ایران اپنے دفاع غافل نہیں، کسی معاہدے تک نہ پہنچے تو ضروری اقدامات کے ساتھ تیار ہیں: وزیرخارجہ
اشاعت کی تاریخ: 21st, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہے جوہری معاملے کا واحد حل سفارتی مذاکرات اور سفارتی حل تک پہنچنا ہے، لیکن اگر کسی معاہدے تک نہ پہنچ سکے تو ایران اپنے دفاع میں ضروری اقدامات کرنے کے لیے تیار ہے۔
عالمی خبررساں ادارے کے مطابق امریکی میڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے عباس عراقچی کا کہنا تھا دو سے تین روز میں ممکنہ جوہری معاہدے کا ابتدائی مسودہ تیار کر لیں گے، منظوری ملنے پر یہ دستاویز امریکی خصوصی ایلچی کے حوالے کر دی جائے گی۔
ان کا کہنا ہے کہ مذاکرات میں جوہری افزودگی روکنے کی پیشکش نہیں کی، نہ ہی امریکا نے ایسا کوئی مطالبہ کیا، دونوں ممالک کے مذاکرات کار تیز رفتار معاہدے پر کام کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جوہری معاملے کا کوئی فوجی حل نہیں، جوہری معاملے کا واحد حل سفارتی مذاکرات اور سفارتی حل تک پہنچنا ہے، لیکن اگر کسی معاہدے تک نہ پہنچ سکے تو ایران اپنے دفاع میں ضروری اقدامات کرنے کے لیے تیار ہے۔
عباس عراقچی کا کہنا تھا سفارت کاری اور جنگ دونوں کے لیے ہی تیار ہیں، اگر امریکا نے حملہ کیا تو اس سے صورتحال مزید پیچیدہ ہو جائےگی، امریکی حملہ ناصرف ایران بلکہ پورے خطے اور عالمی برادری کے لیے تباہ کن نتائج کا باعث بن سکتا ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی صدر اور اراکین کانگریس کو پیغام دیا کہ امریکی حکومتیں ایران کے خلاف تقریباً ہر حربہ آزما چکی ہیں، ایران کے خلاف جنگ، پابندیاں یا اسنیپ بیک، کوئی بھی حربہ کامیاب نہیں ہوا۔
ان کا کہنا تھا کہ ایرانی عوام سے احترام کی زبان میں بات کریں گے تو ہم بھی اسی زبان میں جواب دیں گے، آپ ہم سے طاقت کی زبان میں بات کریں گے تو ہم بھی اسی زبان میں جواب دیں گے۔
یاد رہے کہ گزشتہ روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بیان میں کہا تھا ایران پر محدود حملے سے متعلق سوچ رہا ہوں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: عباس عراقچی کا کہنا کے لیے
پڑھیں:
امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی اور مذاکرات سے متعلق غیر یقینی صورتحال کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار رہیں۔
منگل کے روز برینٹ خام تیل 95.04 ڈالر فی بیرل جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) 91.99 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہوا۔ دونوں بینچ مارکس گزشتہ سیشن میں 5 فیصد سے زائد اضافے کے بعد مستحکم رہے۔
سرمایہ کاروں کی توجہ خاص طور پر آبنائے ہرمز کی ممکنہ بحالی اور مشرق وسطیٰ کی کشیدگی پر مرکوز ہے۔ امریکی صدر نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور جلد کسی معاہدے کی امید ہے تاہم ایرانی میڈیا کے مطابق بات چیت میں تعطل بھی سامنے آیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تیل کی قیمتوں میں موجود اتار چڑھاؤ کا دارومدار امریکا-ایران مذاکرات اور خطے کی صورتحال پر ہے۔ دوسری جانب لبنان میں حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان جزوی جنگ بندی کو کشیدگی کم کرنے کی محدود کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔
یاد رہے کہ خلیجی علاقے میں کشیدگی کے باعث تیل اور ایل این جی کی عالمی ترسیل متاثر ہوئی جس سے قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔