Express News:
2026-06-03@00:27:29 GMT

ٹرمپ کی تعریفیں

اشاعت کی تاریخ: 20th, February 2026 GMT

غزہ کے بورڈ آف پیس کے اجلاس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پھر وزیر اعظم پاکستان میاں شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی تعریفوں کے پل باندھ دئے ہیں۔ انھوں نے دونوں کی خوب جم کر تعریف کی ہے اور دونوں شخصیات کے لیے اپنی پسندیدگی کا اظہار کیا ہے۔

امریکا کی دوستی اور امریکی صدر کی پسندیدگی عالمی سفارتکاری میں بہت اہم سمجھی جاتی ہے۔ جیسے کہا جاتا ہے کہ ہاتھی کے پاؤں میں سب کا پاؤں ۔ اسی طرح امریکا جس کے ساتھ ہے دنیا اس کے ساتھ ہے۔ اس تناظر میں فیلڈ مارشل اور وزیر اعظم دونوں کے لیے امریکی صدر کی پسندیدگی پاکستان کی عالمی سفارتکاری میں اہمیت کو مہر لگاتی ہے۔

ویسے تو ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ کوئی پہلی دفعہ اس طرح تعریف نہیں کی ہے، وہ مسلسل کر رہے ہیں۔ پاکستان کی جانب سے بھارتی جہازوں کو گرانے کی توثیق بھی کرتے ہیں۔ پاک بھارت جنگ بند کروانے کا کریڈٹ بھی لیتے ہیں۔ پاکستان کو ان کے دونوں موقف پسند ہیں۔ پاکستان جنگ بند کروانے اور سیز فائر کا کریڈٹ ٹرمپ کو دیتا ہے بلکہ پاکستان کا موقف ہے کہ صدر ٹرمپ نے پاک بھارت ایٹمی جنگ رکوائی، اس لیے ہم اس جنگ کو رکوانے پر ٹرمپ کو نوبل پرائز کی نامزدگی کی بھی حمائت کر چکے ہیں۔

بھارت کا موقف ہے کہ اس نے امریکی دباؤ میں جنگ بندی نہیں کی ہے۔ بھارت کا موقف ہے کہ اس نے پاکستان کی د رخواست پر جنگ بندی کی ہے۔ جب کہ پاکستان کا موقف ہے کہ امریکا کی مداخلت پر جنگ بندی کی گئی۔ اس لیے اس وقت ٹرمپ کا اور پاکستان کا موقف ایک ہے، صرف بھارتی جہازوں کی تباہی کے اعداد و شمار میں فرق ہے۔ ٹرمپ ہر بار جہازوں کی تعداد بڑھا دیتے ہیں۔

لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ جب بھی ٹرمپ فیلڈ مارشل اور وزیر اعظم شہباز شریف کی تعریف کرتے ہیں تب ہی تحریک انصاف اور بالخصوص اوور سیز تحریک انصاف میں غم اور صدمہ کی لہر دوڑ جاتی ہے۔ پہلے تو وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کے بیرونی دوروں کے موقع پر تحریک انصاف کی جانب سے احتجاج کی کال بھی دی جاتی تھی۔ لیکن اب شاید سب تھک گئے ہیں۔اس بار کوئی باقاعدہ احتجاج کی کال بھی نہیں دی گئی۔ ایک وقت تھا کہ تحریک انصاف کے امریکی دوست امریکا کو اپنی میراث سمجھتے تھے۔

وہ سمجھتے تھے کہ وہ اپنے امریکی تعلقات کی طاقت سے پاکستان میں اپنی من مانی کر سکتے ہیں۔ بالخصوص تحریک انصاف کے دوست اس زعم میں مبتلا تھے کہ چند کانگریس کے ارکان کے ٹوئٹس پاکستان کا منظر نامہ بدل سکتے ہیں۔ ایک امریکی کانگریس کا ٹوئٹ پاکستان کے طاقت کے ایوانوں کو ہلا کر رکھ دے گا۔ اس لیے کانگریس کے ارکان کے ٹوئٹ پر بہت توجہ دی جا رہی تھی۔

ایسا لگ رہا تھا کہ امریکی کانگریس کے ار کان نے تحریک انصاف جوائن کرلی ہے۔ انھیں عمران خان کی رہائی کے لیے ٹوئٹ کرنے کے سوا کوئی کام نہیں۔ یہی وہ وقت تھا جب محسن نقوی امریکا گئے تو وہ جس کانگریس رکن سے ملے اس نے ملاقات کے بعد عمران خان کی رہائی کا ٹوئٹ کر دیا۔ تحریک انصاف کے دوست امریکی کانگریس کے ارکان کے ٹوئٹس کو ایسے دوبارہ شئیر کرتے تھے کہ جیسے بہت مقدس چیز ہے۔ اس لیے آج ٹرمپ فیلڈ مارشل اور شہبازشریف کی تعریف کرتے ہیں تو یہ تحریک انصاف کی شکست بھی ہے۔ انھیں امریکا میں لابنگ کے میدان میں بری شکست ہوئی ہے۔ وہ امریکا کے سر پر بانی تحریک انصاف کو اقتدار میں لانے کی کوشش میں تھے۔ جس میں وہ بری طرح ناکام ہوئے ہیں۔

بھارت بھی پریشان ہے۔ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ گزشتہ پندرہ سال بھارت نے امریکا کے ساتھ اپنے بہترین تعلقات کی وجہ سے پاکستان کو سفارتی محاذ پر بہت پریشان رکھا ہے۔ ہمیں بھارت کی سفارتی کامیابیاں نظر آتی تھیں۔ لیکن آج واضح ہو رہا ہے کہ اس سب کی بنیاد امریکا کی خوشنودی تھی۔

امریکی صدور بھارت کے لمبے لبے دورے کرتے تھے جس سے بھارت کا عالمی سفارتکاری میں ایک بڑا امیج بن جاتا تھا۔ پاکستان کے خلاف امریکا سے بیانات آتے تھے۔ ڈو مور کا مطالبہ رہتا تھا۔ بھارت ہر وقت پاکستان کو سایڈ لائن کرنے کی کوشش میں رہتا تھا۔ لیکن آج وقت بدل گیا ہے۔ وہی امریکا اب پاکستان کے گن گا رہا ہے۔ جو مشکلات پہلے پاکستان کو درپیش تھیں ، وہی مشکلات اب بھارت کو درپیش ہیں۔

ٹرمپ کے بیانات مودی کے لیے مشکلات پیدا کرتے ہیں۔ بھارت میں ان پر دباؤ ہے کہ وہ ٹرمپ کو جواب دیں۔ لیکن ٹرمپ کے مسلسل گفتگو کا آج تک مودی نے کوئی جواب نہیں دیا۔ مودی نے خاموشی کی پالیسی بنائی ہوئی ہے، وہ ٹرمپ کو جواب نہیں دے رہے۔ پہلے کہا جاتا تھا کہ بھارت ٹریڈ ڈیل کرنا چاہتا ہے۔ امریکا نے بھارت پر بھاری ٹیرف عائد کیا ہوا تھا۔بھارت ٹریڈ ڈیل اور ٹیرف ڈیل کے دباؤ میں تھا۔ اب وہ ٹیرف ڈیل ہو گئی ہے لیکن بھارت ابھی بھی دباؤ میں ہے۔ اگر بھارت جیسا ملک اپنے مالی مفادات کے لیے امریکی دباؤ میں ہے۔ تو آپ اندازہ لگائیں پاکستان کے بھی کس قدر امریکا سے مالی مفادات ہونگے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: کا موقف ہے کہ تحریک انصاف کانگریس کے پاکستان کے پاکستان کو فیلڈ مارشل پاکستان کا کی تعریف کرتے ہیں ٹرمپ کو کے لیے اس لیے

پڑھیں:

افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی

افغانستان کرکٹ ٹیم(Afghanistan Cricket Team) اپنی آئندہ ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی بھارت کے دارالحکومت دہلی میں کرے گی، جس کا باضابطہ شیڈول سامنے آگیا ہے۔

رپورٹس کے مطابق افغانستان کرکٹ بورڈ اور بھارتی کرکٹ بورڈ کے درمیان طویل مشاورت کے بعد اس سیریز کے انعقاد پر اتفاق کیا گیا ہے، جس کے تحت تین ٹی ٹوئنٹی میچز 13، 16 اور 19 ستمبر کو کھیلے جائیں گے۔

ذرائع کے مطابق یہ پہلا موقع ہوگا کہ افغانستان بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گا، جو دونوں کرکٹ بورڈز کے درمیان مضبوط ہوتے ہوئے تعلقات کی عکاسی کرتا ہے۔

اس سے قبل افغانستان کی ٹیم بھارت کے خلاف ایک ٹیسٹ میچ اور تین ون ڈے میچز کی سیریز بھی کھیل رہی ہے، جس سے دونوں ٹیموں کے درمیان بین الاقوامی کرکٹ روابط مزید مستحکم ہو رہے ہیں۔

مزیدپڑھیں:پنجاب میں مفت سفری سہولت ختم کرنے پر غور

بھارتی میڈیا کے مطابق افغانستان کرکٹ بورڈ نے اس سیریز کے لیے جوابی دورے کی خواہش ظاہر کی تھی، جس پر بھارتی بورڈ نے مثبت ردعمل دیا۔ دونوں بورڈز کے درمیان پہلے سے اچھے تعلقات موجود ہیں، جس کی بنیاد پر اس سیریز کو ممکن بنایا گیا۔

یہ بھی یاد رہے کہ افغانستان کرکٹ ٹیم ماضی میں اپنی ہوم سیریز بھارت اور متحدہ عرب امارات میں کھیلتی رہی ہے۔ بھارت میں افغانستان نے اس سے قبل آئرلینڈ، بنگلہ دیش اور نیوزی لینڈ جیسی ٹیموں کی میزبانی بھی کی ہے۔

کرکٹ ماہرین کے مطابق افغانستان کی جانب سے بھارت میں مسلسل ہوم سیریز کھیلنا اس بات کی علامت ہے کہ وہ عالمی کرکٹ میں اپنی موجودگی اور انتظامی صلاحیتوں کو مزید مضبوط کر رہا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • سرینڈر کا امریکی مطالبہ مسترد، ایران کا حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان
  • ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی
  • امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان