پاکستان کے ذمہ قرض اور واجبات کا حجم 138 ارب ڈالر سے بڑھ گیا
اشاعت کی تاریخ: 21st, February 2026 GMT
پاکستان کے ذمہ قرض اور واجبات کا حجم 138 ارب ڈالر سے بڑھ گیا WhatsAppFacebookTwitter 0 21 February, 2026 سب نیوز
اسلام آباد (آئی پی ایس )پاکستان کے ذمہ قرض اور واجبات کا حجم 138 ارب ڈالر سے بڑھ گیا۔اکنامک افئیرزڈویژن کی دستاویز کے مطابق پاکستان کے بیرونی قرضوں پر سود کی ادائیگی میں84 فیصد اضافہ ہوا ہے اور 3 سال میں سود کا حجم بڑھ کر 3.
دستاویز میں کہا گیا ہے کہ 2022 کیمقابلے گزشتہ سال سود کی ادائیگی 1.67 ارب ڈالر بڑھ گئی، سود آئی ایم ایف، عالمی بنک، ایڈی بی اور کمرشل بینکوں کو ادا کیا گیا، سعودی عرب اور چین نے بھی سیف ڈیپازٹس پر سود وصول کیا۔
دستاویز کے مطابق سود سمیت قرضوں کی ادائیگی پر سالانہ 13 ارب 32 کروڑ ڈالرخرچ ہوئے، پاکستان کے نیٹ بیرونی قرضوں میں گزشتہ سال 1.71 ارب ڈالر اضافہ ہوا جبکہ پاکستان نیگزشتہ 3 سال میں 9.73 ارب ڈالرقرض کی رقم واپس کی۔ دستاویز میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان نے گزشتہ مالی سال 10.64 ارب ڈالر کے نئے قرضیسائن کیے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرسپریم کورٹ کے فیصلے پر غصہ، امریکی صدر ٹرمپ نے عالمی ٹیرف 10سے بڑھا کر 15 فیصد کر دیا سپریم کورٹ کے فیصلے پر غصہ، امریکی صدر ٹرمپ نے عالمی ٹیرف 10سے بڑھا کر 15 فیصد کر دیا ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ سپر 8: پاکستان اور نیوزی لینڈ کا میچ بارش کے باعث منسوخ کر دیا گیا امریکا سمیت 58 ممالک کے 61 فیصد شہریوں نے اسرائیلی وزیراعظم کو ناپسندیدہ ترین شخصیت قرار دے دیا شہباز شریف کے دورہ روس پر سفارتی و میڈیا فورم کے انعقاد کا فیصلہ سندھ اسمبلی میں صوبے کی تقسیم یا کراچی علیحدہ کیخلاف قرارداد منظور، ایم کیو ایم کی مخالفت پہلی حج پرواز 19 اپریل کو روانہ ہوگی، تربیتی مرحلہ عید بعد شروع ہوگاCopyright © 2026, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: پاکستان کے ارب ڈالر کا حجم
پڑھیں:
مشرقِ وسطیٰ کشیدگی،عالمی منڈی میں خام تیل 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گیا
امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی، بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں پر حملوں اور مشرقِ وسطیٰ کی غیر یقینی صورتحال کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں بڑا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ برینٹ خام تیل کی قیمت بڑھ کر100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی، جو مئی کے بعد پہلی مرتبہ اس نفسیاتی حد سے اوپر پہنچی ہے۔
عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق جمعرات کے روز برینٹ کروڈ کی قیمت میں 6 فیصد سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سرمایہ کاروں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر خطے میں فوجی کشیدگی مزید بڑھی تو عالمی سطح پر خام تیل کی سپلائی متاثر ہو سکتی ہے، جس کے باعث خریداری میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔
رپورٹس کے مطابق قیمتوں میں اضافے کی ایک بڑی وجہ یمن کے ایران نواز حوثی گروپ کی جانب سے بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں اور آئل ٹینکروں پر حملے ہیں۔ بحیرہ احمر اور باب المندب دنیا کے اہم ترین بحری تجارتی راستوں میں شمار ہوتے ہیں، جہاں سے یورپ، ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کے درمیان بڑی مقدار میں خام تیل اور دیگر تجارتی سامان کی ترسیل کی جاتی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان حملوں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ امریکا حوثیوں کے ساتھ ساتھ ایران کو بھی ذمہ دار سمجھتا ہے، کیونکہ ان کے بقول حوثی تہران کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر بحیرہ احمر میں جہاز رانی پر حملے جاری رہے تو امریکا حوثیوں اور ایران دونوں کے خلاف سخت فوجی کارروائی سے گریز نہیں کرے گا۔
توانائی کے ماہرین کے مطابق اگر خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر برقرار رہتی ہیں تو دنیا بھر میں پیٹرول، ڈیزل، بجلی، ٹرانسپورٹ اور صنعتی پیداواری لاگت میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے، جس سے عالمی مہنگائی کی نئی لہر جنم لے سکتی ہے۔
ماہرین نے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا ہے کہ اگر کشیدگی آبنائے ہرمز تک پھیل گئی، جہاں سے دنیا کی تقریباً 20 فیصد خام تیل کی ترسیل ہوتی ہے، تو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں مزید بلند ہو سکتی ہیں، جس کے اثرات عالمی معیشت، توانائی کی فراہمی اور بین الاقوامی تجارت پر مرتب ہونے کا امکان ہے۔