وزیراعلیٰ سہیل آفریدی: بانی پی ٹی آئی کی صحت پر سیاست نہیں کرتے، صحافت کو مضبوط کرنے کی حمایت
اشاعت کی تاریخ: 21st, February 2026 GMT
پشاور پریس کلب میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی صحت کے حوالے سے ہم نے پرامن اور ذمہ دارانہ موقف اختیار کیا، جبکہ قابض عناصر نے اس معاملے میں بے حسی کا مظاہرہ کیا۔
وزیراعلیٰ نے واضح کیا کہ اگر ہم اس معاملے پر سیاست کرتے تو رویہ کچھ اور ہوتا، اور انہوں نے فرینڈ آف کورٹ کے اس بیان کا حوالہ بھی دیا کہ بانی پی ٹی آئی کو آنکھ کے مسئلے کا سامنا ہے۔
سہیل آفریدی نے صحافیوں کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ صحافت کو مضبوط اور آزاد رکھنا ضروری ہے، اور وہ ہمیشہ صحافیوں کی مثبت تنقید کا خیرمقدم کرتے ہیں۔ انہوں نے پشاور کے صحافیوں کو مشکل وقت میں حق اور سچ کے ساتھ کھڑے رہنے پر خراجِ تحسین پیش کیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کی کال پر کوئی رکاوٹ نہیں ڈال سکتا، اور وفاقی حکومت ہمارا قرض دینے میں تاخیر کر رہی ہے، اس لیے سب کو مل کر ساتھ دینا ہوگا۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ تیراہ متاثرین کے لیے 4 ارب روپے مختص کیے گئے، جس پر میڈیا بھی متحرک ہوا، لیکن کسی ایک وزیراعلیٰ نے 11 ارب روپے کا طیارہ خریدا اور قوم کا پیسہ ضائع ہوا تو صحافیوں کو بولنا چاہیے۔
تقریب کے آخر میں وزیراعلیٰ نے پشاور پریس کلب کے لیے 15 کروڑ روپے کی گرانٹ کا بھی اعلان کیا، جس سے صحافیوں کے لیے سہولت اور میڈیا کی مضبوطی میں اضافہ ہوگا۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔
فیصلے کے مطابق نیب خیبرپختونخوا اپرکوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔
احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔
فیصلے میں مزید بتایا گیا کہ عدالت نے درخواست منظور کرتے ہوئے ضبط شدہ رقم چیئرمین نیب کے نیشنل بینک آف پاکستان، پی ایم سیکریٹریٹ برانچ اسلام آباد کے اکاؤنٹ میں منتقل کرنے کا حکم دیا ہے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق ضبط شدہ رقم ملزم کی پلی بارگین کے تحت واجب الادا رقم میں ایڈجسٹ کی جائے گی۔