گرین لینڈ کی برف کی تہہ پگھلے ہوئے چٹان کی طرح حرکت کرتی ہے، سائنسدانوں کا انکشاف
اشاعت کی تاریخ: 21st, February 2026 GMT
سائنسدانوں نے دریافت کیا ہے کہ گرین لینڈ کی برفانی تہہ کے اندر بڑے اوپر اٹھنے والے ستون دراصل حرارتی کنوکشن کی وجہ سے بنتے ہیں، جو زمین کی اندرونی پرت یعنی منتل میں پگھلی ہوئی چٹان کی حرکت سے ملتی جلتی ہے۔
یہ حرارت برف کے نیچے کے حصے کو اتنا نرم کر دیتی ہے کہ یہ ستون کی شکل میں اوپر اٹھ سکتے ہیں، حالانکہ برف ابھی بھی ٹھوس رہتی ہے۔
مزید پڑھیں: برف کے نیچے چھپی دنیا آشکار، انٹارکٹیکا کی زمین کے خدوخال سامنے آگئے
ناروے کی یونیورسٹی آف برجن کے مطابق یہ دریافت حیران کن ہے کیونکہ عام طور پر ہم برف کو ایک سخت چیز سمجھتے ہیں، لیکن گرین لینڈ کی برف میں یہ عمل ممکن ہے۔ یہ ایک نایاب قدرتی مظہر ہے۔
تحقیق کے مطابق یہ حرکت زمین کی قدرتی جیو تھرمل حرارت سے پیدا ہوتی ہے، جو ریڈیواکٹو ڈیکے اور زمین کی تشکیل کے باقی ماندہ حرارت سے آتی ہے۔
2014 میں سائنسدانوں نے یہ پراسرار ستون شمالی گرین لینڈ میں دریافت کیے تھے اور تب سے یہ معمہ حل کرنے کی کوشش کی جا رہی تھی۔
یونیورسٹی آف برجن کے ماہر موسمیات اندریاس بورن کا کہنا ہے کہ ہم عام طور پر برف کو مکمل طور پر ٹھوس سمجھتے ہیں، اس لیے یہ جان کر حیرت ہوتی ہے کہ گرین لینڈ کی برفانی تہہ میں حرارتی حرکت، بالکل اُبلتے پانی میں پاستا کی طرح، ممکن ہے۔
مزید پڑھیں: انٹارکٹیکا میں خون کے رنگ کی آبشار، سائنسدانوں نے وجہ بتادی
سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ یہ دریافت انہیں برف کے اندر چھپے عمل کو سمجھنے اور مستقبل میں گرین لینڈ کی برف کے پگھلنے کے اثرات، جیسے سمندر کی سطح میں اضافہ، کا اندازہ لگانے میں مدد دے گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
چٹان حرکت گرین لینڈ برف وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: چٹان حرکت گرین لینڈ برف وی نیوز گرین لینڈ کی برف برف کے
پڑھیں:
اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) اخبار کے مطابق جلی ہوئی گاڑی امینڈولارا نامی گاؤں کے قریب ایک پٹرول پمپ پر ملی، جو کالابریا کے وسیع زرعی علاقے میں واقع ہے۔
اخبار کے مطابق پٹرول پمپ کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج میں دو افراد کو منی وین کے دروازے باہر سے بند کرتے اور اس کے اندر آتش گیر مائع پھینکتے ہوئے دیکھا گیا۔
رپورٹ کے مطابق اس کے بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی اور دونوں مشتبہ افراد موقع سے فرار ہو گئے۔
فائر بریگیڈ نے آگ بجھانے کے بعد گاڑی کے اندر سے چار لاشیں برآمد کیں۔
مقامی پولیس چیف نے اس اطالوی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہ یقینی طور پر قتل کا واقعہ ہے، اب ہمیں صرف اس کی تفصیلات معلوم کرنا ہیں۔
(جاری ہے)
‘‘
اخبار نے مزید لکھا کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران اس علاقے میں پاکستانیوں کی گاڑیوں اور منی وینز کے نذر آتش کیے جانے کے 14 واقعات پیش آ چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق علاقے میں تارکین وطن کے مختلف گروہوں کے درمیان زرعی کام کی تقسیم، رہائشی دستاویزات (ریذیڈنسی پیپرز)، اور رہائش کے مسائل پر کشیدگی پائی جاتی ہے، جسے ممکنہ طور پر اس واقعے کے پس منظر سے جوڑا جا رہا ہے۔
اطالوی حکام اس واقعے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ اکٹھے چار افراد کے اس قتل کے محرکات اور اس کے ذمہ دار افراد کے اس جرم میں کردار کی مکمل طور پر وضاحت ہو سکے۔
ادارت: مقبول ملک