ڈھاکہ میئرز کے عہدوں پر توجہ، جماعتِ اسلامی کی مقامی حکومت کے انتخابات کی تیاری WhatsAppFacebookTwitter 0 21 February, 2026 سب نیوز

ڈھاکہ (آئی پی ایس )جماعتِ اسلامی نے بنگلہ دیش میں آئندہ مقامی حکومت کے انتخابات کی تیاری شروع کر دی ہے، اور پارٹی رہنماں نے تصدیق کی ہے کہ ڈھاکہ کی 2 سٹی کارپوریشن میئر کی نشستیں جیتنا ان کا سب سے اہم ہدف ہے۔پارٹی ذرائع کے مطابق جماعت نے پہلے ہی کئی عہدوں کے امیدوار حتمی کر لیے ہیں، جن میں اپزیلا چیئرمین، میونسپلٹی میئرز، اور یونین کونسل چیئرمین شامل ہیں، سٹی کارپوریشن میئر کے امیدواروں کے انتخاب کا عمل جلد شروع ہونے کی توقع ہے۔یہ اقدام محمد یونس کی قیادت میں عبوری حکومت کی جانب سے متعارف کرائی گئی قانونی ترامیم کے بعد آیا ہے

، جنہوں نے آرڈیننس کے ذریعے مقامی حکومت کے قوانین میں اصلاحات کیں، عوام کی نمائندگی کے آرڈر میں بھی ترمیم کی گئی ہے۔اگر 13ویں پارلیمنٹ نے اسے منظور کر لیا، تو مقامی انتخابات غیر جماعتی بنیادوں پر واپس ہونے کا امکان ہے۔گزشتہ عوامی لیگ کی حکومت کے دوران قوانین کے مطابق میئر اور چیئرمین کے عہدوں کے لیے پارٹی نامزد امیدوار لازمی تھے، بی این پی نے اس جماعتی ڈھانچے کی مخالفت کی اور غیر جماعتی انتخابات کی وکالت کی تھی۔12 فروری کے پارلیمانی انتخابات میں دو تہائی اکثریت حاصل کرنے کے بعد، بی این پی سے توقع ہے کہ وہ غیر جماعتی فریم ورک بحال کرے گی

، پارٹی نے اس موقف کو اتفاقی کمیشن کے مذاکرات کے دوران بھی دہرایا۔جماعت کے رہنماں نے بتایا کہ انتخابات کی تیاری رمضان کے بعد ہونے والے سٹی کارپوریشن انتخابات کے امکان کے پیشِ نظر کی جا رہی ہے۔ اگست 2024 میں قانون میں ترامیم کے نتیجے میں ضلع کونسلز، سٹی کارپوریشنز، سب ڈسٹرکٹ کونسلز اور میونسپلٹیز تحلیل کر دی گئیں۔ تب سے یہ ادارے عبوری طور پر حکومتی افسروں کے زیر انتظام چل رہے ہیں، جسے ناقدین انتظامی جمود قرار دیتے ہیں۔اگرچہ یونین کونسلز رسمی طور پر موجود ہیں، لیکن بہت سے منتخب چیئرمین جو عوامی لیگ سے وابستہ ہیں، غیر حاضر ہیں، جس کی وجہ سے انتظامی نگرانی افسروں کے ہاتھ میں ہے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرپی ٹی آئی اتفاق رائے کرلے تو مذاکرات ہو سکتے ہیں، ڈاکٹر طارق فضل پی ٹی آئی اتفاق رائے کرلے تو مذاکرات ہو سکتے ہیں، ڈاکٹر طارق فضل اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کا بنوں میں دہشت گردوں کے خلاف کامیاب کارروائی پر سیکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین بنوں خودکش حملے کے تانے بانے افغانستان میں موجود خارجی حافظ گل بہادر سے جا ملے حکومت نے ایک سال میں 10.

6 ارب ڈالر قرض لیا، 13.3 ارب ڈالر ادا کیا بقایاجات کی عدم ادائیگی پر بھارتی ایئر لائن کیلئے بنگلہ دیشی فضائی حدود بند بنوں خودکش حملے کے تانے بانے افغانستان میں موجود خارجی نیٹ ورک سے جا ملے، سکیورٹی ذرائع TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2026, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: انتخابات کی تیاری مقامی حکومت کے

پڑھیں:

قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان

راولپنڈی ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کا کہنا ہے کہ جب بھی حکومت کو لگتا ہے عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کیلئے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میڈیا ہم سے سوال کرنے کے بجائے حکومت سے جواب طلب کرے کہ عمران خان کو گزشتہ 7 ماہ سے غیر قانونی قیدِ تنہائی میں کیوں رکھا گیا ہے؟ صحافی وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے جا کر اس قیدِ تنہائی کی وجہ پوچھیں، ہمارا خاندان کسی قسم کا سیاسی این آر او یا ریلیف نہیں مانگ رہا، قیدِ تنہائی کا خاتمہ عمران خان کا بنیادی اور قانونی حق ہے۔

علیمہ خان نے الزام لگایا کہ گزشتہ 8 مہینوں سے عمران خان کو ذہنی و جسمانی ٹارچر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، ملک میں کوئی قانون نہیں چل رہا، اگر حکومت ہمیں جیل میں ڈالنا چاہتی ہے تو شوق سے ڈال دے، لیکن عمران خان کی آنکھوں کے علاج اور معائنے کے لیے انہیں فوری طور پر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے اور وہاں کے ماہر ڈاکٹرز سے ان کا طبی معائنہ کروایا جائے۔

(جاری ہے)

انہوں نے سوال اٹھایا کہ سابق آرمی چیف کیوں عمران خان سے ملنے جائیں گے؟ وہ تو عمران خان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ ہی نہیں سکتے، پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بھی واضح کر دیا ہے کہ یہ تمام باتیں بالکل جھوٹ ہیں، جب بھی حکومت کو لگتا ہے کہ عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کے لیے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، جبکہ حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔

عمران خان کی ہمشیرہ نے کہا کہ جب آپ لوگوں کے ووٹ چوری کریں گے اور عوام سمجھ جائیں گے کہ ان کے ووٹ کی کوئی حیثیت نہیں رہی، تو پھر ان کا شدید ردعمل آئے گا، حکومت کبھی لاٹھی سے تو کبھی گولی سے عوام کو مارتی ہے، ووٹ چوری سے پی ٹی آئی کا نہیں بلکہ اس عام شہری کا حق مارا جاتا ہے جس کا وہ ووٹ ہوتا ہے، گلگت بلتستان میں بھی وہی کچھ دہرایا جا رہا ہے جو عام انتخابات 2024ء میں کیا گیا تھا، وہاں پی ٹی آئی کو انتخابی مہم تک چلانے کی اجازت نہیں دی جا رہی، یاد رکھیں ظلم ہمیشہ وہی کرتا ہے جو اندر سے خود شدید خوفزدہ ہوتا ہے۔

علیمہ خان نے کہا کہ ہم پی ٹی آئی کی قیادت سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ آ کر یہاں بیٹھیں، جب قیادت آئے گی تو تمام ایم این ایز، ایم پی ایز، سینیٹرز اور تنظیم کے سینئر رہنما یہاں موجود ہوں گے، اگر پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت اس فائنل کال پر بھی باہر نہیں نکلتی، تو پھر میڈیا اور عوام کا حق ہے کہ وہ ان رہنماؤں سے سوال کریں کہ وہ اپنے عظیم لیڈر کے لیے باہر کیوں نہیں آ رہے۔

متعلقہ مضامین

  • گلگت میں ن لیگ کے ترقیاتی کاموں کا کوئی جماعت مقابلہ نہیں کرسکتی، احسن اقبال
  • وفاقی جماعتوں کے تمام مرکزی قائدین گلگت بلتستان انتخابات میں متحرک
  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
  • نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
  • حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
  • گلگت بلتستان انتخابات کیلئے سیکیورٹی ہائی الرٹ، 13 ہزار سے زائد اہلکار تعینات کرنے کا فیصلہ
  • چاہتا ہوں کرنسی سے قائداعظم کی تصویر ہٹا دی جائے، شہزاد نواز نے ایسا کیوں کہا؟
  • پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
  • قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان