستان کے لیے بڑی معاشی خوشخبری، عالمی ادارے نے کریڈٹ ریٹنگ 7 سال کی بلند ترین سطح پر قرار دیدی
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • نیشنل اسپیشل گیمز: کراچی میں  فٹبال ٹورنامنٹ کے بعد اختتامی تقریب کا انعقاد
  • فیفا نے ورلڈ کپ 2026 کی ٹیم آف دی ٹورنامنٹ کا اعلان کر دیا
  • آبنائے ہرمز میں ہر حملے کے بدلے ایک پل یا پاور پلانٹ تباہ کریں گے، ٹرمپ کی ایران کو نئی دھمکی
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل