بلوچستان اسمبلی نے جمعہ کے روز متفقہ طور پر ایک اہم قرارداد منظور کر لی، جس میں صوبے کی صوبائی اور قومی اسمبلی کی نشستوں میں اضافے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ قرارداد میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ رقبے کے لحاظ سے ملک کا سب سے بڑا اور اسٹریٹجک اہمیت کا حامل صوبہ ہونے کے باوجود بلوچستان کو قانون ساز اداروں میں مناسب نمائندگی حاصل نہیں۔

قرارداد جمعیت علمائے اسلام (ف) سے تعلق رکھنے والے رکن صوبائی اسمبلی اصغر علی ترین نے پیش کی۔ ایوان سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بلوچستان پاکستان کے تقریباً نصف رقبے پر مشتمل ہے اور جغرافیائی و دفاعی لحاظ سے نہایت اہمیت رکھتا ہے، تاہم اس کے عوام کو کلیدی قانون ساز فورمز میں مکمل نمائندگی حاصل نہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ جمہوریت کی بنیاد منصفانہ نمائندگی ہے۔ بلوچستان نے وفاق کے لیے بے شمار قربانیاں دی ہیں، مگر قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں اس کی آواز اس کے حجم، آبادی کے پھیلاؤ اور اسٹریٹجک کردار کے مطابق نہیں۔

نشستوں میں اضافے کی تجویز

قرارداد کے مطابق بلوچستان اسمبلی کی نشستوں کی تعداد 65 سے بڑھا کر 85 کرنے اور قومی اسمبلی میں صوبے کی نشستیں 16 سے بڑھا کر 40 کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اراکین کا مؤقف تھا کہ نشستوں میں اضافہ نہ صرف سیاسی شمولیت کو یقینی بنائے گا بلکہ وفاقی ڈھانچے کو بھی مضبوط کرے گا۔

حکومت اور اپوزیشن کی حمایت

ایوان میں حکومتی اور اپوزیشن دونوں بینچوں سے تعلق رکھنے والے اراکین نے قرارداد کی بھرپور حمایت کی۔ بلوچستان اسمبلی میں پاکستان پیپلز پارٹی کے پارلیمانی لیڈر محمد صادق عمرانی نے کہا کہ یہ مطالبہ آئینی، جمہوری اور دیرینہ ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ برابر نمائندگی کے بغیر بلوچستان کے عوام قومی سطح پر اپنے مسائل مؤثر انداز میں اجاگر نہیں کر سکتے۔

آئینی و سیاسی پہلو

سیاسی مبصرین کے مطابق یہ قرارداد وفاقی سطح پر آئینی بحث کو جنم دے سکتی ہے، کیونکہ نشستوں میں ردوبدل کے لیے مردم شماری اور آئینی تقاضوں کو مدنظر رکھنا ضروری ہوگا۔ تاہم بلوچستان کے سیاسی حلقوں کا کہنا ہے کہ وسیع رقبہ، آبادی کا پھیلاؤ اور سیکیورٹی چیلنجز ایسے عوامل ہیں جنہیں نمائندگی کے تعین میں نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔

 

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: بلوچستان اسمبلی نشستوں میں

پڑھیں:

سونے کی فی تولہ قیمت میں پھر سے ہزاروں روپے کا اضافہ

عالمی و مقامی مارکیٹوں میں منگل کو سونے اور چاندی کی قیمتوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

عالمی بلین مارکیٹ میں سونا 46 ڈالر کے اضافے سے 4540 ڈالر فی اونس کی سطح پر پہنچ گیا۔

بین الاقوامی مارکیٹ میں سونے کے نرخ میں اضافے کے باعث مقامی سطح پر بھی فی تولہ سونا 4600 روپے کے اضافے سے 4 لاکھ 76 ہزار 362 روپے پر جاپہنچا۔

مزید پڑھیں

سونے کی قیمت میں بڑی کمی، چاندی کے نرخ بڑھ گئے

سونے کی فی تولہ قیمت میں پھر سے ہزاروں روپے کا اضافہ

اسی طرح دس گرام سونے کی قیمت بھی 3944 روپے کے اضافے سے 4 لاکھ 8 ہزار 403 روپے ہوگئی۔

دوسری جانب چاندی کی فی تولہ قیمت 94 روپے کے اضافے سے 8153 روپے ہوگئی۔

متعلقہ مضامین

  • سہیل آفریدی کا 10 جون کو قومی اسمبلی کے سامنے دھرنا دینے اور بجٹ کی منظوری روکنے کا اعلان
  • بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
  • وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دے دی
  • ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ؛ بجلی کی فی یونٹ قیمت میں اضافے کا امکان
  • پاکستان میں سونے کی قیمت میں پھر بڑا اضافہ
  • وفاقی آئینی عدالت: پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار
  • سونے کی فی تولہ قیمت میں پھر سے ہزاروں روپے کا اضافہ
  • مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
  • لاہور: محکمۂ قانون پنجاب نے بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کی تجویز دے دی
  • لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور