راولپنڈی: ڈکیتی کے دوران سرکاری اہلکار جاں بحق، تین ملزمان فرار
اشاعت کی تاریخ: 21st, February 2026 GMT
راولپنڈی کے تھانہ چونترہ کی حدود میں ڈکیتی کے دوران فائرنگ کے نتیجے میں ایک سرکاری اہلکار جاں بحق ہو گیا، جبکہ موٹرسائیکل پر سوار تین ملزمان موقع سے فرار ہو گئے۔ پولیس نے واقعے کے بعد ڈکیتی اور قتل کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا ہے۔
پولیس کے مطابق مقتول محمد ادیب کے بھائی محمد حسین کی درخواست پر کارروائی کی گئی۔ درخواست میں بتایا گیا کہ محمد ادیب، جو سرکاری ملازم تھے، چھٹی کے بعد گھر آ رہے تھے۔ بھائی نے فون کر کے کہا کہ وہ چکری انٹرچینج پہنچ رہے ہیں اور موٹرسائیکل پر لینے کے لیے آنے کا کہا۔
ایف آئی آر کے مطابق جب بھائی چکری اڈے پر پہنچے تو ان کے ساتھ دوست رحمت خان بھی موجود تھے۔ محمد حسین نے رحمت کو وہاں چھوڑ کر خود واپس جانے کی کوشش کی، لیکن کافی دیر تک واپس نہ آئے۔ اس دوران رحمت خان نے فون اٹھا کر واقعے کی اطلاع دی۔
رحمت کے مطابق موٹرسائیکل سوار تین نامعلوم افراد نے ادیب کو روکنے کی کوشش کی، اور جب ادیب نہ رکے تو ایک ملزم نے فائرنگ کر دی۔ ملزمان اس کے بعد فرار ہو گئے۔
پولیس نے بتایا کہ واقعہ کی فوری اطلاع پر موقع پر پہنچ کر تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔ مقدمہ ڈکیتی اور قتل کی دفعات کے تحت درج کیا گیا ہے اور ملزمان کی شناخت اور گرفتاری کے لیے مختلف ذرائع استعمال کیے جا رہے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ اسلام ٹائمز۔ پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔ پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔ فیصلے کے مطابق نیب خیبر پختونخوا اپر کوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔ احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔