جنیوا مذاکرات ناکام ہوچکے‘ایران امریکا جنگ ہوگی
اشاعت کی تاریخ: 21st, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260221-01-16
کراچی (رپورٹ :قاضی جاوید) جینوا مذاکرات ناکام ہوچکے‘ایران، امریکا جنگ ہوگی‘علی خامنہ ای کی امریکی بحری بیڑاڈبونے کی دھمکی ٹرمپ کوبری لگی ہے،پینٹاگون کے پھرپور حملے سے تہران کے پاس فوجی صلاحیت مکمل ختم ہوجائے گی‘ ایران پاکستان، ترکیے اور سعودی عرب کی ثالثی قبول کر نے کوتیار نہیں،خطے پر جنگ کے بادل منڈلا رہے ہیں۔وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ امریکا حملہ کر ے گا اور امریکا کی تیاری آخری مراحل میں ہیں اور امریکا نے اس سلسلے میں یور پ، مشرق ِ وسطیٰ جنوبی ایشا، اسرائیل وسط ایشیائی اور شمالی افریقا میں ایران کے حمایتی ممالک کو اعتماد میں لے رہا اور ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ امریکا ایران پر حملے کے لیے مکمل طور سے تیار ہے اور امریکی صدر ٹرمپ بھی یہی سنگل دے رہے ہیں، ایران پر اس ہفتے کے آخر تک بھر پور حملہ کیا جائے گا‘ پاکستان بہت کو شش کر رہا ہے وہ اس حملے کو روکے لیکن جنیوا مذاکرات کی ناکامی سے تمام سفارتی کوشش ختم ہو چکی ہے ‘اب جنگ یقینی ہو رہی ہے ۔صحافی اور اینکر جاوید چودھری نے کہا کہ امریکا کا حملہ یقینی ہے اور اب تو امریکا یہ بھی کہہ رہا ہے کہ وہ اس قدر بھر پور حملہ کر ے گاکہ ایران اس کا جواب دینے کے بھی قابل نہیں رہے گا‘بحری بیٹرا اسی صورت میں ڈبوئے گا جب ایران امریکا کے حملے سے اپنی جنگی صلاحیت کو بچا سکے گا، بیک ڈور مذاکرات کبھی بند نہیں ہوتے اور ایران و امریکا کے درمیان بھی بیک ڈور ڈپلومیسی کا امکان موجود ہے، ہاکستان ہی نہیں ترکیہ اور سعودی عرب اس جنگ کے مخالف ہیں اور اس سے خطے میں ایک بڑی جنگ کے خدشات بہت واضع ہیں اور جنگ مشرق وسطیٰ کے دیگر ممالک تک بھی تیزی سے پھیل سکتی ہے اسے فوری روکنا بھی آسان نہیں ہو گا بلکہ حقیقت یہ ہے کہ جنگ بہت طویل بھی ہو سکتی ہے‘ اس لیے ضروری ہے کہ اس جنگ کو روکنے کے ایران پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کی ثالثی قبول کر ے جن کو ایران الگ رکھا ہو ا ہے۔ معروف اینکر ڈاکٹر شاہد مسعود نے کہا کہ امریکا کو علی خامنہ ای کی دھمکی بری لگ گئی ہے کہ ایران امریکی بحری بیڑے کو اپنے خطرناک ہتھیار سے ڈبو دے گا اور اب وہ ایران پر حملہ کر علی خامنہ ای کو جواب دینا چاہتے ہیں، امریکا اپنے بحری بیڑے کو غر ق کرنے والے ملک کو تباہ کر دیتا ہے اور امریکا اب اسی مقصد کے لیے حملہ کرے گا اور یہ حملہ یقینی ہے‘ ایٹمی اسلحے کا استعمال آسان نہیں ہو گا لیکن ٹرمپ یہ کرنے میں دیر نہیں کر یں گے‘ ایران امریکا کے جنیوا مذاکرات ناکام نہیں ہوئے لیکن ان مذاکرات کے کامیابی کا اشارہ نہیں مل رہا ہے‘ اس بات میں دو رائے نہیں ہے کہ خطے پر جنگ کے بادل ہیں اور یہ خطرناک جنگ کا اعلان بھی ہوچکا ہے لیکن دعا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ انسانوں کو جنگ کی آگ سے محفوظ رکھے ‘ بحری بیڑا ڈوبے یا نہ ڈوبے لیکن جنگ ایرانی عوام کے بھیانک اور تباہ کن ہو سکتی ہے اور اس بچنا ضروری ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کہ امریکا نہیں ہو ہیں اور حملہ کر جنگ کے رہا ہے ہے اور
پڑھیں:
خطے میں تنازعات کے پُرامن حل کیلئے کوششیں جاری رکھیں گے: اسحاق ڈار
اسحاق ڈار---فائل فوٹونائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ امریکا ایران تنازع میں پاکستان کی ثالثی کوششوں کو یورپی یونین کی جانب سے سراہا گیا ہے، پاکستان خطے میں امن، سفارت کاری اور تنازعات کے پُرامن حل کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔
یورپی یونین کی رہنما کایا کالاس کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں انہوں نے کہا کہ آخری یورپی یونین وزٹ 7 سال پہلے ہوا تھا، ہم پچھلے سال بھارت پاکستان جنگ اور ایران امریکا تنازع کے دوران قریبی رابطے میں رہے، آج ہم نے مشترکہ طور پر اسٹریٹیجیک مذاکرات کی صدارت کی، ہم نے پچھلے سال نومبر میں مشترکہ اسٹریٹیجیک مذاکرات کیے تھے، امریکا ایران تنازع کے دوران یورپی یونین کے تعاون کا مشکور ہوں۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ ہم نے سیکیورٹی ایشوز اور دہشت گردی کے امور پر بھی بات کی، فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کی افغانستان میں موجودگی پر بھی بات کی، پاکستان اور یورپی یونین کے تعلقات میں مثبت پیشرفت جاری ہے، کایا کالاس کا دورہ اس کا واضح ثبوت ہے۔
یورپی یونین کی خارجہ امور اور سیکیورٹی پالیسی کی سربراہ نے امریکا ایران تنازع کے حل کے لیے پاکستان کےثالثی اقدامات کی تعریف کر دی۔
ان کا کہنا ہے کہ پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان آٹھواں اسٹریٹجک ڈائیلاگ اعلیٰ ترین ادارہ جاتی مکالمہ ہے، پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری اور ترقیاتی تعاون کے فروغ پر اتفاق ہوا، جی ایس پی پلس فریم ورک کے تحت پاکستان اور یورپی یونین کا تجارتی تعاون دونوں فریقوں کے لیے فائدہ مند ہے، اسلام آباد میں پاکستان یورپی یونین بزنس فورم کا انعقاد دو طرفہ اقتصادی تعلقات کے فروغ میں اہم پیش رفت ہے۔
نائب وزیرِ اعظم نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر تنازع کا حل کشمیری عوام کی خواہشات اور اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ہونا چاہیے، انڈس واٹرز معاہدہ برقرار ہے، حالیہ عدالتی فیصلے نے پاکستان کے مؤقف کی تائید کی ہے، افغان سر زمین سے دہشت گرد عناصر کی پاکستان میں کارروائیاں بدستور ہماری بڑی تشویش ہیں، پاکستان اور یورپی یونین نے دو طرفہ تعلقات کو جامع اور باہمی مفاد پر مبنی شراکت داری میں تبدیل کرنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔