اتر پردیش میں 33 بچوں سے زیادتی کیس: میاں بیوی کو سزائے موت
اشاعت کی تاریخ: 21st, February 2026 GMT
بھارت کی ریاست اتر پردیش کے ضلع باندا میں خصوصی پوکسو عدالت نے 33 کم سن بچوں سے جنسی زیادتی کے لرزہ خیز مقدمے میں میاں بیوی کو سزائے موت سنا دی۔ عدالت نے اس کیس کو ’نایاب ترین جرم‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ملزمان کے جرائم کی نوعیت اس قدر سنگین اور منظم تھی کہ اصلاح کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی۔
یہ بھی پڑھیں:بھارت میں ریپ کے ملزم بی جے پی رہنما کلدیپ سنگھ کو ضمانت ملنے پر احتجاج
اتر پردیش کے ضلع باندا کی خصوصی عدالت نے رام بھاون اور اس کی اہلیہ درگاوَتی کو بچوں کے تحفظ کے قانون (POCSO ایکٹ) کی مختلف دفعات کے تحت مجرم قرار دیتے ہوئے سزائے موت سنائی ہے۔ دونوں پر 33 بچوں، جن میں بعض کی عمر صرف 3 سال تھی، کو جنسی تشدد کا نشانہ بنانے کا الزام ثابت ہوا۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں ریاستی حکومت کو ہدایت کی کہ ہر متاثرہ بچے کو 10 لاکھ روپے بطور معاوضہ ادا کیے جائیں، جبکہ ملزمان کے گھر سے برآمد ہونے والی رقم بھی متاثرین میں برابر تقسیم کی جائے۔
سی بی آئی نے اکتوبر 2020 میں اس کیس کا اندراج کیا تھا۔ تحقیقات کے دوران انکشاف ہوا کہ ملزمان 2010 سے 2020 کے درمیان باندا اور چترکوٹ کے علاقوں میں سرگرم رہے۔ رام بھاون محکمہ آبپاشی میں جونیئر انجینئر تھا اور بچوں کو آن لائن گیمز، تحائف اور رقم کا لالچ دے کر ورغلاتا تھا۔
تحقیقات میں سامنے آیا کہ بعض متاثرہ بچوں کو شدید جسمانی چوٹیں آئیں اور کئی کو طویل عرصے تک اسپتال میں رہنا پڑا، جبکہ متعدد بچے ذہنی صدمے کا شکار ہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ جرم کا پھیلاؤ، درندگی اور منظم طریقہ کار اسے ’ریرسٹ آف دی رئیر‘ بناتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:بھارتی ریاست تریپورہ میں خاتون کی نیم جلی لاش برآمد، الزام بی جے پی رکن اسمبلی کے بھتیجے پر عائد
سی بی آئی حکام کا کہنا ہے کہ بچوں کے جنسی استحصال کے مقدمات کو اولین ترجیح دی جا رہی ہے اور متاثرین کے حقوق کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام جاری رکھا جائے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اتر پردیش بھارت جنسی زیادتی میاں بیوی سزائے موت.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اتر پردیش بھارت جنسی زیادتی میاں بیوی سزائے موت سزائے موت اتر پردیش عدالت نے
پڑھیں:
میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
لندن کے میئر سر صادق خان(sadiq khan) نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کو آن لائن دنیا میں درپیش خطرات اور نقصانات سے بچانے کے لیے یہ ایک ضروری اقدام ہے۔
منگل کو لندن میں انجینئرز، کاروباری شخصیات اور سرمایہ کاروں سے خطاب کے دوران صادق خان نے کہا کہ جس طرح خوراک اور ادویات تیار کرنے والی کمپنیوں کو اپنی مصنوعات کی حفاظت ثابت کرنا پڑتی ہے، اسی طرح سوشل میڈیا کمپنیوں کو بھی اپنے پلیٹ فارمز کے بچوں کے لیے محفوظ ہونے کا ثبوت دینا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ جب تک سوشل میڈیا کمپنیاں اپنے پلیٹ فارمز کی حفاظت ثابت نہیں کرتیں، اس وقت تک کم عمر بچوں کے لیے ان پر پابندی عائد کرنا ہی نقصانات کو روکنے کا مؤثر طریقہ ہے۔
میئر نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ آن لائن مینوسفیئر نامی رجحان نوجوان لڑکوں اور مردوں پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے، جس سے ایک کھوئی ہوئی نسل پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔
یہ مؤقف برطانوی وزیر اعظم سر کیئر اسٹارمر کے مؤقف سے زیادہ سخت سمجھا جا رہا ہے، اگرچہ وزیر اعظم نے بچوں کی آن لائن حفاظت کے لیے اہم اقدامات کا وعدہ کیا ہے، تاہم انہوں نے ابھی تک سوشل میڈیا پر مکمل پابندی کی حمایت نہیں کی۔
برطانوی حکومت نے حال ہی میں بچوں کے آن لائن تحفظ سے متعلق ایک مشاورتی عمل مکمل کیا ہے، جس میں سوشل میڈیا کے لیے کم از کم عمر مقرر کرنے، ایپس کے استعمال کے اوقات محدود کرنے، لا محدود اسکرولنگ اور آٹو پلے جیسی عادت ساز خصوصیات پر پابندی لگانے اور عمر کی تصدیق کے سخت نظام متعارف کرانے جیسے اقدامات پر رائے طلب کی گئی تھی۔
مزید پڑھیں:نیشنل ہیلتھ سروسز کیلئے 22 ارب روپے کا بجٹ مختص، اہم تفصیلات سامنے آگئیں
مشاورت کے نتائج کی بنیاد پر حکومت بچوں کے تحفظ کے لیے آئندہ پالیسی اور قانون سازی کے حوالے سے فیصلے کرے گی۔