چین میں دنیا کا سب سے طویل آؤٹ ڈور ایسکلیٹر سسٹم متعارف
اشاعت کی تاریخ: 21st, February 2026 GMT
چین کے شہر چونگ کنگ نے اپنی منفرد جغرافیائی ساخت اور پیچیدہ انفراسٹرکچر کے لیے ایک اور عالمی ریکارڈ قائم کر دیا ہے۔ اب یہ شہر دنیا کے سب سے طویل آؤٹ ڈور ایسکلیٹر سسٹم کا گھر بن گیا ہے، جو شہری نقل و حرکت کو تیز اور آسان بنانے میں مددگار ثابت ہوگا۔
یہ نیا انفراسٹرکچر، جسے ووشان گاڈیس ایسکلیٹر کہا جاتا ہے، 21 ایسکلیٹرز، 8 لفٹس، 4 موونگ واک ویز، 2 پیڈسٹرین برج اور 2 اوور پاسز پر مشتمل ہے۔ یہ سسٹم ووشان کاؤنٹی کے گاوٹانگ علاقے میں شن نو ایونیو کے بالائی اور زیریں حصوں کے درمیان سفر کا وقت تقریباً ایک گھنٹے سے کم کر کے صرف 20 منٹ میں لاتا ہے۔
آؤٹ ڈور ایسکلیٹر کے نچلے اور اوپری حصے کے درمیان اونچائی کا فرق تقریباً 242 میٹر ہے، جو کہ ایک 80 منزلہ عمارت کے برابر ہے، اور پورا سسٹم تقریباً ایک کلومیٹر (905 میٹر) تک پھیلا ہوا ہے۔
17 فروری سے یہ ایسکلیٹر عوام کے لیے آزمائشی طور پر کھولا گیا ہے، جس میں فی مسافر کرایہ 3 یوان (تقریباً 0.
یہ جدید آؤٹ ڈور ایسکلیٹر نہ صرف شہریوں کے لیے سفر کو زیادہ مؤثر اور آرام دہ بنائے گا بلکہ چونگ کنگ کے پیچیدہ اور پہاڑی علاقوں میں نقل و حرکت کو بھی آسان کرے گا، جس سے شہر کی روزمرہ زندگی میں سہولت پیدا ہوگی۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
وفاقی کابینہ، ادویات ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم نفاذ کی باقاعدہ منظوری دے دی
اسلام آباد،وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال (mustafa kamal)نے کہا ہے کہ وفاقی کابینہ نے ملک بھر میں ادویات پر ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی باضابطہ منظوری دے دی ہے۔
اس سلسلے میں ڈرگ لیبلنگ اینڈ پیکنگ رولز 1978 میں ضروری ترامیم کی بھی منظوری دے دی گئی ہے۔منگل کو جاری بیان کے مطابق وفاقی وزیرِ صحت نے کہا کہ یہ فیصلہ پاکستان میں جعلی ادویات کے خاتمے کی جانب ایک بڑا اور تاریخی قدم ہے۔
پہلی بار ملک میں ہر دوا کو ڈیجیٹل طریقے سے ٹریک اور ویریفائی کیا جا سکے گا، جس سے جعلی، غیر معیاری اور نقلی ادویات کی مؤثر نشاندہی اور ان کے خاتمے میں مدد ملے گی۔
انہوں نے کہا کہ نئے نظام کے نفاذ کے بعد عام صارفین باآسانی دوا کی میعادِ استعمال، قیمت اور دیگر اہم معلومات کی مستند تصدیق کر سکیں گے، جس سے عوام کا ادویات کے نظام پر اعتماد مزید مضبوط ہوگا۔
مصطفیٰ کمال نے بتایا کہ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان اس جدید نظام کو ملک بھر میں نافذ کرے گی۔ نئے قواعد کے تحت تمام دوا ساز کمپنیوں اور درآمد کنندگان کے لیے لازم ہوگا کہ وہ ہر دوا کے پیک پر معیاری ٹو ڈی بارکوڈ اور سیریلائزیشن ڈیٹا درج کریں۔
وفاقی وزیرِ صحت نے کہا کہ یہ اہم اقدام پاکستان میں ادویات کی سپلائی چین کو محفوظ، شفاف اور معیاری بنانے کے لیے کیا گیا ہے۔
حکومت ادویات کے شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے اور ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ سے جعلی ادویات کے خلاف ایک مضبوط اور مؤثر دیوار قائم ہوگی۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان جدید ٹیکنالوجی کے استعمال میں خطے کے نمایاں ممالک میں شامل ہوگا۔ اس نظام کے ذریعے نگرانی کے روایتی طریقوں کی جگہ جدید ڈیجیٹل نظام لے گاجس سے عوام کی صحت، زندگی اور اعتماد کا مکمل تحفظ یقینی بنایا جا سکے گا۔
مزید پڑھیں:میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
وفاقی وزیرِ صحت کے مطابق ڈریپ کی جانب سے صنعت کو سہولت فراہم کرنے کے لیے جلد تکنیکی رہنما اصول جاری کیے جائیں گے، جبکہ متعلقہ فریقین کے ساتھ مشاورتی اجلاس بھی منعقد کیے جا چکے ہیں تاکہ نظام کے مؤثر اور مرحلہ وار نفاذ کو یقینی بنایا جا سکے۔