پاکستان ہاکی فیڈریشن کے نومنتخب صدر سے انتظامی ٹیم کے وفد کی ملاقات، مختلف امور سے آگاہ کیا
اشاعت کی تاریخ: 21st, February 2026 GMT
اسلام آباد:
پاکستان ہاکی فیڈریشن کے نومنتخب صدر محی الدین احمد وانی سے طاہر زمان کی قیادت میں انتظامی ٹیم کے ایک وفد نے ملاقات کی۔حالیہ مختلف ممالک کے دوروں سمیت ٹیم کی کارکردگی، درپیش چیلنجز اور بعض انتظامی امور سے آگاہ کیا۔
پاکستان ہاکی فیڈریشن کے نومنتخب صدر محی الدین احمد وانی سے کے دوران وفد نے صدر پی ایچ ایف کو قومی ہاکی ٹیم کے حالیہ دوروں جن میں ارجنٹینا، آسٹریلیا اور بنگلہ دیش شامل ہیں،اس حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔
بریفنگ میں ٹیم کی کارکردگی، درپیش چیلنجز اور بعض انتظامی امور میں کوتاہیوں پر روشنی ڈالی گئی۔ اس عمل سے مستقبل کے لائحہ عمل کے لیے اہم نکات اور نئی سمت متعین کرنے میں مدد ملی۔
مزید پڑھیںحکومت نے دورہ آسٹریلیا کے دوران پاکستان ہاکی فیڈریشن کی بدانتظامی کا سخت نوٹس لے لیا
قائمہ کمیٹی اجلاس میں پاکستان ہاکی فیڈریشن پر بحث، اسکروٹنی اور انتخابات پر بریفنگ
صدر پی ایچ ایف نے ٹیم کو ہدایت کی کہ وہ قاہرہ میں ہونے والے ورلڈ کپ کوالیفائر کے جاری دورے کو تسلسل کے ساتھ جاری رکھے۔ تاہم وفد نے درخواست کی کہ انہیں مستقبل کے دوروں میں بہتری اور کھلاڑیوں کی پیشہ ورانہ تربیت و ترقی پر مشتمل ایک جامع رپورٹ تیار کرنے کی اجازت دی جائے۔
صدر محی الدین احمد وانی نے وفد کی درخواست منظور کرتے ہوئے انہیں موجودہ دورے کے ساتھ جانے کے بجائے پاکستان ہاکی فیڈریشن کی رہنمائی کے لیے مفصل رپورٹ تیار کرنے کی اجازت دے دی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: پاکستان ہاکی فیڈریشن
پڑھیں:
وسائل پر قبضے کی جنگ: افغان طالبان میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے
افغانستان کے صوبے بدخشاں میں سونے کی کانوں، غیر قانونی دولت، مسلح گروہوں کے باہمی مفادات اور قدرتی وسائل پر کنٹرول کے تنازع نے طالبان حکومت کے اندر بڑھتے ہوئے اختلافات کو نمایاں کردیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق بدخشاں کی صورتحال طالبان کے سرکاری بیانیے سے مختلف تصویر پیش کرتی ہے، جہاں مختلف دھڑے عوامی فلاح یا حکمرانی کے بجائے سونے کے ذخائر، منشیات سے حاصل ہونے والی آمدنی، غیر قانونی مالی فوائد اور طاقت کے حصول کے لیے ایک دوسرے کے مدمقابل دکھائی دیتے ہیں۔
سونے کے ذخائر پر کشمکش، قندھاری قیادت پر الزاماتبدخشاں میں سونے کی کانوں پر جاری تنازع نے طالبان کے اندر موجود گہرے اختلافات کو نمایاں کر دیا ہے۔
مقامی سطح پر اس بات پر ناراضی پائی جاتی ہے کہ قندھاری طالبان قیادت مبینہ طور پر کانوں، آمدنی کے ذرائع، ریاستی اختیارات اور معاشی فوائد پر اپنا کنٹرول مضبوط کرنے کی کوشش کر رہی ہے، جبکہ مقامی طالبان عناصر کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔
10 ہزار جنگجوؤں کا دعویٰ، انتظامی بیان یا طاقت کا مظاہرہ؟صوبہ زابل کے طالبان نائب گورنر ملا جمعہ خان فتح کی جانب سے 10 ہزار جنگجوؤں پر کمانڈ رکھنے کا دعویٰ بھی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق یہ بیان ایک فعال انتظامیہ کے نمائندے کے بجائے ایسے مسلح دھڑے کے رہنما کا تاثر دیتا ہے جو دولت، اثر و رسوخ اور اختیار کی اندرونی کشمکش میں اپنی طاقت دکھانے کے لیے تیار ہے۔
تحقیقات کا حکم، بدعنوانی کے اعتراف کے مترادف قرارطالبان رہنما کی جانب سے غیر قانونی کان کنی، منشیات کی تجارت اور شہریوں پر مظالم کے الزامات کی تحقیقات کا حکم اس بات کا اعتراف سمجھا جا رہا ہے کہ طالبان نظامِ حکومت کے اندر مجرمانہ مالی مفادات، وسائل کے استحصالی استعمال اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے مسائل موجود ہیں۔
اسلامی انصاف کا دعویٰ سوالات کی زد میںرپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طالبان اقتدار سنبھالنے کے بعد بعض عہدیداروں کی اچانک بڑھتی ہوئی دولت، کانوں پر کنٹرول کے لیے دھڑوں کی کشمکش اور ہزاروں جنگجوؤں تک رسائی کے دعوے طالبان کے ’اسلامی انصاف‘ کے بیانیے کو کمزور کرتے ہیں۔ اس صورتحال کو وسائل کی لوٹ مار، عسکری بدعنوانی اور جنگجو سرداروں کی طرز کی سیاست سے تشبیہ دی گئی ہے۔
بدخشاں طالبان طرز حکمرانی کی عکاس تصویررپورٹ کے مطابق بدخشاں میں سونے کے مافیا، منشیات پر مبنی معیشت، مسلح سرپرستی کے نظام، شہریوں کو دباؤ میں رکھنے کے حربے اور مختلف جنگجو گروہوں کے درمیان مسابقت طالبان حکمرانی کی ایک واضح تصویر پیش کرتی ہے۔
اس صورتحال میں مقامی آبادی استحصال کا سامنا کررہی ہے جبکہ طالبان کے مختلف حلقے وسائل اور اثر و رسوخ کے حصول کی دوڑ میں مصروف ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق طالبان نے اقتدار میں آنے سے قبل نظم و ضبط، احتساب اور بدعنوانی کے خاتمے کے وعدے کیے تھے، تاہم بدخشاں کی صورتحال قندھاری قیادت کے مبینہ اختیارات پر قبضے، اندرونی اختلافات، معدنی وسائل کی لوٹ مار، منشیات سے جڑی بدعنوانی اور مسلح گروہی طرز عمل کو نمایاں کرتی ہے، جس سے یہ تاثر ابھرتا ہے کہ طالبان حکومت ایک مرکزی ریاستی نظام کے بجائے مختلف مسلح نیٹ ورکس کے اتحاد کی صورت اختیار کر چکی ہے جو اقتدار اور وسائل کی تقسیم پر باہمی کشمکش میں مبتلا ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews اختلافات افغان طالبان وسائل پر قبضے کی جنگ وی نیوز