Express News:
2026-07-24@04:59:29 GMT

ٹرمپ کی تعریفیں

اشاعت کی تاریخ: 20th, February 2026 GMT

غزہ کے بورڈ آف پیس کے اجلاس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پھر وزیر اعظم پاکستان میاں شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی تعریفوں کے پل باندھ دئے ہیں۔ انھوں نے دونوں کی خوب جم کر تعریف کی ہے اور دونوں شخصیات کے لیے اپنی پسندیدگی کا اظہار کیا ہے۔

امریکا کی دوستی اور امریکی صدر کی پسندیدگی عالمی سفارتکاری میں بہت اہم سمجھی جاتی ہے۔ جیسے کہا جاتا ہے کہ ہاتھی کے پاؤں میں سب کا پاؤں ۔ اسی طرح امریکا جس کے ساتھ ہے دنیا اس کے ساتھ ہے۔ اس تناظر میں فیلڈ مارشل اور وزیر اعظم دونوں کے لیے امریکی صدر کی پسندیدگی پاکستان کی عالمی سفارتکاری میں اہمیت کو مہر لگاتی ہے۔

ویسے تو ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ کوئی پہلی دفعہ اس طرح تعریف نہیں کی ہے، وہ مسلسل کر رہے ہیں۔ پاکستان کی جانب سے بھارتی جہازوں کو گرانے کی توثیق بھی کرتے ہیں۔ پاک بھارت جنگ بند کروانے کا کریڈٹ بھی لیتے ہیں۔ پاکستان کو ان کے دونوں موقف پسند ہیں۔ پاکستان جنگ بند کروانے اور سیز فائر کا کریڈٹ ٹرمپ کو دیتا ہے بلکہ پاکستان کا موقف ہے کہ صدر ٹرمپ نے پاک بھارت ایٹمی جنگ رکوائی، اس لیے ہم اس جنگ کو رکوانے پر ٹرمپ کو نوبل پرائز کی نامزدگی کی بھی حمائت کر چکے ہیں۔

بھارت کا موقف ہے کہ اس نے امریکی دباؤ میں جنگ بندی نہیں کی ہے۔ بھارت کا موقف ہے کہ اس نے پاکستان کی د رخواست پر جنگ بندی کی ہے۔ جب کہ پاکستان کا موقف ہے کہ امریکا کی مداخلت پر جنگ بندی کی گئی۔ اس لیے اس وقت ٹرمپ کا اور پاکستان کا موقف ایک ہے، صرف بھارتی جہازوں کی تباہی کے اعداد و شمار میں فرق ہے۔ ٹرمپ ہر بار جہازوں کی تعداد بڑھا دیتے ہیں۔

لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ جب بھی ٹرمپ فیلڈ مارشل اور وزیر اعظم شہباز شریف کی تعریف کرتے ہیں تب ہی تحریک انصاف اور بالخصوص اوور سیز تحریک انصاف میں غم اور صدمہ کی لہر دوڑ جاتی ہے۔ پہلے تو وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کے بیرونی دوروں کے موقع پر تحریک انصاف کی جانب سے احتجاج کی کال بھی دی جاتی تھی۔ لیکن اب شاید سب تھک گئے ہیں۔اس بار کوئی باقاعدہ احتجاج کی کال بھی نہیں دی گئی۔ ایک وقت تھا کہ تحریک انصاف کے امریکی دوست امریکا کو اپنی میراث سمجھتے تھے۔

وہ سمجھتے تھے کہ وہ اپنے امریکی تعلقات کی طاقت سے پاکستان میں اپنی من مانی کر سکتے ہیں۔ بالخصوص تحریک انصاف کے دوست اس زعم میں مبتلا تھے کہ چند کانگریس کے ارکان کے ٹوئٹس پاکستان کا منظر نامہ بدل سکتے ہیں۔ ایک امریکی کانگریس کا ٹوئٹ پاکستان کے طاقت کے ایوانوں کو ہلا کر رکھ دے گا۔ اس لیے کانگریس کے ارکان کے ٹوئٹ پر بہت توجہ دی جا رہی تھی۔

ایسا لگ رہا تھا کہ امریکی کانگریس کے ار کان نے تحریک انصاف جوائن کرلی ہے۔ انھیں عمران خان کی رہائی کے لیے ٹوئٹ کرنے کے سوا کوئی کام نہیں۔ یہی وہ وقت تھا جب محسن نقوی امریکا گئے تو وہ جس کانگریس رکن سے ملے اس نے ملاقات کے بعد عمران خان کی رہائی کا ٹوئٹ کر دیا۔ تحریک انصاف کے دوست امریکی کانگریس کے ارکان کے ٹوئٹس کو ایسے دوبارہ شئیر کرتے تھے کہ جیسے بہت مقدس چیز ہے۔ اس لیے آج ٹرمپ فیلڈ مارشل اور شہبازشریف کی تعریف کرتے ہیں تو یہ تحریک انصاف کی شکست بھی ہے۔ انھیں امریکا میں لابنگ کے میدان میں بری شکست ہوئی ہے۔ وہ امریکا کے سر پر بانی تحریک انصاف کو اقتدار میں لانے کی کوشش میں تھے۔ جس میں وہ بری طرح ناکام ہوئے ہیں۔

بھارت بھی پریشان ہے۔ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ گزشتہ پندرہ سال بھارت نے امریکا کے ساتھ اپنے بہترین تعلقات کی وجہ سے پاکستان کو سفارتی محاذ پر بہت پریشان رکھا ہے۔ ہمیں بھارت کی سفارتی کامیابیاں نظر آتی تھیں۔ لیکن آج واضح ہو رہا ہے کہ اس سب کی بنیاد امریکا کی خوشنودی تھی۔

امریکی صدور بھارت کے لمبے لبے دورے کرتے تھے جس سے بھارت کا عالمی سفارتکاری میں ایک بڑا امیج بن جاتا تھا۔ پاکستان کے خلاف امریکا سے بیانات آتے تھے۔ ڈو مور کا مطالبہ رہتا تھا۔ بھارت ہر وقت پاکستان کو سایڈ لائن کرنے کی کوشش میں رہتا تھا۔ لیکن آج وقت بدل گیا ہے۔ وہی امریکا اب پاکستان کے گن گا رہا ہے۔ جو مشکلات پہلے پاکستان کو درپیش تھیں ، وہی مشکلات اب بھارت کو درپیش ہیں۔

ٹرمپ کے بیانات مودی کے لیے مشکلات پیدا کرتے ہیں۔ بھارت میں ان پر دباؤ ہے کہ وہ ٹرمپ کو جواب دیں۔ لیکن ٹرمپ کے مسلسل گفتگو کا آج تک مودی نے کوئی جواب نہیں دیا۔ مودی نے خاموشی کی پالیسی بنائی ہوئی ہے، وہ ٹرمپ کو جواب نہیں دے رہے۔ پہلے کہا جاتا تھا کہ بھارت ٹریڈ ڈیل کرنا چاہتا ہے۔ امریکا نے بھارت پر بھاری ٹیرف عائد کیا ہوا تھا۔بھارت ٹریڈ ڈیل اور ٹیرف ڈیل کے دباؤ میں تھا۔ اب وہ ٹیرف ڈیل ہو گئی ہے لیکن بھارت ابھی بھی دباؤ میں ہے۔ اگر بھارت جیسا ملک اپنے مالی مفادات کے لیے امریکی دباؤ میں ہے۔ تو آپ اندازہ لگائیں پاکستان کے بھی کس قدر امریکا سے مالی مفادات ہونگے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: کا موقف ہے کہ تحریک انصاف کانگریس کے پاکستان کے پاکستان کو فیلڈ مارشل پاکستان کا کی تعریف کرتے ہیں ٹرمپ کو کے لیے اس لیے

پڑھیں:

سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل

نیتن یاہو - فوٹو: فائل

اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔ 

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔

خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔

سعودی عرب سے جوہری معاہدہ، ٹرمپ نے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط رکھ دی

اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔

صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔

تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔

متعلقہ مضامین

  • امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
  • امریکا کی 250 ویں سالگرہ 5 روزہ نمائش، آزادی کے تصور پر پاکستانی آرٹسٹس کے فن پارے توجہ کا مرکز
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل