بلوچستان اسمبلی میں نشستوں میں اضافے کی قرارداد متفقہ طور پر منظور
اشاعت کی تاریخ: 21st, February 2026 GMT
بلوچستان اسمبلی نے جمعہ کے روز متفقہ طور پر ایک اہم قرارداد منظور کر لی، جس میں صوبے کی صوبائی اور قومی اسمبلی کی نشستوں میں اضافے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ قرارداد میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ رقبے کے لحاظ سے ملک کا سب سے بڑا اور اسٹریٹجک اہمیت کا حامل صوبہ ہونے کے باوجود بلوچستان کو قانون ساز اداروں میں مناسب نمائندگی حاصل نہیں۔
قرارداد جمعیت علمائے اسلام (ف) سے تعلق رکھنے والے رکن صوبائی اسمبلی اصغر علی ترین نے پیش کی۔ ایوان سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بلوچستان پاکستان کے تقریباً نصف رقبے پر مشتمل ہے اور جغرافیائی و دفاعی لحاظ سے نہایت اہمیت رکھتا ہے، تاہم اس کے عوام کو کلیدی قانون ساز فورمز میں مکمل نمائندگی حاصل نہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ جمہوریت کی بنیاد منصفانہ نمائندگی ہے۔ بلوچستان نے وفاق کے لیے بے شمار قربانیاں دی ہیں، مگر قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں اس کی آواز اس کے حجم، آبادی کے پھیلاؤ اور اسٹریٹجک کردار کے مطابق نہیں۔
نشستوں میں اضافے کی تجویز
قرارداد کے مطابق بلوچستان اسمبلی کی نشستوں کی تعداد 65 سے بڑھا کر 85 کرنے اور قومی اسمبلی میں صوبے کی نشستیں 16 سے بڑھا کر 40 کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اراکین کا مؤقف تھا کہ نشستوں میں اضافہ نہ صرف سیاسی شمولیت کو یقینی بنائے گا بلکہ وفاقی ڈھانچے کو بھی مضبوط کرے گا۔
حکومت اور اپوزیشن کی حمایت
ایوان میں حکومتی اور اپوزیشن دونوں بینچوں سے تعلق رکھنے والے اراکین نے قرارداد کی بھرپور حمایت کی۔ بلوچستان اسمبلی میں پاکستان پیپلز پارٹی کے پارلیمانی لیڈر محمد صادق عمرانی نے کہا کہ یہ مطالبہ آئینی، جمہوری اور دیرینہ ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ برابر نمائندگی کے بغیر بلوچستان کے عوام قومی سطح پر اپنے مسائل مؤثر انداز میں اجاگر نہیں کر سکتے۔
آئینی و سیاسی پہلو
سیاسی مبصرین کے مطابق یہ قرارداد وفاقی سطح پر آئینی بحث کو جنم دے سکتی ہے، کیونکہ نشستوں میں ردوبدل کے لیے مردم شماری اور آئینی تقاضوں کو مدنظر رکھنا ضروری ہوگا۔ تاہم بلوچستان کے سیاسی حلقوں کا کہنا ہے کہ وسیع رقبہ، آبادی کا پھیلاؤ اور سیکیورٹی چیلنجز ایسے عوامل ہیں جنہیں نمائندگی کے تعین میں نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بلوچستان اسمبلی نشستوں میں
پڑھیں:
سرکاری ملازمین کے سفری اور تفریقی الاؤنس میں اضافے کی منظوری، نئی شرحیں جاری
کراچی: سندھ حکومت نے سرکاری ملازمین کو مہنگائی کے اثرات سے ریلیف دینے کے لیے سفری الاؤنس اور تفریقی الاؤنس میں اضافے کی منظوری دے دی ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت ہونے والے صوبائی کابینہ کے اجلاس میں اس فیصلے کی منظوری دی گئی، جبکہ نئی شرحوں کا اطلاق یکم جولائی 2026 سے ہوگا۔
صوبائی کابینہ نے سرکاری ملازمین کے لیے ریلیف پیکیج، صحت، تعلیم، بنیادی ڈھانچے، گورننس اور غذائی تحفظ سے متعلق متعدد اہم فیصلوں کی منظوری بھی دی۔
بی پی ایس 1 سے 16 تک ملازمین کے لیے تفریقی الاؤنس
کابینہ نے بی پی ایس 1 سے 16 تک کے ملازمین کے لیے تفریقی الاؤنس 2026 کی منظوری دی ہے۔ یہ الاؤنس منجمد بنیادی پے اسکیل 2022، جو 30 جون 2026 تک نافذ تھا، پر 2 فیصد کی شرح سے ادا کیا جائے گا۔
حکومت کے مطابق اس الاؤنس کا مقصد وہ فرق ختم کرنا ہے جو 2025 میں سندھ حکومت کی جانب سے وفاقی حکومت کے مقابلے میں زیادہ تنخواہوں میں اضافے کے باعث پیدا ہوا تھا۔
سفری الاؤنس میں 50 فیصد اضافہ
سندھ کابینہ نے تمام صوبائی سرکاری ملازمین کے سفری الاؤنس میں 50 فیصد اضافے کی بھی منظوری دی ہے۔ نئی شرحیں درج ذیل ہوں گی:
گریڈ پرانا الاؤنس نیا الاؤنس
بی پی ایس 1 تا 4 1,785 روپے 2,678 روپے
بی پی ایس 5 تا 10 1,932 روپے 2,898 روپے
بی پی ایس 11 تا 15 2,856 روپے 4,284 روپے
بی پی ایس 16 اور اس سے اوپر 5,000 روپے 7,500 روپے
معذور ملازمین کے لیے خصوصی سہولت
کابینہ نے معذور سرکاری ملازمین کے لیے خصوصی سفری الاؤنس میں بھی اضافہ کرتے ہوئے اسے 6 ہزار روپے سے بڑھا کر 10 ہزار روپے ماہانہ کرنے کی منظوری دی ہے۔ یہ رقم معمول کے سفری الاؤنس کے علاوہ ادا کی جائے گی۔
اطلاق کب سے ہوگا؟
حکومت سندھ کے مطابق سفری اور تفریقی الاؤنس سے متعلق تمام منظور شدہ فیصلوں پر یکم جولائی 2026 سے عمل درآمد ہوگا اور یہ موجودہ قواعد و ضوابط کے تحت نافذ رہیں گے۔
دوسری جانب صوبائی کابینہ نے ایگزیکٹو الاؤنس دینے کی تجویز منظور نہیں کی۔ وزیر اطلاعات نے اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ اس تجویز پر فی الحال اتفاق نہیں ہو سکا۔
سندھ حکومت کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کا مقصد بڑھتی مہنگائی کے تناظر میں سرکاری ملازمین کو مالی ریلیف فراہم کرنا اور ان کے سفری اخراجات میں کمی لانا ہے، جبکہ آئندہ بھی ملازمین کی فلاح و بہبود کے لیے اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔